Home » کالم » بیگم کلثوم نوازبنام میڈیاوسیاستدان

بیگم کلثوم نوازبنام میڈیاوسیاستدان

میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب مجھے ایک نہیں کئی پیغام ملے کہ بیگم کلثوم نواز کی وفات کی خبر سچ نہیں بلکہ جھوٹ ہے اور میاں نوازشریف کو ملک سے محفوظ راہ فراردینے کا ایک بہانہ ہے۔میں نے ان سے سوال کیا کہ اگر نوازشریف کو ملک سے فرارہی ہونا ہوتا تو ملک میں واپس ہی کیوں آتا؟مجھے اس وقت حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا جب میرے ایک’’ پی ایچ ڈی‘‘ سکالر دوست بھی اپنی اس تحقیق کے دام میں ڈھیرنظر آئے شایدان کی تحقیق بھی نام کی طرح عمرانی ہے ۔ایسا ہی کچھ نظارہ اپنے ایک ’’عالم دین‘‘ دوست کی زبانی سننے کو ملاجن کی دعویٰ ہے کہ وہ صرف نام ہی کے امیر نہیں ہے۔انسانیت کی قدر پر موصوف لیکچربھی دیتے ہیں اورعوام سے خوب ’’داد‘‘بھی وصول کرتے ہیں۔بحیثیت انسان ایسے رویے پر صرف افسوس ہی کیاجاسکتا تھا سوجی بھر کر کیااوریہ بھی سوچاکہ کیا اب ہمارے ملک میں مرنے کے بعد بھی نفرت سہنابند نہیں ہوگا؟یہی کچھ سوچتاہواسوگیاتوخواب میں ان سے ملاقات ہوگئی اورکہنے لگیں کہ میری طرف سے یہ خط میڈیااورسیاست کے کچھ لوگوں تک پہچا دیں۔’’میں کلثوم نواز آپ سے مخاطب ہوں ۔میں اگلے جہاں آگئی ہوں اورمیرے بعد عنقریب آپ بھی آنے والے ہیں۔جب آپ آئیں گے توشکوے شکایتیں یہیں ہوجائیں گی فی الحال میں آپ کی خدمت میں کچھ گزارشات کرنا چاہتی ہوں ۔آپ لوگوں کو یادہوگا کہ جب میں بیمارہوئی اورعلاج کے لیے انگلینڈ جانے لگی تو آپ میڈیا والوں (سب نے نہیں لیکن کچھ) نے بھونچال کھڑاکردیا کہ میں بیمارنہیں ہوں بلکہ میری بیماری کا بہانہ بناکر نواز شریف ملک سے فرارہوناچاہتے ہیں ۔میں بیمارتھی اورمجھے آپ لوگوں کی تسلی اوردعاؤں کی ضرورت تھی کیونکہ تسلی اوردلاسے مریض کی ہمت بندھاتے ہیں ۔لیکن آپ لوگوں نے الٹا مجھے اپنے تبصروں سے تنگ کیاجس کامجھ پر یہ اثرہواکہ میری ہمت ٹوٹ گئی اورڈپریشن میں آکر مجھ میں سائنسی نقطہ نظر سے مدافعتی سیل کمزورہو کر توٹنے لگے۔آپ میڈیا والے ہو کر اس بات سے کیاواقعی بے خبر تھے کہ نارتھ امریکامیں ایک قبیلہ ایسا بھی ہے جو کسی صورت سبزدرخت نہیں کاٹتا ۔لیکن جب اشد ضرورت پیش آئے تو وہ اس درخت کے اردگرد حلقہ بناکر بیٹھ جاتے ہیں ، اسے نفرت سے دیکھتے ہیں اوربرابھلاکہتے ہیں۔سنا ہے کہ کچھ عرصے بعد ہی وہ درخت سوکھ جاتا ہے۔میرے میڈیا والے بھائیو ! آپ ہی کے قبیلے کے ایک انسان نے کہا کہ مجھے چڑیل نے آکر بتایا ہے کہ کلثوم نواز کی بیماری جھوٹ ہے اوریہ سب باہر رہنے اورعوام کی ہمدردیاں لوٹنے کا ایک ٹول ہے۔ ایک اورباخبر صحافی نے اس بات پر پورا پروگرام کردیا کہ میں ہارلے سٹریٹ میں ہوں ہی نہیں ۔اس نے کہا کہ اگر یہ بات جھوٹ ہے تو عوام کو دکھاکیوں نہیں دیاجاتا؟ وہاں کے ڈاکٹر کیوں گونگے ہوگئے ہیں ؟ یہ سلسلہ صرف میڈیا تک محدودنہ رہا بلکہ ملک کے ایک ناموربیرسٹر اورسینیٹر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میرے خاوند میاں نواز شریف نے پوراہارلے کلینک خریدلیا تاکہ کوئی اندرجا کر یہ بھانڈانہ پھوڑ دے کہ میں بیمارنہیں ہوں یا پھر وہاں موجود ہی نہیں ہوں۔اسی طرح ایک بڑی پارٹی کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارے بھی ذرائع ہیں جو ہمیں یہ بتارہے ہیں کہ کلثوم نواز کی بیماری سب ٹوپی ڈراما ہے۔ایک پارٹی کے سربراہ نے بھی کہہ دیا نوازشریف کلثوم نواز کا سیاسی استعمال کررہے ہیں۔ایک بھائی نے اپنے انگلینڈ والے گھر کافون نمبر عام کیااورلوگوں سے کہا کہ یہ ہارلے کلینک کا نمبرہے ۔آپ خود وہاں فون کرکے یہ تصدیق کرسکتے ہیں کہ کلثوم نواز وہاں داخل ہی نہیں ہیں۔اس کے بعدجب بھی کسی نے فون کیاتواس بھائی نے کہا کہ جی ہاں میں ہارلے کلینک میں ڈاکٹر ہوں اورجس مریض کے بارے میں آپ پوچھ رہے ہیں وہ ہمارے ریکارڈ میں موجودنہیں ہے۔آپ لوگوں کی وجہ سے یہ باتیں اتنی پھیلیں کہ میری بیماری ایک تماشابن گئی ۔کئی لوگ مجھے گالیاں دینے لگے۔ان باتوں نے لوگوں کے ذہن میں شکوک اور ہمارے خلاف نفرت کے بیج بو دیے ۔ اس کا عملی مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب ایک بندے زبردستی اس کلینک میں گھسنے کی کوشش کی جہاں میں زیرعلاج تھی ۔وہ گھس کر یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آیا میں بیمارہوں بلکہ یہاں ہوں بھی یا نہیں؟مجھے ان باتوں سے بہت صدمہ پہنچا۔میں نے ارادہ کیاکہ قوم کے بڑوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرناچاہیے لیکن پھر سوچا کہ بڑے ٹھیک ہوتے تو ایسی حالت ہی کیوں ہوتی؟اسلام نے تو بہت پہلے اس بات کی طرف رہنمائی کردی تھی کہ ’’ الناس علی دین ملوکھم ‘‘ ، ’’لوگ تو اپنے رہنماؤں ہی کی پیروی کرتے ہیں‘‘۔لیڈر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ عوام کو انسانیت کا درس دے لیکن ہمارے رہنماؤں نے اپنے کارکنوں بلکہ ووٹروں کوبھی اپنی محبت اورسیاسی مخالفین کی نفرت میں لاوہ بنادیا ہے۔یہ لوگ چلتے پھرتے ایٹم بم بن گئے ہیں ۔آپ کسی سے بھی سیاسی اختلاف کرکے دیکھیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ ان کے سینے آتش فشاں بن چکے ہیں ۔میری بیماری مذاق بن چکی تھی ۔مجھے اس بات کا دکھ تھا کہ میں کیسی عورت ہوں جو اپنے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بدنامی کا باعث بھی بن رہی ہوں ۔میں نے سوچا کہ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہاتو کسی کی عزت بھی محفوظ نہیں رہے گی لہذا مجھے کچھ کرنا ہوگاتاکہ قوم اس کشمکش سے نکلے ۔بہت سوچ بچار کے بعد مجھے ایک راستہ دکھائی دیااورمیں نے اس پر عمل کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا۔کیونکہ یہی ایک راستہ تھا کہ میرے خاندان والوں پر میری بیماری کی آڑ میں فائدہ اٹھانے کاالزام بھی دھل جاتا، میڈیا کے کچھ لوگ بھی بے نقاب ہوجاتے اورمیرے ملک کی عوام بھی یہ جان لیتی کہ میں واقعی بیمارہوں۔اوروہ راستہ تھامیری موت کا۔پس میں اللہ تعالیٰ سے اپنی موت مانگ لی اوراس کریم نے میری دعا قبول بھی کرلی ۔پس اے میری بیماری کا مذاق اڑانے والو! دیکھ لو میں نے مر کر تمہیں جھوٹاثابت کردیاہے ‘‘۔

About Admin

Google Analytics Alternative