Home » کالم » ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ اس صدی کا عظیم منصوبہ ہیق

’بیلٹ اینڈ روڈ‘ اس صدی کا عظیم منصوبہ ہیق

چینی صدر شی جین پنگ کا کہنا ہے کہ ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ منصوبے میں شامل تمام فریق مضبوط باہمی تعاون کے ذریعے اپنے ممالک میں خوش حالی لا سکتے ہیں۔بیلٹ اینڈ روڈ اس صدی کا سب سے عظیم منصوبہ ہے اور اس میں شامل تمام ممالک، باہمی تعاون، منفعت اور مشاورت سے اسے کامیاب بنا سکتے ہیں۔ اس منصوبے کی کامیابی اس میں شامل تمام فریقین کی کامیابی ہوگی اور یہ خطے میں امن و بھائی چارے کے ساتھ ساتھ معاشی اور سیاسی استحکام کا ضامن ہوگا۔2013 کے اواخر میں صدر شی جین پنگ نے اپنے دورہ قازقستان اور پھر دورہ انڈونیشیا کے دوران بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اعلان کیا تھا اور رواں سال کے اوائل تک، محض 5 سال کے قلیل عرصے میں دنیا بھر کے 100 سے زیادہ ممالک اس منصوبے کا حصہ بن چکے ہیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت قدیم سلک روٹ یا شاہراہ ریشم کو دوبارہ زندہ کرنا اور راستے میں آنے والی بندرگاہوں، شاہراہوں اور ریل کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا شامل ہے تاکہ چین کو ایشیا، یورپ اور افریقہ سے جوڑا جا سکے۔پاکستان کا کہنا ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ درحقیقت انسانیت کیلئے نئے دور کا آغاز ہے جس کے ذریعے غربت اورپسماندگی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ ون بیلٹ ون روڈ کے تحت ہمارے پاس تعلقات کو مستحکم کرنے ، تعاون کو مضبوط بنانے اور اب تک کی اپنی ترقی کا جائزہ لینے کا بہترین موقع ہے ۔ خطے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو باہمی کاوشوں ، متواترجائزے اور تعاون کی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ آج جیسے ہی ہم مل بیٹھے ہیں دنیا کی معیشت میں بہتری کے پہلے آثار نمودار ہونے لگے ہیں جبکہ عالمی تجارت کی بہتری کے بھی ٹھوس شواہد موجود ہیں ۔گوادر کی تعمیر و ترقی تیزی سے جاری ہے، گوادر کی بندرگاہ مشرق مغرب اورجنوبی ایشیا کو آپس میں جوڑے گی اور اس کے ذریعے افریقی اور یورپی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی۔ ہم نے مختصر وقت میں سی پیک کے تحت منصوبوں پر کام کیا۔یہ منصوبہ نئی سپلائی اور مواصلاتی زنجیر تخلیق کرے گا اور بہت جلد گوادر وسیع مواقع کا شہر بن جائے گا۔ یہ منصوبہ غریب ملکوں کو امیر ممالک کے ساتھ جوڑے گا۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ آدھی دنیا کے معیشتوں کیلئے کشش کا باعث ہے۔ یہ منصوبہ تعاون بڑھانے کے مواقع تلاش کرنے کا بہترین موقع ہے تاہم اس منصوبے کے علاوہ بھی ممالک اور اقوام کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے چینی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے اب ہم سب دہشتگردی ، پناہ گزینوں کی نقل و حرکت ، لوگوں کی ہجرت ، فوڈ سیکیورٹی اور پانی کی کمی جیسے موجودہ اور آنے والے خطرات کے بارے فکر مند ہیں تاہم میں پرامید ہوں کہ ون بیلٹ و ن روڈ کی تکمیل سے ہم ان خطرات پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پہلے ہمیں ون بیلٹ ون روڈ کیلئے اتفاق پیدا کرنا ہے اور پھر ترقی اور عملدرآمد کیلئے تعاون کو فروغ دینا ہے جبکہ تیسرے مرحلے پر ہمیں طویل مدتی تعاون کیلئے ایک روڈ میپ تیار کرنا ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ کا بیلٹ اور روڈ ا قدام نہ صرف مستقبل کا آئینہ دار ہے بلکہ یہ ایک تاریخ ساز اقدام ہے۔ شی جن پنگ کا بیلٹ اور روڈ کا اقدام منفرد حیثیت رکھتا ہے اور چینی صدر شی جن پنگ نے بیلٹ اور روڈ کے جرات مندانہ اقدام کے ذریعے محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھی ہے ان کا ویژن خطے میں دیرپا امن، استحکام اور معاشی مضبوطی لائے گا۔ یہ شاندار اقدام لوگوں کو بااختیار بناکر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ناسور پر قابو پانے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد میں بیلٹ اینڈ روڈ کی شمولیت اس اقدام کی عظیم تر عالمی اونر شپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے عظیم ویژن کی توثیق اور ان کی سیاسی بصیرت کی عکاس ہے۔ بیلٹ اور روڈ کے تحت نئی سلک روڈز کی بحالی نے امید اور روشنی کے نئے دور کی بنیاد رکھی ہے۔ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ پراجیکٹ سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان اٹھا رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس نے پاکستان کو دنیا بھر میں سفارتی طور پر تنہا کردیا ہے لیکن اس فورم میں پاکستان 65 ممالک کے ساتھ کھڑا نظر آ رہا ہے جبکہ بھارت تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ اس فورم نے پاکستان کے تنہا ہونے کے خیال کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ چینی صدر شی چن پنگ نے سلک روڈ منصوبے کیلئے اضافی 15 بلین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد یہ منصوبہ 125 بلین ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ یہ دنیا میں جاری سب سے بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے اور پاکستان اس کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک ہے کیونکہ سی پیک کے بغیر شی چن پنگ کے ویژن کی تکمیل ناممکن ہے۔یہ بات خوش آئند ہے کہ چین میں جاری فورم میں پاکستان نے بھرپور شرکت کی اور ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار ماحول میں وقت گزارا۔ بیجنگ میں نیا پاکستان بنتا دیکھ رہے ہیں جہاں تمام جماعتیں سیاسی اختلافات بھلا کر ملکی ترقی کیلئے ایک ساتھ کھڑی نظر آ رہی ہیں۔ ایم ایل ون ریلوے لائن کا فریم ورک معاہدہ طے پاگیا ہے جبکہ گوادر ایکسپریس وے پر 19 کلومیٹر طویل موٹروے کیلئے گرانٹ جاری کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative