Home » کالم » بیرونی ایجنسیوں کی تخریب کاری اور میڈیا (1)
rana-biqi

بیرونی ایجنسیوں کی تخریب کاری اور میڈیا (1)

rana-biqi

حسین حقانی میمو گیٹ اور پرویز رشید ڈان لیکس کے حوالے سے پاکستان میں بیرونی ایجنسیوں کی تخریب کاری اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ قومی سلامتی کے حوالے سے تحقیقات کے دوران اِن دونوں شخصیتوں کا بل ترتیب اہم عہدوں سے علیحدہ کئے جانے یا ازخود اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جانے کے باوجود یہ دونوں شخصیتیں بدستور پاکستانی قومی اداروں کے خلاف متحرک ہیں جو انتہائی حیران کن اَمر ہے۔ حسین حقانی بظاہر امریکی سی آئی اے اور بھارتی را کے حمایت یافتہ تھنک ٹینکس کی مدد سے واشنگٹن میں بیٹھ کر پاکستان کو ٹارگٹ بنائے ہوئے ہے جبکہ پرویز رشید سابق نااہل وزیراعظم کے زیر سایہ ڈان لیکس کی فکر کو آج بھی مہمیز دینے میں مصروف ہیں۔ درحقیقت ، نائین الیون کے بعد مسلم ممالک کے خلاف مغربی ممالک کے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے بیرونی خفیہ ایجنسیاں میڈیا میں دوستانہ صحافتی حلقوں کی مدد سے نہ صرف تخریب کاری پھیلانے کیلئے ڈِس انفارمیشن کو حربے کے طور پر استعمال کرنے میں پیش پیش ہیں بلکہ ٹارگٹ ملکوں بشمول پاکستان میں اندرونی خلفشار پیدا کرکے ہم خیال اتحادی ملکوں کی مدد سے جن میں بھارت پیش پیش ہے، خطے میں مغرب کی سیاسی بالا دستی قائم کرنا اِسی اہم مشن کا حصہ ہے۔ نائین الیون کی دہشت گردی کے المناک واقعات جس کے پس پردہ محرکات اور ذمہ داران کا تعین آج بھی بے یقینی کی دھند میں چھپا ہے ، کے بعد مغرب میں اسلامی تہذیب و تمدن کو جس بہیمانہ طریقے سے تہذیبی ٹکراؤ کا نشانہ بنایا گیا ہے ، وہ یقیناًقابل مذمت ہے ۔ مغربی ممالک کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئیے کہ تمام ہی اسلامی ممالک کسی بھی نوعیت کی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ اگر بفرض محال یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ نائین الیون کی دہشت گردی کے پیچھے القاعدہ یا طالبان قوتیں کارفرما تھیں تب بھی محض چندانتہا پسند گروپوں کی دہشت پسندانہ کاروائیوں کی آڑ میں مغرب کی جانب سے سیاسی اور معاشی دباؤ کے حربے استعمال کرتے ہوئے اسلامی میانہ روی کے حامل تمام اسلامی ملکوں کے تمدن کو مطعون کرنا کسی طور احسن اقدام نہیں ہے ۔

بہرحال مغربی ملکوں میں نائن الیون کی دہشت گردی کی آڑ میں اسلام کے خلاف نہ ختم ہونے والی ہرزہ سرائی کی مہم سے اِس اَمر کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک دنیا بھر میں اسلامی تمدن کی بڑھتی ہوئی پزیرائی سے ناخوش ہیں ۔ ماضی میں اِسی فکر کا اظہار عربوں کی حمایت سے سلطنت عثمانیہ کی تباہی کو ممکن بنانے اور عرب ملکوں پر قبضے کے بعد 1917 میں برطانوی وزیر خارجہ کی جانب سے عربوں کو آزادی دینے کے بجائے فلسطین کو یہودیوں کا قومی گھر بنانے کا اعلان بلفور بھی اِسی فکر کا حصہ ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے اِس دور سے ذرا آگے بڑھتے ہیں تو اِسّی کی دھائی میں جہاد افغانستان کی مدد سے روسی سوویت یونین کے ٹوٹنے پر بل خصوص امریکی حمایت یافتہ یہودی لابی نے ہی اسلامی جہادی فکر کو افغانستان میں عالم تنہائی میں چھوڑ کر مغربی دنیا کیلئے خطرہ سمجھنا شروع کر دیا چنانچہ مغربی میڈیا پر یہودی بالادستی کے باعث اسلامی دنیا کے خلاف یہ منظم پروپیگنڈہ آج تک جاری و ساری ہے ۔ اِس تحریک کو مزید مہمیز دینے کیلئے امریکا میں یہودی لابی کے زیر اثر مغرب کے کچھ مفکرین نے اپنے تحقیقی مقالوں کے ذریعے تواتر سے اسلامی تہذیب کے اقتصادی اور معاشرتی نظام کو مغربی سرمایہ دارانہ نظام کیلئے بڑی رکاوٹ گردانتے ہوئے مستقبل کی تہذیبی کشمکش کو مغربی فکر و نظر کا حصہ بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا ۔ اِن مفکرین میں 1918 میں شائع ہونے ہونے والی کتاب ” مغرب کا زوال ” کے مصنف اَسوالڈ سیپنگلر، 1990 میں شائع ہونے والے مقالے ” مسلم برہمی کی جڑیں ” کے مصنف برنارڈ لیوس اور 1993 میں شائع ہونے والی کتاب ” تہذیبوں کا ٹکراؤ ” کے مصنف سیموئل ہٹینگٹن شامل ہیں۔ حیرت ہے کہ علمی قابلیت اور وسائل ہونے کے باوجود اسلامی تہذیب کے خلاف منظم مغربی پراپیگنڈے کا موثر جواب دینے کے بجائے مسلم ممالک کے بیشتر سیاسی و میڈیا دانشور مغربی ملکوں کے سامنے معذرت آمیز رویہ اختیار کرنے پر ہی اکتفا کرتے رہے ہیں؟

نائن الیون کے بعد دہشت گردی سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پانے کیلئے اقوام متحدہ کے چارٹر کو پیش نظر رکھتے ہوئے معدودے چند دہشت گرد تنظیموں کے گرد دائرہ تنگ کرنے اور دہشت گردی سے متعلقہ مسائل کو بخوبی حل کرنے کے بجائے مخصوص مفادات کی تابع مغربی طاقتوں نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بیشتر اسلامی ممالک بل خصوص عراق ، ایران ، افغانستان اور پاکستان میں تہذیبوں کے تصادم کی فکر کو غیر ضروری طور پر مہمیز دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کو نہ صرف غیر محسوس طریقے سے تبدیل کرکے سامراجی مقاصد کیلئے استعمال کیا بلکہ طاقت کے بل بوتے پر دیدہ دلیری سے آزاد اسلامی ملکوں کے اقتدار اعلیٰ اور خود مختاری میں بھی بے دریغ دراندازی کی گئی ہے ۔ عراق اور افغانستان پر امریکہ ، برطانیہ اور نیٹو کے غاصبانہ قبضے کیلئے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا اُس میں بیرونی ایجنسیوں کی تخریب کاری اور مقامی صحافیوں کی پیلی صحافت سر فہرست نظر آتی ہے ۔ اِسی حوالے سے مسلم ممالک میں فوجی تربیت یافتہ بیرونی کنٹریکٹ سیکیورٹی ایجنسیوں کے ایجنٹوں بل خصوص بلیک واٹر کی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ تہذیبوں کے تصادم کی مغربی فکر اور اسلامی ممالک کے خلاف مغرب کے جارہانہ عزائم کو دھند کی دیوار میں چھپانے کیلئے مغربی میڈیا جس پر یہودی لابی کا بھرپور کنٹرول ہے، نے ماضی میں ڈِش انفارمیشن پراپیگنڈہ کے ذریعے دنیا کو یقین دلایا تھا کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیارموجود ہیں جنہیں جمہوری دنیا اور مغرب کی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ سمجھا گیا تھا لیکن کیا عراق میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری کا کھیل کھیلنے کے باوجود ایسے کسی مہلک ہتھیار کی موجودگی نہیں پائی گئی کیونکہ عراق پر قبضے کے بعد بھی ایسا کوئی ہتھیار نہیں ملا۔
سامراجی ممالک بل خصوص امریکہ اور برطانیہ جمہوریت کے علم بردار ہونے کے باوجود ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ کیا ایسا مغرب کے مخصوص مفادات کے پیش نظر گیس ، تیل و دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال اسلامی ممالک کے قدرتی وسائل کو اپنے قبضہء قدرت میں رکھنے کیلئے کیا جاتا ہے کیونکہ مغربی ممالک اسلامی فکر کے احیاء کو مغربی سیکولر کلچر کیلئے سم قاتل سمجھتے ہیں ؟ اِس کا جواب ماضی میں امریکہ نے سرد جنگ سے جان چھڑانے کیلئے کیمونسٹ روس کی مکران کوسٹ کے گرم پانیوں تک مجوزہ آمد کو اسلامی ممالک کی سلامتی اور مغرب کے مخصوص مفادات جن میں مشرق وسطیٰ کے تیل کے ذخائر شامل تھے کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے افغان جہاد کو مہمیز دیکر سویت یونین کے ٹوٹنے کی شکل میں پا لیا تھا ۔ چنانچہ سرد جنگ کے خاتمے پر مغربی عزائم پورے ہو نے پر مغرب نے جہادی قوتوں کی پشت سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا کیونکہ اسلامی فکر کے احیاء کے سامنے مغربی فکر کے روندے جانے کے خدشات کے پیش نظر مغرب نے نہ صرف اتحادی جہادیوں کو دہشت گرد بنانے میں دیر نہیں لگائی بلکہ کل تک سوویت یونین کے حمایتی بھارت کو بھی اپنا دفاعی اتحادی بنانے سے گریز نہیں کیا ۔ اِسی تناظر میں یہ اَمر حیران کن ہے کہ چند پاکستانی سنیئر صحافی اور اینکر حالات کی بہتری کیلئے کام کرنے کے بجائے اپنے مضامین ، ٹاک شوز اور عوامی بات چیت کے فورمز میں بلوچستان کی پاکستان میں شمولیت کے حوالے سے بھی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں ۔
(۔۔۔۔۔۔جاری ہے)

About Admin

Google Analytics Alternative