1

بھارت کی عالمی شرمندگی

بھارت کو ایک بار پھر عالمی شرمندگی ہوئی ۔ بقول ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے بھارت کو 27 فروری کی طرح ایک اور سرپرائیز مل گیا ۔ مذکورہ تاریخ کو بھی بھارت کا جھوٹ دنیا کے سامنے عیاں ہو گیا تھا اور بھارت کو عالمی سطح پر ذلت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ کلبھوشن یادیو کے کیس میں عالمی عدالت کے فیصلے سے بھارت ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے بے نقاب اور رسوا ہوا ۔ اس فیصلے کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں لیکن اس میں دو نکات بڑے اہم ہیں اور ان نکات کی وجہ سے بھارت دنیا کے سامنے صرف جھوٹا ہی ثابت نہیں بلکہ بے نقاب بھی ہوا ۔ ایک نکتہ یہ ہے کہ دنیا نے دیکھ لیا کہ بھارت کا پاکستان مخالف پروپیگنڈہ سراسر جھوٹ اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے علاوہ کچھ نہیں ۔ بھارت کے اندر یا مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات کے تانے بانے پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی باتوں میں کبھی بھی کوئی حقیقت نہیں رہی ہے بلکہ کلبھوشن کے کیس کے عالمی عدالت کے فیصلے سے واضح ہو گیا کہ دراصل بھارت خود بہت بڑا دہشت گرد ہے ۔ وہ مقبوضہ کشمیر میں کھلی اور ریاستی دہشت گردی کرتا رہا ہے اور آج بھی کر رہا ہے اور بھارتی حکومت ہندو انتہاء پسندوں کی سرعام دہشت گردی کی سرپرستی کرتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ کشمیریوں پر بھارتی فوج ریاستی دہشت گردی کر کے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑتی ہے ۔ اب تو اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو مقبوضہ وادی پر بھارت کے غاصبانہ قبضہ ختم کرانے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کےلئے سامنے آکر اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیئے ۔ دوسرا نکتہ جو نہایت اہم ہے وہ پاکستانی ملٹری کورٹس کا کلبھوشن یادیو کے بارے میں فیصلہ ہے ۔ جس کو بھارت کی لاکھ کوششوں اور پروپیگنڈے کے بوجود عالمی عدالت نے مسترد نہیں کیا ۔ نہ ہی کوئی ایسی قدغن لگائی کہ پاکستان لازمی طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔ عدالت کے تفصیلی فیصلے سے قطع نظر میرے موقف کی مضبوطی کےلئے اتنا کافی ہے کہ عالمی عدالت نے بھارت کی طرف سے کلبھوشن کی رہائی اور پاکستانی ملٹری کورٹ کی طرف سے سنائی گئی سزا کے خاتمے کی اپیل کو یکسر مسترد کر دیا ۔ عالمی عدالت نے تو بھارت کی اس درخواست کو بھی مسترد کر دیا کہ کلبھوشن کو بھارت کے حوالے کیا جائے اور صاف کہہ دیا کہ نہ تو عالمی عدالت پاکستانی فوجی عدالت کی طرف سے سنائی سزا کو کالعدم کر سکتی ہے نہ کلبھوشن یادیو کی رہائی اور بھارت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرتی ہے ۔ یہ بات عیاں ہے کہ کلبھوشن بھارتی شہری اور بھارتی نیوی کا افسر ہے ۔ اور وہ جاسوسی اور بدترین کاروائیوں میں ملوث رہا ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ پاکستان اس کیس پر دوبارہ غور کرنا چاہے تو اس پر دوبارہ غور کرے اور اس صورت میں دوبارہ فیصلہ آنے تک سنائی گئی سزا پر عملدرآمد روک دے ۔ لیکن یہ سب پاکستان کی مرضی اور قانون پر منحصر ہے ۔ بھارت ہمیشہ سے پاکستان میں اپنے جاسوس بھیجتا رہا ہے ۔ اور ان میں اکثریت پاکستان کے حساس ادارے کے ہاتھ چڑھے ہیں ۔ بھارت تو بڑے ٹرینڈ جاسوسوں کو پاکستان بھیجتا ہے لیکن پاکستان کے حساس ادارے کی کارکردگی کی وجہ سے بلا آخر وہ پکڑے جاتے ہیں ۔ پاکستان کے اس اہم ادارے کی شاندار کارکردگی کی وجہ سے بھارت بے بس ہے ۔ 1990ء کے اگست کے مہینے میں خفیہ ادارے نے سربھجیت سنگھ کو گرفتار کیا ۔ یہ جاسوس لاہور،فیصل آباد اور ملتان میں بم دھماکوں میں ملوث تھا ۔ اس کو سزائے موت سنائی گئی ۔ اور 2013ء میں کوٹ لکھپت لاہور میں قیدیوں کے ہاتھوں زخمی ہو کر مر گیا ۔ جس کی لاش بھارت کے حوالے کی گئی ۔ اسی طرح نبی احمدشاکر کے نام سے پاکستان آنیوالا جاسوس بھی گرفتار کیا گیا ۔ اس نے تو پاکستان میں شادی بھی کی تھی ۔ ایک بچہ بھی پیدا ہوا تھا ۔ اس جاسوس کا اصل نام تھیرویندرا تھا ۔ گرفتاری کے سولہ سال کے بعد 2011ء میں جیل میں مرگیا ۔ 2004ء میں رام راج پکڑا گیا ۔ جس کو چھ سال بعد رہا کر دیا گیا ۔ شوکت علی کے نام سے پاکستان میں جوسوسی کے لیئے آنے والا گر بخش رام پاکستان میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد جب واپس بھارت جا رہا تھا تو گرفتار کیا گیا ۔ سرجیت سنگھ نامی جاسوس کو 30 سال قید گزارنے کے بعد 2012ء میں رہا کیا گیا ۔ اسی طرح ایک طویل فہرست ہے ۔ دوسری طرف پاکستان سے غلطی سے سرحد پار کرنے والے یا رشتہ داروں سے ملنے بھارت جانےوالے یا کسی کام کی غرض سے بھارت جانے والے پاکستانیوں میں سے بعض کو بھارت میں گرفتار کیا جاتا ہے اور ان پر جاسوسی کا الزام لگا دیا جاتا ہے ۔ بھارت کا کوئی ایک جھوٹ ہو تو اس پر بات کی جائے ۔ میں نے گزشتہ متعدد کالموں میں تحریر کیا ہے کہ بھارت ایک جھوٹا،فریبی اور مکار دشمن ہے ۔ اس کے مکر و فریب اور چالبازیوں سے ہمہ وقت محتاط اور تیار رہنا چاہیئے ۔ امریکہ افغان امن مذاکرات میں پاکستان کی بہترین خارجہ حکمت عملی کی وجہ سے بھارت کو کان سے پکڑ کر باہر کیا گیا ہے ۔ حالانکہ بھارت نے افغانستان میں نہ صرف بہت سرمایہ کاری کی ہے بلکہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کےلئے افغانستان کو محفوظ اڈے کے طور پر بھی استعمال کرتا رہا ہے ۔ امریکہ کی شہ پر اچھل کود کرنے والے بھارت کو امریکہ نے گھاس بھی نہیں ڈالی ۔ امریکہ اور افغانستان نے امن مذاکرات کی کامیابی کا محور پاکستان کو قرار دیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کا امریکہ کا سرکاری دورہ اور امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے پاکستانی وزیراعظم کو واءٹ ہاءوس میں خصوصی دعوت پر بلانا اسی کامیابی کا غماز ہے ۔ کلبھوشن یادیو کے کیس میں عالمی عدالت میں پاکستانی ماہرین قانون کو بھیجنے اور اس قانونی جیت میں آرمی چیف جنرل باجوہ کی کوششیں قابل تحسین ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں