Home » کالم » بی جے پی ۔ہندوتوا کے نعرے لگانا چھوڑ دے

بی جے پی ۔ہندوتوا کے نعرے لگانا چھوڑ دے

’انصاف‘ کے ساتھ دنیا میںجہاں کہیں بے ا نصافی کاغیرانسانی رویہ جب بھی برتا گیا یا آئندہ کبھی برتا جائے گا ایک اٹل اورطے شدہ اصول ہرکسی کے پیش نظررہنا چاہیئے بے انصافی کے جبر و قہر کے ایسے گھٹن زدہ معاشرے میں انصاف کبھی مٹا نہیں کبھی مغلوب ہوا نہیں‘ بلکہ اورزیادہ سچائی کے ساتھ اپنی مظلومیت کی طاقت کومجتمع کر کے ظالم ‘سفاک طاقتور اورباطل قوتوں کی بہیمانہ روش کو ’انصاف‘ نے للکاراضرور ہے ،مطلب یہ کہ’ بے انصافی’کبھی مہربہ لب نہیں رہی، اگر کبھی’خاموش رہی بھی ہے تواْس کے سا تھ روا رکھی جانے والی ہر بے انصافیوں کی روح فرسا روداد ہرزما نے تک پہنچی ہے، یہ فطرت کا قانون ہے یہی ہیں حقائق کہ جب تک انصاف کے ساتھ’حقیقی اورقرارواقعی انصاف‘ہونہیں گیا ’انصاف‘ مسلسل احتجاج میں رہا وقت نے ثابت کردیاکہ’انصاف کے ساتھ ہونے والی بے انصافیوں کی مضطربانہ’خاموشی’ کی آہیں تاریخ نے انصاف کے دشمنوں کے چہروں کوبے نقاب کرنے کیلئے رقم کیئے تاکہ ہرزمانے کے لوگوں تک اصل سچائی پہنچ سکے’یادر ہے کہ انصاف ایک بڑی نمایاں حقیقی سچائی ہے جواپنے موجود ہونے کا ایک حوالہ بن کر ازل سے اب تک ہمیشہ سے کائنات کی تاریخ کے صفحات میں زندہ وتابندہ ہے، آ ج تک’ انصاف‘ کوکوئی شکست نہیں دے سکا، دنیا میں ہمیشہ انصاف کا ہی بول بالاہوا ہے جن معاشروں میں انصاف اورحق کی شنوائی وقتی طورپرریاستی طاقت کے زورپردبادی گئی ہو کئی اقسام کی اخلاقی’سیاسی’سماجی اورثقافتی بداعمالیوں میں گھرے ایسے معاشرے تاریخ میں ہمیشہ بیمارمعاشرے‘ کہلائے گئے جہاں کمزورمزید کمزور ہو جاتے ہیں’طاقت وروں کا ظلم بڑھتا جاتا ہے ا نسانوں کے بنیادی حقوق اْن جیسے عام انسان خود سلب کرلیتے ہیں، انسانوں میں جب سے ‘میں’ آئی ہے انسان بڑامتکبر ہوگیا ہے زیادہ تمحیدی گفتگو سے پہلوبچاتے ہوئے راقم کا اشارہ وطن عزیز پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت کی جانب اس وجوہ سے ہوا ہے کہ بھارتی پریس نے اپنی نمایاں خبروں کا رخ اچانک پاکستانی معاشر ے کی جانب کرلیااورپاکستانی سماج کونشانہ بناتے ہوئے نسلی وفرقہ ورانہ منافرت سے تشبیہ دی جانے لگی ان بھارتیوں کا کاواویلا ہے کہ پاکستانی سماج اقلیتوں کوبرداشت نہیں کرتا؟بھارتی پریس کہتا ہے کہ پا کستان میں خواتین کے حقوق امتیازی سلوک سے دوچارہیں؟اس پر بحیثیت پاکستانی ہم بات کرنا چاہیں گے حالیہ دنوں میں پاکستانی سپریم کورٹ کے ایک اہم فیصلہ جس میں’آسیہ بی بی کیس‘ میں پا ئے جانے وا لے ناکافی اور کمزورشہادتوں کی بنیاد پرآسیہ بی بی کی بریت پر ہونے والے چند ‘احتجاجی مظاہروں’ کی آڑ لے کراسٹوریاں گھڑی جارہی ہیں اوراپنے دیش کے گریبانوں میں جھانکنا اْنہیں زیب کیوں نہیں دے رہا ؟یہ ہمارے کالم کا موضوع ہے پہلا سچ یہ ہے دنیا مانتی ہے کہ بھارت کی بہ نسبت پاکستان میں خواتین ملک کے تقریبا تمام اہم شعبوں میں امتیازی صنف جیسے سلوک کا شکار نہیں ‘ ملک کے بالاتراہم عہدوں پر پاکستانی خواتین فائز ہیں اعلی عدلیہ ہویاماتحت عدلیہ کے ادارے خواتین ججز کے باوقار عہدوں پر متمکن ہیں تینوں مسلح افواج میں خواتین افسروں کی تعداد نمایاں ہے ملکی اسٹبلیشمنٹ میں اعلی آخری گریڈ میں خواتین موجود ہیں ملک بھر میں خواتین مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی کارکردگیوں کو بروئے کار لارہی ہیں بہرحال بھارت سے پاکستان میں خواتین زیادہ متحرک ہیں پاکستانی اقلیت خواتین اپنی علمی قابلیت اور ہنرمندی کی صلاحیتیوں کے بل بوتے پر وقت کے ساتھ ساتھ ا جتماعی لحاظ سے امتیازی سلوک سے دوچار نہیں ہیں اب بھارتی ذرا سوچیں توسہی بھارت میں کمزورناتواں اورمالی بدحالی سے تنگ روزگار کی تلاش میں دیش کے بڑے شہروں کا رخ کرنے والی خواتین کے ساتھ آر ایس ایس اور اْس کی 10۔9 متشدد تنظیموں کے چھٹے ہوئے غنڈے بد معاش سرعام کیا اْن کی عزتیں لوٹتے نہیں جو بھری بسوں سے مردمسافروں کو اتار کر نوعمر خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کررہے ہیں، سماجی ظلم وزیادتی کا یہ ایک مسئلہ’جبکہ چارمنقسم ذاتوں کا پورا بھارتی معاشرہ اپنے دامن پر لگے ہوئے قبل ازمسیح کی اپنی تاریخی ناانصافیوں کو انصاف دینے پر شائد کبھی نہ آئے گا یہ بڑا کڑوا سچ ہے کہ بھارت میں صرف ‘براہمن’چھتری’ ویش’اورشودر چارذاتیں بستی ہیں؟ بھارت کی واضح اکثریت کیا پرلے درجے کی جانورقوم ہے جنہیں چار نام نہاد بڑی ذاتوں کے ہم پلہ جینے کا بھی حق نہیں ہے ‘براہمنوں’ چھتریوں’ ویشوں’اورشودروں کے وسطی ایشیائی ریاستوں سے آئے ہوئے ہمارے سوال کا کیا اُن کے بزرگ جواب دیں گے یا آج کی نسلیں بتائیں گی کہ یہ ارض ہند ان کے باپوں کی ازلی و ابدی سرزمین تھی ؟بھارت میں آج جنہیں ’دلت‘کہہ کر’دلت‘ کا نام دے کر صدیوں سے مسلسل تذلیل کیا جارہا ہے، اصل سرزمین ہند کے وارث یہی ‘دراوڑ’نسل ہے جس نے تم ‘پناہ گزینوں آریاؤں‘ کو پناہ دی اورتم براہمن ‘چھتری’ ویش اور شودر اپنی مکارانہ چالبازیوں اور عیارانہ حیلے بازیوں کے کرتوتوں کے سبب اصل سرزمین ہم وطنوں کو اپنا محکوم وغلام بنانے میں کیسے کامیاب رہے ؟یہ سب تاریخ ہند کے صفحات میں رقم ہے اب بھارت میں کئی صدیوں قبل وسطی ایشیائی وایران سے واردہونے والوں نے ہندوستان کو اپنی دھرتی ماں بنالیا بھارت کی سرزمین براہمنوں ‘ چھتریوں‘ ویشوں اور شودروں کی سرزمین کیسے مان لی جائے بھارتی سماج نے کل انصاف نہیں کیا تھا جنوبی ہند کے عوام جو اصل ہندوستان کے وارث ہیں ’ائے باہر سے آئے ہوئے آریاؤں! اب بہت ہوگئی ہندوستان کے اصل وارث ’دراوڑنسل اب تم سے بیزار ہو چکی ہے جنوبی ہند میں نئی دہلی کا ظلم اب اور زیادہ دیر تک نہیں چلے گا اب فیصلہ ہونا ہے نسلی ناانصافی کا ایک ایک واقعہ تاریخ نے بطورگواہ لکھ دیا ہے ہند میں باہر سے آئی ہوئی چاروں ذاتوں کے لوگوں کو اْن نام نہاد براہمن پنڈتوں کے گرد گھیرا تنگ کرنا پڑے گا، جنہوں نے کل بھی سچ نہیں بتایا، آج بھی وہ اپنا پورا سچ بولنے پرتیارنہیں ہورہے کل کہیں ایسا نہ ہو کہ جنوبی ہند سے ‘انصاف’انصاف’ کے فلک شگاف نعرے لگاتا ہوا ایسا تباہ کن طوفان اْٹھے جو نئی دہلی کے تخت وتاج کا تاراج کرکے رکھ دے ۔

*****

About Admin

Google Analytics Alternative