Home » کالم » تاجروں کی ہڑتال کے پس پردہ اصل محرکات
adaria

تاجروں کی ہڑتال کے پس پردہ اصل محرکات

حکومت کی جانب سے ٹیکس کے اقدامات اور خریدوفروخت کے سلسلے میں شناختی کارڈ کی لازمی شرط کیخلاف ملک بھر میں تاجر برادری میں سخت غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس کی وجہ سے انہوں نے ہڑتال کی کال دیدی ہے، اب یہ ہڑتال کیوں ہورہی ہے، کون کرارہا ہے، کس وجہ سے ہورہی ہے اس کے پس پردہ اصل محرکات کیا ہیں ، کس کے کیا عزائم ہیں ، کون اپنا کاروبار بچانا چاہتا ہے، کون صنعتوں اور فیکٹریوں کے ورکرز کو استعمال کررہا ہے، اصل فائدہ کس کو ہوگا، یہ وہ تمام سوالات ہیں جن کا حکومت کو تفصیل سے جواب دینا چاہیے اور جو بھی حکومتی ترجمان ہے وہ میڈیا پر آکر عوام کو اصل حقائق سے آگاہی کرائیں تاکہ انہیں پتہ چل سکے کہ یہ حکومتی اقدامات ان کے کتنے فائدے میں ہے اسی سلسلے میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہاہے کہ تاجروں کی ہڑتال کا کوئی جواز نہیں بنتا، ہم مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں ، اگر وہ اس کے باوجود ہڑتال کرنا چاہیں تو ان کی مرضی، تاجروں کے معاملے پر فرنٹ پر کوئی اور ہے اور پیچھے کوئی اور ۔ ہم تمام معاملات بخوبی سمجھتے ہیں ، پاکستان کو چیلنجز کا سامنا ہے ، ڈیڈ لاک پیدا نہیں کرنا چاہتے مسائل کو طریقے سے حل کرنے کے خواہاں ہیں ۔ کامیاب ہوگئے تو ٹھیک ورنہ اللہ مالک ہے ۔ تاجروں کا احتجاج کرنا ان کا حق ہے لیکن ایف بی آر شناختی کارڈ فراہمی کی شرط کو واپس نہیں لے گا، عام صارفین کیلئے پچاس ہزار روپے سے زائد خریداری پر شناختی کارڈ فراہم کرنے کی شرط ہے جبکہ کاروباری افراد کیلئے تمام قسم کی باہمی خریداری پر شناختی کارڈ لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ دراصل اس کا مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا ہے، شناختی کارڈ کی شرط کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کا ہوگا ۔ ہم یہاں وزیراعظم کو کہیں گے کہ آپ کا یہ فیصلہ انتہائی مستحسن ہے اس سلسلے میں آپ نے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹنا کیونکہ یہی بنیادی نکتہ ہے جس سے ٹیکس جمع کرنے میں اضافہ ہوگا اور لوگ زیادہ سے زیادہ ٹیکس نیٹ میں آئیں گے ۔ نیز ٹیکس چوری کا بھی خاتمہ ہوگا ، جو لوگ ، سرمایہ دار، صنعت کار یا دیگر بڑے بڑے کاروباری حضرات مختلف طریقوں کو اپناتے ہوئے ٹیکس بچاتے ہیں ان کیلئے اب دروازے بند ہو جائیں گے ۔ یہاں پر وزیراعظم کو بلند حوصلے ، ہمت اور عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ ہ میں معلوم ہے کہ کپتان جس بات پر ڈٹ جائے اس سے پیچھے نہیں ہٹتا جیسا کہ کرپشن کے سلسلے میں انہوں نے کہاکہ اس کو ہر صورت میں ختم کرنا ہے ، منی لانڈرنگ کے بارے میں بھی ان کے اسی طرح کے مصمم ارادے ہیں لہذا ہم کہیں گے شناختی کارڈ کی شرط کے سلسلے میں بھی وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ثابت ہوں یہی ان کی سب سے بڑی کامیابی اور سرمایہ دارانہ نظام کی شکست ہوگی ۔ دراصل بات یہ ہے کہ یہ آجر اوراجیر کی جنگ نہیں یہ صرف سرمایہ دار، بڑے بڑے صنعت کاروں کی جنگ ہے وہ محض اپنی ٹیکس چوری کو بچانے کیلئے ورکروں کو نکال کر ملک میں بیروزگاری اور انارکی پھیلا رہے ہیں اس شر سے نہ تو دکاندار کا نقصان ہے نہ ہی خریدار کا صرف بات یہ ہے کہ جو چیز بھی خریدی جائے گی وہ دستاویزی صورت میں دستیاب ہوگی اگر ایک فیکٹری سے ایک خاص تعداد میں مال نکلتا ہے اور مارکیٹ میں اس سے زیادہ فروخت ہوتا ہے تو یہ شناختی کارڈ کی شرط بتا دے گی کہ فیکٹری سے کتنا مال ٹیکس کی ادائیگی کی مد میں نکلا ہے اور کتنا مال ٹیکس چوری کی مد میں نکالا گیا ہے یہاں سے ہی ان کی گردنوں کے گرد گھیرا تنگ ہوگا ۔ اسی وجہ سے بڑے بڑے سرمایہ کار سخت پریشان ہیں لہذا حکومت کو اپنے فیصلے پر ڈٹے رہنا چاہیے ۔

چیئرمین سینیٹ، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

وزیراعظم عمران خان سے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے ملاقات کی ،وزیراعظم چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کیلئے پراعتماد ہیں اور انہوں نے صادق سنجرانی کو ڈٹ جانے کا مشورہ دیا ہے ۔ وزیراعظم کا صادق سنجرانی کو کہنا تھا کہ ;200;پ ہاءوس کو شاندار انداز میں چلا رہے ہیں ، گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کو ہم سب ملکر ناکام بنائیں گے ۔ چیئرمین سینٹ نے بھی اپوزیشن کی تحریک سے متعلق وزیراعظم سے مشاورت مکمل کر لی ہے ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والے بتائیں چیئرمین سینٹ کو ہٹانے کی کوششیں کون سی جمہوری اقدار ہیں ۔ مفاد پرست لوگ جمہوریت کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ ادھراپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی نے بلوچستان سے نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل خان بزنجو کو چیئرمین سینیٹ کےلئے متفقہ طور پر اپنا امیدوار نامزد کردیا ۔ اس بات کا فیصلہ اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اکرم درانی کی سربراہی میں ہونے والے رہبر کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا ،شہباز شریف اورنیئربخاری نے چیئرمین سینیٹ کا امیدوار نامزد ہونے پر حاصل بزنجوکو مبارکباد دی ہے، مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف نے بھی میر حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ بنانے کے فیصلے پر اعتماد کا اظہار کردیا جبکہ اکرم درانی نے کہاہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں حاصل بزنجوکو ووٹ دیں گی اوران کو اپنا امیدوار مان کر ان کی جیت کی کوشش کریں گی، میر حاصل خان بزنجو کے نام پر کسی بھی پارٹی نے اختلاف نہیں کیا، ریکوزیشن جمع کرانے کے بعد اب چیئرمین سینیٹ 14 دن کے اندر اجلاس بلانے کے پابند ہیں ۔

نیاپاکستان ہاءوسنگ اسکیم اسلام آباد زون فور کا سنگ بنیاد

وزیراعظم عمران خان نے اسلام ;200;باد کے زون 4 میں نیا پاکستان ہاءوسنگ سکیم کے تحت 18 ہزار 500 گھروں کی تعمیر کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے غریب اور نادار طبقات کو چھت کی فراہمی ان کا خواب ہے، نیا پاکستان ہاءوسنگ منصوبہ کے تحت معاشرے کے کمزور بالخصوص چھوٹے تنخواہ دار طبقے کے لئے اپنی چھت کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، حکومت نجی شعبہ کے ساتھ مل کر شہروں کی کچی بستیوں کے مکینوں کو سہولیات کے ساتھ گھروں کی فراہمی کو ممکن بنائے گی، گھروں کی تعمیر کیلئے بینکوں سے قرضے حاصل کرنے میں ;200;سانیاں فراہم کر نے کیلئے قانون سازی سمیت دیگر اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ منصوبے کے تحت ڈیڑھ سال کے عرصہ میں 18 ہزار گھر تعمیر ہوں گے جن میں سے 10 ہزار گھر غریب اور نادار طبقات کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں جن کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائے گا ۔ پاکستان میں پہلے صرف پیسے والے لوگ اپنا گھر بنا سکتے تھے، حکومت کی سکیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عام ;200;دمی بالخصوص چھوٹے تنخواہ دار طبقے کے لئے ;200;سان شرائط اور چھوٹی چھوٹی قسطوں کے ذریعے چھت فراہم کی جا سکے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں عام ;200;دمی کے لئے گھر بنانے کے مواقع ملتے ہیں لیکن پاکستان میں پہلے یہ سہولت میسر نہیں تھی ۔ بھارت میں بینک 10 فیصد، ملائیشیا میں 30 فیصد اور برطانیہ و امریکہ میں 80 سے 90 فیصد گھروں کی تعمیر کے لئے بینک قرضے فراہم کرتے ہیں ۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں عام ;200;دمی کو اپنی چھت کی فراہمی کا خواب پورا ہوگا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative