Home » کالم » توبہ کرلینی چاہیے
Mian-Tahwar-Hussain

توبہ کرلینی چاہیے

 

Mian-Tahwar-Hussain

چھ جولائی شام چار بجے کا وقت بہت اہمیت اورتاریخی بن گیا کیونکہ ایک معروف سیاستدان نے جو جال بنا تھا وہ اس میں خود ہی پھنس گیا ، ملکی دولت کو لوٹ کر غیر ممالک میں جائیدادیں بنانے والا ایک ٹولہ قانون کی گرفت میں آگیا ۔ شکر ہے کرپٹ سیاستدانوں کو قانون کے آہنی پنجوں میں لانے کا سلسلہ شروع ہوا ، عوام اسی دن کے انتظار میں تھے کہ انہیں لوٹنے والوں کا احتساب ہوتا ہوا نظر آئے ۔ سترسالوں سے ان ڈاکوؤں کو گرفتار کرنے کا خواب طویل سے طویل تر ہوتا جارہا تھا تعبیر تو ایک دن ملنا ہی تھی ۔ یہ سلسلہ یہیں رکنا نہیں چاہیے ابھی تو سوئس بینکوں میں جمع دولت کو بھی واپس لانا ہے سرے محل کا حساب بھی چیک کرنا ہے ہزاروں ایکڑ زمین اپنے نام کرنے والوں کے گریبانوں پر بھی ہاتھ ڈالنا ہے۔ دبئی اور انگلینڈ میں جائیدادیں بنانے والوں کے چہروں سے نقاب سرکنے کا وقت آچکا ہے، قوم نے سکھ کا سانس لیا ۔ اعصاب شکن انتظار کے بعد اچھی خبر سننے کو ملی ۔ 174 صفحات پر مشتمل فیصلہ تاریخ میں رقم ہوچکا۔ اگرچہ اس وقت لوگوں کے ملے جلتے تاثرات ہیں لیکن مجموعی طورپر لوگ مطمئن ہیں کہ احتساب کا عمل ہمارے ملک میں شروع توہوا ۔ موروثی سیاست کے ساتھ ساتھ موروثی کرپشن بھی پھل پھول رہی ہے جسکا بروقت تدارک بہت ضروری ہے۔ کہاجاتاہے بدطنیت شیطان نما انسان کا پیٹ تو بھر جاتا ہے لیکن نیت نہیں بھرتی۔ یہی حال ان چند سیاستدانوں کا ہے جو پاکستان کے عوام کا خون چوس کر غیر ممالک میں بسیرا کرلیتے ہیں ۔ یہ ڈریکولا قسم کے بھوت دوست بن کر ملکی دولت کو چاٹتے ہیں اور پھر نظروں سے غائب ہو جاتے ہیں اپنی اولادوں کی تربیت بھی اسی انداز میں کررہے ہیں، عمران خان نے صحیح کہا کہ بلاول جس نے ایک انچ زمین بھی پیدل چل کر نہ دیکھی اسے لوگوں کے دکھ تکلیف اورغربت کا کیا احساس ہوگا ۔ کیا پاکستان ایک تجربہ گاہ ہے کہ چند سرمایہ دار سیاستدان پہلے خود پھر انکی اولادیں حکمرانی کے داؤ پیچ سیکھتی رہیں ۔ عوام دن بدن معاشی بدحالی کا شکار ہوتے جارہے ہیں ، پٹرول ، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ان پر ایٹم بن کر گرتا ہے ۔ موجودہ صورتحال کسی تبصرے کی محتاج نہیں۔ سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے منشور میں اب واضح تبدیلیاں کی ہیں تعلیم صحت پینے کا صاف پانی معاشی ترقی کے مواقع اب ترجیح اختیار کررہے ہیں بائیس سال کی طویل سیاسی جدوجہد کے بعد پی ٹی آئی تیسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری ۔ تضحیک اور تذلیل کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری رابرٹ بروس کی کہانی کے کردار کی طرح یہ اپنے کام میں لگے رہے۔ اگرچہ پاک صاف لوگوں کی جماعت یہ بھی نہیں لیکن دوسری جماعتوں کے مقابلے میں اس کا دامن چھلنی نہیں۔ احتساب کا عمل اب رکنا نہیں چاہیے۔ ایک جماعت نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کو اس معاملے سے گزارنے کی ضرورت ہے۔ بہت لوٹ مار ہوچکی ملک قرضوں کی دلدل میں دھنستا جارہا ہے ، ہم سے علیحدگی اختیار کرنے والے مشرق حصے نے جواب بنگلہ دیش کہلواتا ہے اتنی معاشی ترقی کرلی کہ اسکے ریزرو ہم سے کہیں زیادہ ہیں ۔ اسکی مصنوعات کی منڈیاں ہم سے کہیں بہتر ہیں ۔ کوریا، چین، ملائشیاء ہم سے کہیں آگے نکل چکے ۔ چین نے امریکی معیشت کو للکار رکھا ہے۔ ہم کشکول ہاتھ میں تھامے قرضوں کے نوش فرمانے میں مصروف ہیں ۔ روپے کی قدر اتنی تیزی سے گر رہی ہے کہ عام انسانوں کی زندگی کو معاشی خطرات لاحق ہونے کا اندیشہ ہے ۔ ملکی قرضوں میں اضافہ ایک الگ موضوع ہے گرے لسٹ سے ہم کہیں بلیک لسٹ میں نہ ڈال دئیے جائیں یہ حساس نوعیت کا مسئلہ ہے۔پانی کی قلت اور آب رسانی الگ کہانی ہے۔ آج تک جتنی بھی حکومتیں معرض وجود میں آئیں انکے ادوار میں زیادہ تر ملکی ترقی کاغذی اعدادوشمار کی زینت تو بنتی رہی لیکن دس دس سال حکومت میں رہنے کے باوجود ان سے ملک کی تقدیر بدل نہ سکی ۔ غربت دن بدن بڑھتی رہی ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز تر نہ ہوسکی۔ لوٹ مار کابازار گرم رہا ، اب عوام بھی باشعور ہوچکے ہیں وہ خودووٹ کے ذریعے احتساب کا عمل اور پھر نتائج سامنے لائیں گے ۔ سیاسی برجوں کے الٹنے کا وقت قریب سے قریب تر ہوتا جارہا ہے امید رکھنی چاہیے آنے والا وقت ملک ، ملت کیلئے بہتر ہوگا ۔ نواز شریف کی عدالتی سزا پر جشن منانے والوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ایک دن انہوں نے بھی جواب دینا ہے۔ کوئی عوامی نمائندہ احتساب کے عمل سے بچ نہیں سکے گا ۔ اب عوام باشعور ہیں انہیں بیوقوف بنانا آسان نہیں۔ بدی کیونکہ پرکشش ہوتی ہے لہٰذا اکثر لوگ اس میں بہت آسانی سے گرفتار ہو جاتے ہیں یہی حال ان عوامی سیاست دانوں کا ہے پیسہ انکی کمزوری اور سیاست انکے لئے انوسٹمنٹ کے مواقع پیدا کرتی ہے ۔ سیاست انڈسٹری بن چکی ، عوامی خدمت کی آڑ میں سیاست دان پیسہ بے دریغ خرچ کرکے پیسہ کماتے ہیں یہ ان کا پیشہ بن چکا ہے ، کامیابی کے بعد وہ عوامی نہیں بلکہ خاص انحاص بن جاتے ہیں پھر نہ عوام یاد آتی ہے اور نہ ہی خدمت ، اپنے سیاسی منشور کو بھی وہ لپیٹ کر طاق کی زینت بنا دیتے ہیں عوام سے انکا تعلق اس وقت تک رہتا ہے جب تک انہیں ووٹ نہیں مل جاتا ۔ پھر تو کون اور میں کون کا دور شروع ہو جاتا ہے، عوام کو چاہیے اب وہ ذمے داری سے ایماندار محنتی اور پاکستان سے حقیقی معنوں میں محبت کرنے والے نمائندوں کا انختاب کریں تاکہ قومی اسمبلی چور ڈاکوؤں اور لٹیروں سے پاک ہو۔ ملکی ترقی خوشحالی اور عوام کی بنیادی سہولتوں کیلئے قانون سازی ہو معاشی ترقی ہو معاشرتی تحفظ قائم ہو۔ امید ہے آنے والا وقت بہتر دور ہوگا ۔کاش مٹی سے بنا یہ انسان جو میں میں کی رٹ لگاتا رہتا ہے یہ سمجھ جائے کہ عارضی زندگی دائمی نہیں اگر اللہ نے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ ذاتی خدمت کی بجائے عوامی خدمت کی جائے سیاست پھر عبادت بن جاتی ہے ورنہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اس طرح برستی ہے کہ جان مال عزت سب کچھ خطرے میں محسوس ہوتا ہے ۔ نواز شریف کو ٹھنڈے دل دماغ سے تنہائی میں یہ سوچنا چاہیے کہ اس سے کیا کیا غلطیاں سرزد ہوئیں یہی وقت ہوتا ہے کہ اگر انسان کویاد آجائے کہ کامیاب ہونے کیلئے اس نے کتنے جھوٹ بولے کتنے فریب کیے کتنی لوٹ مار کی تو اسے توبہ کرلنی چاہیے اللہ قبول کرنے والا ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative