Home » کالم » بیرون ملک پیسے کی منتقلی میکانزم بنانے کی ضرورت
adaria

بیرون ملک پیسے کی منتقلی میکانزم بنانے کی ضرورت

adaria

عدالت عظمیٰ نے پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیدادوں اور بینک اکاؤنٹس سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں ریمارکس دئیے ہیں کہ لوٹے ہوئے اربوں روپے سوئٹزرلینڈ، دبئی سے واپس لانے ہونگے پیسے کی بیرون ملک منتقلی روکنا اصل مقصد ہے۔ وائٹ کالر کرائم خاتمہ کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور ہونا چاہیے، قانونی رکاوٹیں دور کرنے کا راستہ نکالنا پڑے گا جن لوگوں نے غیر ملکی اکاؤنٹس ظاہر نہیں کیے انہیں پتہ چلنا چاہیے، عرب امارات میں 4221 لوگوں کے اثاثے اور اکاؤنٹس ہیں، کرپشن ٹیکس چوری کا پیسہ یورپ امریکہ اور کینڈیا لے جایا گیا اس کیلئے میکانزم بنانے کی ضرورت ہے ۔ چیف جسٹس نے درست فرمایا بدعنوانی کرکے بیرون ملک لے جایا گیا پیسہ واپس لانے کیلئے کوئی نہ کوئی راستہ نکالنا ہوگا ۔ کرپشن نے ملک کو دیوالیہ کررکھا ہے ، زمام اقتدار پر براجماں اشرافیہ ذاتی مفاد حاصل کرتی رہی اور ملک مسائل کی دلدل میں پھنستا گیا اور ہمیں بیرونی قرضوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے کرپشن ترقی و خوشحالی کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے ایسا میکانزم بنانے کی ازحد ضرورت ہے جو کرپشن کی روک تھام کیلئے سود مند قرار پائے جب تک کرپشن کو نہیں روکا جاتا اس وقت تک ملک ترقی ناممکن ہے۔ بیرون ملک پیسے کی منتقلی کی تحقیقات کرکے ایسے افراد کیخلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے ، اربوں روپے اس وقت سوئٹزر لینڈ اوردبئی میں پڑے ہیں جن کی واپسی ضروری ہے چیف جسٹس اس وقت ایک طرف عوامی حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں تو دوسری طرف فوری انصاف کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں ، ریاست اپنی ذمہ داری کو پورا کرتی تو چیف جسٹس کو ازخو دنوٹس نہ لینے پڑتے صد افسوس کہ سابق حکومت نے اپنے فرائض سے طوطا چشمی برتی اور ملک مسائل کا شکار ہوکر رہ گیا ،عوام کا معیار زندگی بلند کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن ایسا نہ ہو پایا عوام کا معیار زندگی آئے دن روبہ تنزل ہوتا چلا گیا امن و امان کی صورتحال سوالیہ نشان بنی رہی ۔ تعلیم و صحت کے مسائل لوگوں کا مقدر ٹھہرے مہنگائی اور بیروزگاری کا خاتمہ نہ ہو پایا حکمرانوں نے قومی خزانے کو لوٹا اور قومی مفادات کو نقصان پہنچایا عوام کو صرف سبز باغ دکھائے جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے ۔ پاکستان جس نظریہ کے تناظر میں قائم ہوا آج سوالیہ نشان بنتا جارہا ہے۔70 سال گزر جانے کے بعد بھی فلاحی اسلامی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ چیف جسٹس قومی مفاد اور عوامی حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں عوام کی نظریں بھی عدالت عظمیٰ پر لگی ہوئی ہیں لوگ صاف پانی ، بجلی ، گیس کو ترس رہے ہیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں خود ساختہ گرانی ہے حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں سے ہر ادارہ مسائل زدہ ہوکر رہ گیا ہے ، سماجی انصاف کے فقدان نے عوام کو مایوس کردیا تھا لیکن عدالت عظمیٰ کے ازخودنوٹس کیسوں میں عوام کی مایوسی نے دم توڑا اور انصاف دکھائی دینے لگا ۔ پیسے کی بیرون ملک منتقلی کو روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے وائٹ کالر کرائم کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور ہونا چاہیے اور قانونی رکاوٹیں دور کرکے ایسا راستہ نکالناہوگا جس کے ذریعے اربوں روپے واپس لائے جاسکیں ، بیرون ملک اربوں روپے کی منتقلی لمحہ فکریہ ہے۔ چیف جسٹس اس پیسے کو واپس لانے کیلئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں ۔ قومی خزانہ اس پیسے کا منتظر ہے ، پیسے کی بیرون ملک منتقلی کو روکنے کی ضرورت ہے یہی حب الوطنی کا تقاضا ہے۔
بلا تفریق احتساب وقت کی ضرورت
چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کوئٹہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیورو کریسی کو یقین دلاتا ہوں کہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جائے گا جس سے آپ کی تذلیل ہو تاہم بیورو کریسی اس بات کا خیال رکھے کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نہ بنیں ۔ احتساب ہوگا تو سب کا ہوگا ورنہ نہیں ہوگا اب احتساب پٹواری سے نہیں اوپر سے شروع ہوگا ۔ احتساب کے عمل کو احسن طریقے سے مکمل کریں گے ۔ شاہانہ انداز ملک اور عوام کی بربادی کا سبب بنیں گے تاہم اب احتساب بلاتفریق اور سب کاہوگا کرپشن ختم کرنے کے عمل کو احسن طریقے سے انجام تک پہنچائیں گے اب کوئی انتقامی کارروائی نہیں کررہا جس کے پاس مکان نہ تھا اس کے بیرون ملک ٹاور ہیں اس کا پوچھنا انتقام کیسے ہوگا ۔ 50 لاکھ کا کام کروڑ میں کیوں ہوا پوچھنا گستاخی کیوں کرپشن دیمک نہیں کینسر ہے۔ چیئرمین نیب نے جس عزم کا اعادہ کیا ہے وہ وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے کرپشن نے اس ملک کو دیمک کی طرح چاٹا ہے اور اب یہ کینسر میں بدلتی جارہی ہے جو نقصان دہ ہے۔ بلا امتیاز احتساب کے ذریعے ہی کرپشن کے ناسور کو روکا جاسکتا ہے اس وقت اس ناسور نے ہر ادارے میں اپنی جڑیں پھیلا رکھی ہیں اور یہ ملکی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے بلا امتیاز تفریق احتساب عمل ہی ملک سے کرپشن کی روک تھام کو ممکن بنا سکتا ہے کرپٹ مافیا کیخلاف قانونی شکنجہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں بھی احتساب احتساب کے نعرے لگائے گئے اور نتیجہ صفر رہا اب ایسا نہیں ہونا چاہیے احتساب کا عمل تیز کرکے لوٹی گئی رقم کا حساب لینا ہی انصاف قرار پائے گا ۔ اشرافیہ نے جس بیدردی سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا اس کو دیکھ کر رونا آتا ہے اب وقت آگیا ہے کہ بدعنوانی کے مرتکب عناصر کا گھیرا تنگ کرکے ان کیخلاف سخت انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے بلا تفریق احتساب وقت کی پکار ہے امید ہے کہ چیئرمین نیب اپنے عزم کو بلند رکھتے ہوئے ملک و قوم کے مفاد کیلئے بلا تفریق احتساب کرنے میں کامیاب قرار پائیں گے ، قوم کی یہی آواز ہے احتساب احتساب سب کا احتساب قومی خزانے کو لوٹنے والے کسی رورعایت کے مستحق نہیں ان کیخلاف کارروائی ہی انصاف ہے۔
دہشت گردوں کو شکست دینے کا عسکری عزم
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہارون بلور کی شہادت پر تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم رکنے والے نہیں دہشت گردوں کو شکست دیں گے ، دشمن قوتوں کے گٹھ جوڑ سے لڑ رہے ہیں جنہیں پرامن پاکستان ہضم نہیں ہورہا پرامن مستحکم پاکستان کیلئے کوشاں ہیں۔ آرمی چیف نے بجا فرمایا اس وقت دشمن قوتیں پاکستان کیخلاف سازشیں کررہی ہیں اور دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے درپہ ہیں لیکن یہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونگی کیونکہ پاک فوج دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے اور اس کو بھرپور عوامی حمایت حاصل ہے ، سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ایک پیج پر ہے ۔ دہشت گرد ملک و قوم کے دشمن ہیں ان کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے جاری آپریشنز میں تیزی لانے کی ضرورت ہے ۔ دہشت گردی کیخلاف پاک فوج کی قربانیاں لائق تحسین ہیں ۔ دہشت گرد عبرت کا نشان بنیں گے پشاور کا واقعہ ایک بزدلانہ کارروائی ہے اس طرح کی کارروائی کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا۔ آرمی چیف کا عزم اس امر کا عکاس ہے کہ دہشت گرد اپنے منطقشی انجام کو پہنچ کر رہیں گے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative