Home » کالم » ترقی وخوشحالی کے نئے امکانات ۔ وزیراعظم کا دورہ چین

ترقی وخوشحالی کے نئے امکانات ۔ وزیراعظم کا دورہ چین

وزیر اعظم عمران خان اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پڑوسی دوست ملک چین کا دورہ ایسے اہم نازک وقت میں کیا جب خطہ میں سنگین نوعیت کے بدلاوَ کے حالات تھے تبدیلیاں وقوع پذیر ہورہی تھیں ، گزشتہ دوروں کے برعکس پاکستانی اعلیٰ سیاسی اوراعلیٰ عسکری قیات کے تازہ ترین دورہ چین کو ایک بہت ہی بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اس دورے کے اہم پہلووں کو ملکی پرنٹ،الیکٹرونک اور سوشل میڈیا میں نمایاں کوریج دینے کی اشد ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا تاکہ دنیا پر یہ واضح ہوسکے کہ عالمی اور علاقائی تنازعات پر پاکستان اور چین دونوں پڑوسی ملکوں کی اعلیٰ قیادت میں کس قدر فکری قربت ، ذہنی یکسوی اورسیاسی وسفارتی مفاہمت پائی جاتی ہے وزیر اعظم پاکستان نے 8 سے 9 اکتوبر2019 تک عوامی جمہوریہ چین کی ریاستی کونسل کے وزیر اعظم لی کی چیانگ کی خصوصی دعوت پر چین کا دوروزہ سرکاری دورہ کیا گو یہ دورہ مختصر رہا لیکن بہت نتیجہ خیز، اس دوران پاکستانی وزیراعظم نے چینی صدر شی پی چنگ سے بھی اہم ملاقات کی‘ وزیر اعظم لی کی چیانگ اور قائمہ کمیٹی کے چیئرمین لی ژانشو سے بھی وزیراعظم کی ملاقات ہوئی نیشنل پیپلز کانگریس سے پاکستانی وزیر اعظم نے خطاب کیا ،چینی تاجروں سے بھی ملاقات ہوئی، دونوں اطراف کے شرکا ء نے باہمی دلچسپی کے دوطرفہ علاقائی اور بین الاقوامی امور کی وسیع رینج پر مشترکہ بنیادی دوطرفہ امور پر کھل کر ایک دوسرے کے موقف کو سمجھا اور سمجھایاگیا پاکستان اور چین نے پہلے سے موجود اپنے گرم جوش اور دوستانہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک بڑھا نے میں اپنے اس دورے میں سفارتی وسیع النظری کا خوب مظاہرہ کیا جنرل باجوہ کی قیادت میں ملکی عسکری وفد نے دوطرفہ ’’پولیٹیکو ضروریات‘‘پر مکمل باہم مشترکہ تبادلہ خیال کیا اورہم منصبوں کے ساتھ ہونے والی اہم ملاقات نے خطے اور عالمی برادری کو ایک بہت اہم موثر پیغام پہنچادیا کہ دونوں ممالک پاکستان اور چین ہر مشکل وقت میں اب کندھوں سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے اگر کسی نے چین کی آزادی اور خود مختاری پر وار کرنے کی جسارت کی تو سمجھا جائے گا کہ یہ وار چین پر نہیں بلکہ پاکستان پر کیا گیا ہے دوطرفہ سیکورٹی کا یہی قدم چین نے اٹھا کر دنیا کو باور کرادیا ہے کہ پاکستان کو کوئی’ عالمی اور علاقائی طاقت‘ تنہا نہ سمجھے، یہ کہتے ہوئے ہ میں جان لینا چاہیئے کہ چین کا اشارہ صاف طور پر بھارت کی طرف تھا حالیہ دورہ چین سے اْن عالمی مفروضات کے غباروں میں سے بھی ہوا نکل گئی جو دنیا میں بے سروپا پروپیگنڈا پھیلارہے تھے کہ ’’سی پیک منصوبہ‘‘پر رفتار سست پڑگئی ہے کسی کو تھوڑی بہت نہیں بلکہ ساری کی ساری ’’سی پیک‘‘کی دال کالی نظرآنے لگی یہ جھوٹ کے پھٹے ڈھول تھے اندرون ملک بھی بجائے گئے جس سے کوئی اور خوش ہوا ہونہ ہوا لیکن بھارت کو مسلم لیگ نون کے چند سیاسی ڈھنڈورچیوں کے پھیلائے گئے اس پروپیگنڈے سے یقینا ’’سکون‘‘ملا ہوگا،لیکن پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ اور ملکی وزیراعظم عمران خان کے اس دور میں کھل کر اعلیٰ چینی قیادت نے کہہ دیا کہ پہلے سے زیادہ پْرجوش جرات مندی کے ساتھ ’’سی پیک‘‘ کو ایک بہت بڑا ’’ٹرن اور‘‘کا موقع ملا ہے، اس دورے میں یہ فیصلہ ہوگیا ہے کہ ’’سی پیک ‘‘ کا اگلا مرحلہ پاکستانی فوج کی نگرانی میں اب اپنے تعمیراتی کام کو آگے بڑھا ئے گا اوراب ’’سی پیک‘‘ کے نام سے متفقہ اتھارٹی بہت جلد قائم کردی جائےگی چینی حکام اس ’’اتھارٹی‘‘ کو بی اینڈ آر’’بلڈ اینڈ روڈ اینیشیٹو‘‘ کے ماڈل پروجیکٹ کے طور پر فعال بنانے کی اپنی تیاریاں مکمل کرچکے ہیں ، وزیراعظم پاکستان نے چین کے صدر شی پی چنگ سے اپنی دوبدوملاقات میں اْنہیں مقبوضہ وادی کی سنگین تشویش ناک صورتحال سے آگاہ کیا یادرہے کہ چینی صدر ایک روز بعد بھارت کا سرکاری دورہ کریں گے بھارتی وزیراعظم مودی کو خطہ میں ہونے والی اہم تبدیلیوں کے بارے میں بتادیں گے کہ جتنی جلد ہوسکے وہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں اپنے سخت جنونی موقف کوتبدیل کریں کشمیر میں انسانی حقوق کو بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کریں کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں حل کروانے میں بھارت کے استحکام کو تقویت مل سکتی ہے، چین نے کشمیر کے بارے میں پاکستان کی حساسیت کو سمجھا اور مشترکہ اعلامیہ میں اس کا مناسب طور پر تذکرہ کیا گیا چین کی قیادت نے خطے اور بالخصوص افغانستان میں قیام امن کےلئے پاکستان کی سفارتی تگ ودو کی تعریف کی ہے، پاکستان نے اندورن ملک اور بیرون ملک مفادات سے ’’سی پیک‘‘ کے بارے میں اٹھا ئے گئے اپنے تمام تحفظات چین کے سامنے رکھے چین نے پاکستانی مفادات کو اپنے مفادات کے ہم پلہ قرار دیتے ہوئے پاکستان میں پائے جانے والے تحفظات کا فی الفور ازالہ کرنے کا وعدہ کیا ’’سی پیک‘‘کی ممکنہ توسیع اور استحکام کے اگلے بڑے مرحلے کا آغاز آئندہ ہفتوں میں کردیا جائے گا سی پیک اور ایف ڈی آئی مطلب’’ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری‘‘جیسے اہم ایشوز بھی چین اور پاکستان کی اعلیٰ سطحی قیادت کے درمیان بات چیت کے ذریعے سے حل ہو ئے ہیں جس پر پاکستان کو یقینا بڑے اہم اوردیرپا مالی فوائد ملیں گے ’’سی پیک راہداری منصوبہ‘‘غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذیل میں اپنی خصوصی مقناطیسیت رکھتا ہے، یقینا چین کے صدر شی پنگ جی نے ’’سی پیک راہداری منصوبہ‘‘ کا عالمی تعارف کراتے ہوئے یہ بالکل صحیح عندیہ دیا تھا کہ’سی پیک جنوبی ایشیا بلکہ ایشیا سمیت ایشائی پیسفک ممالک کےلئے بھی ترقیاتی خوشحالی کا گیم چینجر منصوبہ ثابت ہوگا‘اپنے دورہ چین کی مصروفیات میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بطور مہمان خصوصی’’بیجنگ ہارٹیکلچر ایکسپو 2019‘‘ کی اختتامی تقریب میں بھی شرکت کی وزیراعظم خان نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھنے کی 70 ویں سالگرہ پر چینی قیادت اور عوام کو اپنی جانب سے خاص طور پر پاکستانی قوم کی طرف سے مبارکباد پیش کی انہوں نے چین کو اس کی نمایاں تیزرفتار ترقی پربھی مبارکباد پیش کی اس بات پر زور دیا کہ چین کی اصلاح اور افتتاحی عمل ترقی پذیر ممالک کےلئے ایک نمونہ اور ایک تقلید ی مثال ہے انہوں نے کہا کہ چینی قوم کا قومی تحریک کی طرف اس کی بصیرت افروز جرات مندانہ قیادت میں کئے جانے والے تاریخ ساز مارچ ایک انمٹ حقیقت کی صورت میں دنیا کے کروڑوں عوام کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے ۔ اس اہم موقع پر پاکستانی وزیراعظم خان نے اپنے گزشتہ دورہ چین جو گزشتہ برس نومبر میں ہواتھا اپنے اْس دورے کو یاد کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم نے چینی قیادت کے ساتھ اپنے مشترکہ اعلامیہ کے بیان کا بھی تذکرہ کیا جس میں پاکستان اور چین کے مابین اہم باہمی اتفاق رائے کا ایک خاکہ پیش کیا گیا تھا دونوں قیادتوں نے’’پاک چین آل موسم‘‘کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری کو مزید تقویت دینے کے اپنے عزم کی اس مرتبہ پھر توثیق کی جس کا مقصد مشترکہ مستقبل کی کمیونٹی کی تشکیل دینا قرارپایا گیا تھا اب وہ ہی نیا دور شروع ہوچکا ہے، پاکستان اور چین کے مابین قریبی تعلقات اور گہرے ہوکر جڑ چکے ہیں پاکستان اور چین کی دوطرفہ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت نے دونوں ممالک اور عوام کے بنیادی مفادات کو یکجا کردیا ہے اورخطے میں امن، استحکام اور ترقی کے شعبے میں واضح خوشگوار تبدیلیاں نمایاں ہورہی ہیں پاکستان اور چین کے عوامی قربت کے سماجی معاملات پر دونوں جوانب سے اپنی اپنی حمایت کی تصدیق ہورہی ہے، ایک دوسرے کے بنیادی مفادات سے متعلق اب کسی قسم کا ابہام نہیں رہا ،چینی رہنماؤں نے اپنی علاقائی خودمختاری، آزادی اور سلامتی کے تحفظ میں پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اعادہ کیا پاکستان کی جانب سے’’ ون چائینہ پالیسی‘‘ سے متعلق پاکستانی قوم کے عزم کی تصدیق کی ایک مرتبہ موثرتائید کردی گئی ’ون کنٹری ٹو سسٹم‘ کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہانگ کانگ کے معاملات میں کسی کو دخل دینے کا کوئی حق نہیں یہ چین اپنا داخلی معاملہ ہے تمام ممالک کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری پربرقرار رہنا ہوگا، جہاں تک مقبوضہ وادی میں پاکستان کے جائز اسٹیک کا معاملہ ہے یہ تنازعہ اقوام متحدہ کی ٹیبلز پر ہے جس پر چین نے بھی ترت جواب دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر کڑی توجہ دئیے ہوئے ہے اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ مسئلہ کشمیرایک تاریخی تنازعہ ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور ان کی بنیاد پر مناسب اور پر امن طور پر اس دیرینہ مسئلے کو حل ہونا چاہئے دونوں ملکوں نے اس بات پر زور دیا کہ پرامن ، مستحکم ، تعاون پر مبنی اور خوشحال جنوبی ایشیاء تمام فریقوں کے مشترکہ مفاد میں ہے خطہ کو مساوات اور باہمی احترام کی بنیاد پر بات چیت کے ذریعے خطے کے تنازعات اور مسائل کو حل کرنے کی اشد ضرورت اب بڑھتی جارہی ہے اس بارے میں اور دیر کی گنجائش نہیں ہے وزیراعظم پاکستان اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک بہت ہی موثر اور جاندار سفارت کاری کے نتیجے میں کامیاب دورہ چین پر پاکستانی قوم تہہ دل سے اُنہیں مبارکباد پیش کرتی ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative