Home » کالم » سوچ بچار » بھارت کی گیدڑبھبکیاں
soch bichar

بھارت کی گیدڑبھبکیاں

پاکستان ہمیشہ سے ہی انتہاء پسند ہندوؤں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ انتہاء پسند ہندو پاکستان کے خلاف جنگ لڑنے کی گیڈر بھبھکیاں دینا شروع ہو گئے ہیں۔ کچھ روز پہلے بھارتی ایئر چیف مارشل اروپ راہا نے آزاد کشمیر پر میانمار سٹائل حملے کی دھمکی دی تو آج انتہاء پسند ہندو جماعت شیو سینا بھی اپنے بل سے باہر نکل آئی۔ بھارت نے ایٹمی ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی تبدیل کر دی ہے ۔ بھارت پاکستان کو پہلے ایٹمی حملہ نہیں کرنے دے گا۔بھارت پاکستان پر ایٹمی حملے میں پہل کر سکتاہے۔ویپن نارنگ نے گیڈر بھبھکی دیتے ہوئے کہا کہ حملے پاکستان کی تنصیبات پر کیے جا سکتے ہیں۔ برطانوی اخبا ر کے دعویٰ کے مطابق پاکستان نے بھی بھارت پر واضح کردیا ہے کہ حملے کی صورت میں پاکستان جوہری ہتھیار استعمال کرے گا۔ بھارت کے نئے آرمی چیف نے تسلیم کیا ہے کہ کسی بحرانی و اقعے میں ہمسایہ ملک پاکستان پر خفیہ فوجی حملے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ بھارت طویل عرصے سے کولڈ اسٹارٹ منصوبے کی آڑ میں پاکستانی علاقے پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ بھارت دہشت گردی کے واقعے کو پاکستان پر حملے کیلئے جواز بنائے گا۔ اگر بھارت نے ایسی کارروائی کی ہمت کی تو پاکستان اپنے دفاع کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ کولڈ اسٹارٹ کا مطلب عسکریت پسندوں کے حملوں سمیت بحرانی صورت میں بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف فوری حملہ یا کارروائی کرنا ہے۔ اسلام آباد کی تیاری یا بین الاقوامی برادری کی مداخلت سے قبل بھارتی فوج کے پاکستان میں داخل ہونے اور سرحد کے ساتھ پوزیشنوں پر قبضہ کرنے کو بھارت کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائین کا نام دیتا ہے۔ وکی لیکس میں یہ سامنے آیا تھاکہ نئی دہلی میں اس وقت کے امریکی سفیر کی طرف سے جاری ایک 2010 سفارتی کیبل کے مطابق کسی بحرانی یا جوہری خطرے کی صورت میں پاکستانی ریاست کی بقا کو خطرہ پہنچائے بغیر بھارت نے فوری کارروائی کے لئے منصوبہ ڈیزائن کیا ہے۔گزشتہ ستمبر کشمیر میں اوڑی میں بھارتی فوجی اڈے پر حملے کے بعد دونوں جوہری ہتھیاروں سے مسلح ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ بھارت کی طرف پاکستان کے ساتھ سرحد پرسرجیکل اسٹرائیکس کا دعوی سامنے آیا۔اس کے بعد سے معمولی حملے زیادہ تعداد میں ہو چکے ہیں۔بھارت یہ سمجھتا ہے کہ اڑی ،ممبئی اور پارلیمنٹ پرحملے پاکستانی سرزمین سے ہوئے۔ اس ماہ پاکستان نے آبدوز سے پہلا ایٹمی صلاحیت والے میزائل کا تجربہ کیا ہے۔کنگز کالج لندن کے بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرر کا کہنا ہے کہ سرجیکل اسٹرائیک کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ یہ مودی حکومت کی طرف سے پاکستان کے لیے اشارہ ہے کہ کسی بھی دہشت گردی کے واقعے کی صورت میں تمام اختیارات بھارت کی میز پر ہیں۔تاہم، کولڈ اسٹارٹ اگر ہے ،اور ایسا ہوا تو اس سے بیان بازی شروع ہو جائے گی اوردہشت گردانہ حملے کا جواب دینے کی صلاحیت کے بارے میں بھارت کے اندر غیر حقیقی توقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی بھارت کی روایتی ہتھیاروں کی تیاری سے آگاہ ہے، خطرہ یہ ہے کہ کولڈ اسٹارٹ کی دھمکیاں پاکستان کو فوری روایتی ہتھیاروں سے ایٹمی ہتھیاروں تک لے جائیں گی۔بھارت کی طرف سے کولڈ اسٹارٹ استعما ل کرنے کے بارے اسلام آباد میں مغربی سفارتکاروں کوشک ہے۔ایک نے کہا کہ یہ نظریہ زیادہ تر نفسیاتی ہے لیکن ایسا نہیں کہ ہمیں اس صورت حال کے بارے میں فکر نہیں کرنی چاہئے۔بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی ہتھیار ہیں، نصابی کتاب کہتی ہے کہ دو جوہری ریاستیں ایک دوسرے کے خلاف جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی ، لیکن غیر یقینی صورتحال ہمیشہ سے ہے۔بھارت کی جانب سے پاکستا ن کو دی جانے والی گیڈر بھبھکیاں کوئی نئی بات نہیں اس سے قبل بھی بھارت نے کئی چالیں چلنے کی کوشش کی لیکن اسے اپنے منہ کی کھانی پڑی اورپوری دنیا میں اپنا منہ کالا کروایا اور اب بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ بھارت پاکستان پر ایٹمی حملے میں پہل کر سکتاہے۔پاکستان ایٹمی ملک ہے جسکی عسکری صلاحیت سے ہمسایہ ملک بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر ذہنی توازن کھو چکا ہے۔ پاکستان کو پوری دنیا سے الگ کر نے والی مودی سر کاری خود کھڈے لائن لگ چکی ہے ۔ ہماری قومی سلامتی کو غیر ملکی افواج کی پیش قدمی سے خطرہ ہوا تو پاکستان اپنے تمام ہتھیاروں کو استعمال کرے گا ۔ملک کے دفاع کیلئے ہر قسم کاہتھیار استعمال میں لایاجائے گا۔
*****

About Admin

Google Analytics Alternative