1

بے راہ روی تباہی کاسبب

بد قسمتی سے آج کل ہمارا پاکستانی الیکٹرانک میڈیا جو کچھ دکھاتاہے وہ بھارت اور غیر مذہب ریاست سے بھی زیادہ بد تر اور انتہائی شرم ناک ہے ۔ بے ہو دہ ڈرامے، فل میں ، بے شرم فیشن شوتو ہمارے پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کا ایک روٹین ہے مگر آج کل زیادہ تر پاکستانی چینلز سے خاندانی منصوبہ بندی کےلئے نامناسب جو اشتہار دکھاتے ہیں میرے خیال کوئی بھی بہن بھائی، باپ بیٹا اور کوئی بھی سنجیدہ ، ذی شعور اور مشرقی اور اسلامی سے تھوڑے سے مانوس والدین خاندانی منصوبہ بندی کے اس اشتہار کو نہیں دیکھ سکتے ۔ اگر ہم ٹی چینلز پر اُردو اور با لخصوص پشتو اور پنجابی فلموں کی بات کریں تو اس قسم کی فل میں دکھا کر عُریانیت اور فحا شی کو مزید پروان چڑھایا جا رہا ہے ۔ اگر الیکٹرانک میڈیا والوں نے پیسے کمانے تھے تو اس کے اور بھی بُہت سارے طریقے تھے مگر کم از کم اس قسم کے اشتہار اور فلموں کو تو الیکٹرانک میڈیا پر نہ دکھائیں تاکہ کرنٹ افیئر والے چینلز پر فیملی ممبر آپس میں بیٹھ کر کم از کم حالات حا ضرہ کے پروگرام تو اکٹھادیکھ سکیں ۔ خدارا الیکٹرانک میڈیا کو تو کچھ اللہ کا خوف کرنا چاہئے اور ایسے اشتہارات ڈرامے اور پرو گرام نہیں دکھا نے چاہئیں جس سے عام لوگ اور با لخصوص جوان بے راہ روی کا شکار ہو ۔ پنڈی سے اسلام آباد جا رہا تھا ۔ میرے ساتھ 15یا 16 سال کا ایک بچہ بیٹھا ہوا تھا ۔ بچے نے موبائل کو ہا تھ میں پکڑا ہوا تھا ۔ نیو کٹا ریاں سے ایچ نائن تک بچے نے مو بائل فون سے سر اوپر نہیں اُٹھایا اورسارے سفر میں موبائل کے ساتھ مسلسل مشغول و مصروف رہا ۔ فی زمانہ یہ مسئلہ صرف اس ایک بچے کے ساتھ نہیں بلکہ مسئلہ خواہ جوان ہے یا در میانہ عمر کا سب کے ساتھ ہے ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ٹین ایجرز نے موبائل، انٹر نیٹ اور کیبل کو اتنا سر پہ سوار کیا کہ اُنکو ان چیزوں کے علاوہ اور چیزوں کی فُر صت نہیں ۔ اگر ہم اپنی معاشرتی اور سماجی نظام اقدار کو دیکھیں تو مشرقی روایات اور اخلاقی اقدار کے مطابق عام طور پر دو الفاظ استعمال ہو تے ہیں تعلیم اور تربیت ۔ آج کل کے بچے کسی نہ کسی صورت رٹھا اور نقل کر کے ٹوٹی پوٹی تعلیم تو حا صل کر لیتے ہیں مگر بد قسمتی سے تربیت کا سلسلہ ایسا کے ویسا رہ جاتا ہے جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل انسانیت اور بشر یت سے دور ہو تی جا رہی ہے ۔ بچے کے پاس انٹر نیٹ، کیبل، موبائل اور کر کٹ سے فُرصت ہو تو وہ اچھی اور مُثبت باتیں سُننے کےلئے تیار ہو گا ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ بچوں کے پاس اس لغویات کی وجہ سے دوسری اچھی باتیں سُننے کےلئے وقت نہیں اور بد قسمتی سے نہ تو والدین اور نہ اساتذہ کرام اور بزر گوں میں وہ صلاحیت رہی کہ وہ اپنے بچوں کی مناسب طریقے سے تربیت کر لیں ، نتیجتاً ہمارے نسل کے مشاہیر اور ہیرو ہمارے صحابہ کرام ، بُزرگان دین اور اولیائے کرام کے بجائے شا ہ رُخ خان سلمان خان ، رینا رائے، مائیکل جیکسن اور ایشو ریا رائے ہیں ۔ مجھے اچھی طر ح یاد ہے کہ ماضی میں اسا تذہ کرام تعلیمی اور تربیت کے لحا ظ سے اتنے مکمل ہوتے کہ وہ اپنے شا گر دوں کی نہ اچھے طریقے سے تعلیم پایہ تکمیل تک پہنچاتے بلکہ اُنکی تربیت بھی احسن طریقے سے کر تے، مگر بد قسمتی سے آج کل کے اساتذہ کرام تو اکیڈمک اور نہ تر بیت کے لحا ظ سے اتنے کمپیٹنٹ ہیں کہ وہ اپنے شا گر دوں کی مناسب طریقے سے تعلیم اور تربیت کی ذمہ داری پو ری کر سکیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موبائل فون، کیبل اور انٹر نیٹ اکیسویں صدی کی سب سے اچھی اور فائدہ مند ایجادات ہیں اور اس سے اچھے طریقے سے استفادہ کیا جا سکتا ہے، مگر بد قسمتی سے ہر قسم کی ا نفار میشن تک رسائی ہر بچے اور جوان کا حق نہیں ہو تا ۔ ہا ں عمر کی اُس حدپر جہاں اُسکی ضرورت محسوس ہو تو اسکو ضروراُس انفا رمیشن اور اطلا عات تک رسائی ہونی چایئے، مگر ;80;remature یعنی وقت سے پہلے کچھ انفار میشن اور اطلاعات انتہائی خطر ناک اور مہلک ثابت ہو سکتی ہیں ۔ مجھے ڈر ہے اگر بچے اور جوان مو بائل ، انٹر نیٹ اور کیبل میں اس طر ح دلچسپی لیتے رہیں گے تو ایک وقت ایسا آئے گا جب ہم صرف نام کے مسلمان رہیں گے ۔ نہ تو ہ میں اپنے مذہب کے بارے میں پتہ ہو گا اور نہ اپنے مشاہیر کے بارے میں ، جسکا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ اخلاقی اور اسلامی قدریں جو ہ میں دوسری قوموں سے ممتاز کرتی ہیں ہم میں ختم ہو جائیں گی اور ہمارا معا شرہ بھی اہل مغرب کی طر ح شُتر بے مہار کی صورت اختیار کر لے گا ۔ جہاں پر گھروں میں والدین کی مو جو دگی میں بچوں کے ساتھ گرل اور بوائے فرینڈز آتے ہیں اور والدین اپنے جذبات اور احساسات کو دبا کر کھونگے کی طرح یہ ڈرامے دیکھتے رہتے ہیں ۔ امریکہ کے ایک سکالر کہتے ہیں کہ امریکہ کی نوجوان نسل کو تین چیزوں نے خراب کیا موبائل فون ، میڈیا اور سگریٹ ۔ روس کے ایک مشہور سکالر نیارن جس نے روس کی ٹوٹنے کی اور اب امریکہ کے ٹوٹنے کی پیشن گوئی دی تھی کہتے ہیں کہ امریکہ کے زوال کے دو بڑے اسباب ہونگے نمبر اول امریکہ میں اخلاقی قدروں کا جنازہ اُٹھنا اور دوئم امریکہ کی معاشی بد حالی ۔ برطا نیہ کے ایک یہودی پر و فیسر ناتھن ابراہم اپنی کتاب میں کہتے ہیں یہودی فحا شی اور عریانی کی صنعت کو مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر تے ہیں ۔ اور اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں بھی مغربی ممالک ٹیلی کام انڈسٹر ی اور میڈیا کے شعبوں میں سر مایہ کاری تو کرتے ہیں مگر اُن ُ شعبوں مثلاً زراعت، توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجی کی طر ف نہیں آتے جس سے وطن عزیز میں حقیقی ترقی آ سکے ۔ میں والدین سے استد عا کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کی مناسب طریقے سے نگرانی کریں اور حکومت سے بھی یہ استد عا کر تا ہوں کہ وہ وطن عزیز میڈیا چینلز ، انٹر نیٹ اور کیبل کی طر ف اتنی توجہ نہ دیں بلکہ اُن شعبوں کی طر ف توجہ دیں جس سے واقعی حقیقی ترقی اور خو شحالی آسکتی ہو ۔ اگر دیکھا جائے تو موبائل فون کے مالی نُقصانات کے علاوہ طبی نُقطہ نظر سے بُہت زیادہ نُقصانات بھی ہیں ۔ کنگ سعو د یو نیو ر سٹی کے کالج آف فزیالوجی اور میڈیسن ریاض کے ایک تحقیقی مقالے میں لکھتے ہیں کہ جو لوگ موبائل فون استعمال کر تے ہیں ان میں 22 فیصد کو سر درد6 فیصد کو گرنے اور ڈگمگانے کی ، 5فیصد لوگوں کو تھکا وٹ اور5 فیصد لوگوں کو ٹینشن اور ڈپریشن کی بیماری ہوگی ۔ یو نیور سٹی آف واشنگٹن کے پرو فیسر ہنری لائی اور این پی سنگھ نے دس سالہ تحقیق کی اور اسی تحقیق کی رو سے پتہ چلا کہ موبائل کی تابکا ری سے ڈی این اے انتہائی خراب ہوتی ہے جو لا علاج بھی ہے ۔ بلیک ویل کے ایک اور ریسر چ میں کہتے ہیں کہ جو لوگ 30 منٹ تک موبائل فون استعمال کر تے ہیں تو بر قی مقناطیسی لہریں دماغی کا ر کر دگی میں انتہائی تبدیلی لاتی ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو مو جودہ دور میں حکمران وقت ، والدین اور اسا تذہ کرام پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں اور خا ص طو ر پر نئی نسل کو اس مہلک چیزوں سے بچائیں ۔ سورۃ التحریم میں ارشاد خداوندی ہے اے ایمان والو تم اپنے آپکو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاءو ۔ شرم اور حیا کسی بھی انسان کا زیور ہے اور جس قوم میں شرم وحیا ختم ہو جاتی ہے وہ قوم تباہ اور برباد ہو جاتی ہے ۔ حضرت عثمان ;230;فرما تے کہ میں پہلے رسولﷺ کی شرم و حیا سے اسلام لایا تھا ۔ باقی موت بر حق ہے ہ میں فضول مشاغل کو چھوڑ کر انکی تیاری کرنی چاہئے ۔ حضور ﷺ سے کسی صحابی نے دریافت کیا کہ سب سے زیادہ عقل مند اور سب سے زیادہ مختاط کون ہے;238;فرمایا سب سے زیادہ مختاط وہ ہے جو موت کےلئے تیاری کرے کیونکہ اسکے لئے دنیا اور آخرت دونوں شراکت ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں