asghar-ali 1

بہار تا لندن ۔۔ مودی ان ٹربل !

asghar-ali

آٹھ نومبر کو بہار کے انتخابی تنائج آئے ۔ لگتا ہے کہ مودی کے خلاف مکا فات عمل کا آغاز ہو چکا ہے ۔ موصوف کا زوال اس تیزی سے شروع ہوا ہے جس کی توقع چند روز پہلے تک بھی کسی کو نہیں تھی ۔ایک جانب بہار سے BJP کے ارکان لوک سبھا ” حکم دیو نورائن “ اور ” بھولا سنگھ “ نے مودی اور RSS چیف ” موہن بھاگو “ ت کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کر دی تو دوسری طرف BJP کی سینئر قیادت یعنی ” لعل کرشن ایڈوانی “ ، ” ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی “ ، ” یشونت سنہا “ اور ہماچل پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ” شانتا کمار “ نے باقاعدہ مشترکہ بیان جاری کرتے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ BJP نے دہلی کی ہار سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اسی وجہ سے اسے بہار میں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ فتح کا سہرا تو مودی اور امت شاہ اپنے سر باندھ لیتے ہیں اور شرمناک ہار کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ اس میں کوئی ایک یا دو افراد ذمہ دار نہیں بلکہ یہ ہار پوری BJP قیادت کی ہے اور اس ہار کے ذمہ دار مودی اور امت شاہ خود ہی شکست کے اسباب کا تجزیہ کرنے بیٹھ گئے ہیں حالانکہ کسی بھی اخلاقی ضابطے کے تحت اس صورتحال کے ذمہ دار خود جائزہ لینے یا تجزیہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔
بہار کے لوک سبھا حلقے بیگو سرائے سے رکن لوک سبھا ” بھولا سنگھ “ نے تو یہ بھی کہا ہے کہ ” مودی نے وزارت عظمیٰ کے منصب کی توہین کرتے ہوئے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک جانب سیاسی مخالفین کی بہو بیٹیوں پر تنقید کر کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت دیا ہے ۔ دوسری طرف پاکستان کو بھارت کی داخلی سیاست میں انتخابی مُدّا بنا کر خوامخواہ سفارتی حوالے سے بھارت کو خفت کا سامنا کرایا اور مسلمانان ہند کو اجتماعی طور پر BJP کے خلاف کر دیا جبکہ بہار سے BJP کے رکن ” حکم دیو نارائن “ نے اس ہار کے لئے RSS کے چیف موہن بھاگوت کے اس بیان کو ذمہ دار ٹھہرایا جس میں موصوف نے بہار الیکشن سے عین پہلے نچلی ذات کے ہندوﺅں کو حاصل نوکریوں اور اسمبلیوں میں مخصوص کوٹہ آئینی طور پر ختم کرنے کی بات کی جس سے اچھوت ہندو BJP کے خلاف ہو گئے ۔
ممتاز فلمی ادارکار اور BJP کے رہنما شتر و گھن سنہا المعروف ” بہاری بابو “ اور BJP کے مرکزی جنرل سیکرٹری ” کیلاس وجے ورگی “ نے تو ایک دوسرے کو کتے سے تشبیہ دے دی ۔ اس کی پہل کیلاش وجے ورگی نے کی جن کا تعلق مدھیہ پردیش سے ہے ۔ انہوں نے شترو گھن سنہا پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ ” گاڑی کے نیچے چلنے والا کتا یہ سمجھتا ہے کہ گاڑی اس کے دم سے چل رہی ہے “ ۔ جواب میں شترو گھن سنہا نے ٹوئیٹ کیا کہ ” ہاتھی جائے بہار ۔۔کتے بھونکیں ہزار “ ۔ یوں اس جنونی پارٹی کے رہنماﺅں میں جوتیوں میں دال بانٹنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور بیرونی محاذ پر نیو یارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں بہار میں شکست کے لئے پوری طرح مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ اقلیتوں اور دیگر پسماند ہ طبقات کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی کے سر پرست ہیں ۔ اسی طرح برطانوی اخبارات ” دی گارڈین “ ، ” ڈیلی ٹیلی گراف “ وغیرہ نے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ بارہ نومبر سے شروع ہونے والا مودی کا دورہ لندن بہار کی ہار سے بری طرح متاثر ہو گا اور بھارت کی نام نہاد ترقی کے دعوے اور مودی کی کرشماتی قیادت کا امیج گہنا کر رہ جائے گا ۔
عام مبصرین نے بھی کہا ہے کہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مودی کی غیر انسانی پالیسیوں کی وجہ سے قانون فطرت ان کے خلاف حرکت میں آ چکا ہے اور ا ن کے حوالے سے مکا فات عمل کا آغاز ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ان کے گرد گھیرہ تنگ ہونا شروع ہو گیا ہے اور اس کے نتائج نہ صرف مودی کے لئے بھیانک ثابت ہوں گے اور دورہ برطانیہ میں ان کے خلاف سخت احتجاج ہو گا بلکہ مجموعی طور پر بھارت کی ساکھ بھی متاثر ہو گی ۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مودی سرکار کی پالیسیوں کے خلاف بھارتی فوج کے ریٹائرڈ افسروں اور جوانوں نے اپنی پنشن کے حوالے سے ایوارڈ واپسی کی مہم شروع کر دی ہے ۔ اسطرح اس امر کا حقیقی خدشہ ہے کہ انڈین آرمی کا مورال بھی متاثر ہو گا ۔ یوں مودی کے اچھے دن غالباً گزر چکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں