Home » کالم » اورمضامین/کالم » تصویر کے دورخ اورمیڈیا کی ایک آنکھ

تصویر کے دورخ اورمیڈیا کی ایک آنکھ

منظر ملاحظہ فرمائیں، ایک شہر میں لوگ احتجاج کررہے تھے، ان کا غصہ عروج پرتھاجوکہ آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا، ان کا بس نہیں چلتاتھاکہ وہ ہر شئے کو تہس نہس کردیں ، کسی بھی آفت سے نبٹنے کے لیے پولیس بھی ایک طرف تیار کھڑی تھی، جب لوگوں کا غصہ آتش فشاں بن چکا تو انہوں نے توڑپھوڑشروع کردی ، املاک کو نظرآتش کرنے لگے، یہ دیکھ کر پولیس حرکت میں آئی ،لوگوں کو وارننگ دی کہ حقوق کے لیے احتجاج ضرورکریں مگر دوسرے لوگوں کے حقوق کا خیال رکھیں مگر لوگ بپھرے ہوئے تھے ، انہوں نے پولیس کی یہ وارننگ ایک کان سے سنی اور دوسرے سے باہر نکال دی، اب مجبوراً پولیس نے لاٹھی چارج شروع کیا،جب حالات پھر بھی قابو میں نہ آئے تو شیلنگ شروع کردی، جب ’’ریٹنگ ‘‘کا سامان وافر مقدار میں مہیا ہو گیاتومیڈیا بھی آپہنچا،شام کو خبر کچھ اس طرح آرہی تھی ’’ نہتے اور معصوم شہریوں پر پولیس کا وحشیانہ تشدد‘‘ معاملہ آیا گیا ہو گیا ، کچھ دن بعد پھر احتجاج ہوا، اب کہ پولیس نے لاٹھی چارج کیااور نہ ہی آنسوگیس کی شیلنگ ، لوگ من مانی کرتے رہے ، عوام کا نقصان ہوا، املاک کو آگ لگائی گئی ، کئی دکانیں اور گاڑیاں بھی احتجاج کا شکاربنیں ،اب کی بارمیڈیا نے خبر کچھ یوں دی ’’ شرپسندتباہی کرتے رہے اورپولیس خاموش کھڑی تماشا دیکھتی رہی ‘‘۔
دوسرا منظر ملاحظہ فرمائیں ، ایک دفعہ سیر کے لیے شمالی علاقہ جات کی طرف جانا نصیب ہوا، کافی لوگ موجود تھے ،کچھ لوگ تصاویر بنارہے تھے ، کچھ خوش گپیوں میں مصروف تھے،نماز کا وقت آیا تو کچھ اللہ والوں نے وہیں مصلّیٰ بچھایااورنماز کی ادائیگی میں مصروف ہو گئے ، اچانک رپورٹنگ کے لیے کچھ چینل بھی آموجود ہوئے ، جب کیمرے آن ہوئے تو کچھ نوجوان جوش میں آئے اور انہوں نے کیمروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ناچ گاناشروع کردیا ، کیمروں نے باقی لوگوں کو چھوڑ کر ان ’’من چلوں ‘‘کو فوکس کیا ، شام کو جب ٹی وی لگایاتو خبر اس طرح آرہی تھی’’ قدرت کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہوتے نوجوانوں کا والہانہ انداز ، رقص اور ناچ نے ان علاقوں کی رونق بڑھادی ‘‘۔
تیسرا منظر ملاحظہ کریں ، ایک دفعہ ایک ’’مافیا‘‘نے کچھ اشیاء شہر سمگل کرنا تھیں، پہلے ناکے پرایک بندے نے اس کے بدلے کچھ ’’نذرانہ ‘‘ وصول کیا اور انہیں آگے جانے کی اجازت دے دی، اس بات کو ایک چینل نے محفوظ کرلیا ، اب اس مافیا کی بدقسمتی کہ اگلے ناکے پر ایک سخت گیر پولیس والا کھڑاتھا، اس نے سامان کوآگے نہ جانے دیا اور یوں مالک کو مال سمیت گرفتارکرلیا، شام کو چینل خبردے رہاتھا’’ پولیس تو’’کچھ ‘‘لے ’’کچھ‘‘ بھی لے جانے کی اجازت دے دیتی ہے ‘‘۔
آپ ان مثالوں کو سامنے رکھ کر جواب دیں کہ کیا واقعی میڈیا اپنا حق صحیح اداکررہاہے ؟ نہیں بلکہ میڈیا کو ملک کی پروا(پرواہ غلط ہے)اورنہ ہی کسی کی عزت کی ، انہیں صرف ریٹنگ سے واسطہ ہے، پہلے منظر میں ریٹنگ کے لیے عوام ’’معصوم ‘‘تھے مگر دوسری بار وہی معصوم عوام ’’ شرپسند ‘‘ بن گئے ، کیونکہ بات ریٹنگ کی تھی ، دوسرے منظر میں تصویر کا صرف وہی رخ نظر آیاجس میں ناچ گانا تھاکیونکہ اس طرح جدت اور ماڈرن ازم کا ڈھنڈورا پیٹنا تھااور کچھ مخصوص ’’ایریاز‘‘ کو یہ پیغام دینا تھاکہ ہم روشن خیال ہیں ، یوں تصویر کادوسرارخ نظر نہ آیا کیونکہ لوگوں کو نماز پڑھتے دکھاناشاید ان ’’ایریاز‘‘ کو ناراض کرجاتااور چینل پر بھی اسلامک فوبیاکا لیبل لگ جاتااور یوں اشتہار ات کا بھی مسئلہ پیدا ہوجاتا، اسی طرح تیسرے منظر میں رشوت لیتا پولیس اہلکار تو نظرآگیامگر ایمانداری سے ڈیوٹی دیتا ہوا بندہ نظر نہ آیا ، کیا میڈیا کا یہی کام ہے ؟ صرف منفی تأثر کو معاشرے میں ابھارنا اور اسی کی تشہیر کرناہی میڈیا کی ذمہ داری ہے ؟ یا پھر تصویر کے دونوں رخ عوام کے سامنے رکھنا ہی حقیقی صحافت کا تقاضا ہے ؟ اسی طرح آج سے کچھ عرصہ پہلے کچے کے علاقے میں چھوٹو گینگ کے خلاف پولیس نے ایک آپریشن شروع کیا مگر بات نہ بنی ، آخرکار فوج کو میدان میں آنا پڑا ، جب پولیس کو واپس بلایا جارہاتھاتو ایک چینل نے یہ ہیڈلائن نشرکی ’’ کچے کے علاقے میں پولیس کا کچا آپریشن ختم ‘‘ یوں ایک بار پھر منفی پہلو کو ابھاراگیا، حالانکہ دیانتداری کا تقاضا تھاکہ دیکھاجاتاکہ کیا پولیس کے پاس ٹینک تھے، ایئرکرافٹ گنیں تھیں ، ہیلی کاپٹر تھے اوربمباری کے لیے دوسرا سامان تھا؟ اگر نہیں توپھر مقابلے میں ان تمام ہتھیاروں سے لیس چھوٹوگینگ کا مقابلہ بے سروسامانی کی حالت میں کیسے کیا جاتا؟
ہمارے میڈیاکو یہ احساس کرنا ہوگا کہ آج کے دور میں معاشرے کی تشکیل میں اس کا کردار کلیدی ہے ، وہ ابلاغ کا ایک مؤثر ذریعہ ہے ، پس میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں اچھی اقدار کو فروغ دینے میں اپنا کردار اداکرے ، مثبت باتوں کو اچھے بیانیے میں جبکہ برائی کو منفی بیانیے میں نشر کرے ، عوام میں فرض شناسی کا شعور بیدارکرے ، تصویر کے دونوں رخ واضح کرے اور پھر ترجیح مثبت پہلو کو دے ، اگر یہ نہ ہوسکے تو کم از کم صحیح اورغیرجانبدار رپورٹنگ کرے، خود ہی تھانیدار، مدعی ، وکیل اورجج بننے کی کوشش نہ کرے ، کیونکہ اگر ایساہوگا توپھر’’تنگ آمد بجنگ آمد ‘‘ بھی ہوگا ، اوریوں تھپڑ بھی پڑسکتا ہے ، اگر اس تھپڑ سے بچناہے توپھر تھانیداری ، مدعیّت ، وکالت اور منصفی سے بچناہوگااور صرف اورصرف رپورٹنگ کرنا ہوگی اور وہ بھی غیرجانبداراور دونوں رخ کی عکاس رپورٹنگ، کیا ایسا ہوسکتاہے کہ ہم ہر بات میں ’’مرچ مسالہ ‘‘ لگانا چھوڑدیں اورہرخبرمیں مرضی کا رنگ بھرناترک کردیں؟ ہاں ! ہو تو سکتا ہے مگر ؟

About Admin

Google Analytics Alternative