Home » تازہ ترین » تیزگام ایکسپریس میں آتشزدگی، 74 مسافر جاں بحق اور 90 زخمی

تیزگام ایکسپریس میں آتشزدگی، 74 مسافر جاں بحق اور 90 زخمی

کراچی سے لاہور اور راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی کے باعث 74 افراد جاں بحق جب کہ 90 سے زائد زخمی ہوگئے۔

کراچی سے لاہور اور راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں آگ بھڑک اٹھی۔ حادثہ رحیم یار خان میں ٹانوری اسٹیشن چک نمبر 6 چنی گوٹھ کے قریب پیش آیا اور زیادہ تر جاں بحق افراد کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے جو اجتماع میں شرکت کے لیے رائیونڈ جارہے تھے۔

آگ کے شعلوں نے 3 بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے باعث 74 افراد آگ سے جھلس کر جاں بحق اور 90 سے زائد افراد زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ متعدد زخمیوں کی حالت نازک ہے۔

ڈپٹی کمشنر جمیل احمد نے بتایا کہ تیز گام ٹرین کی ایئرکنڈیشنڈ اور بزنس کلاس کی تین بوگیوں میں آتشزدگی ہوئی جن میں 209 مسافر سوار تھے، متعدد لاشیں ناقابل شناخت ہوگئی ہیں۔

آگ گیس سلنڈر پھٹنے سے لگی

ریسکیو ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر آگ تبلیغی جماعت کے مسافروں کا گیس سلنڈر پھٹنے سے لگی۔ حادثے کا شکار اکانومی کلاس کی دو بوگیاں امیر حسین اینڈ جماعت کے نام سے بک کی گئی تھیں۔

ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے امدادی آپریشن کیا گیا جس میں پاک فوج کے دستے بھی شریک تھے جبکہ خان پور، لیاقت پور اور ریلوے پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔

شیخ رشید

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے بتایا کہ تیز گام ایکسپریس کو حادثہ کراچی سے راولپنڈی جاتے ہوئے پیش آیا، آگ ٹرین کی اکانومی کلاس میں گیس سلنڈر پھٹنے سے لگی جب کہ مسافروں نے ٹرین سے کود کر جانیں بچائیں۔

اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

حکام کے مطابق مسافر ٹرین میں آگ لگنے کے افسوس ناک حادثے کے بعد ضلع بھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ ریسکیو 1122، پولیس، فائر بریگیڈ، سمیت دیگر امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا جب کہ حادثے میں متاثرہ زخمیوں کو ٹی ایچ کیو لیاقت پور، آر ایچ سی چنی گوٹھ اور بہاولپور وکٹوریہ اسپتال منتقل کیا گیا۔

15 لاکھ روپے معاوضہ

ریلوے انتظامیہ حادثہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو انشورنس کی مد میں 15 لاکھ روپے دے گی جبکہ زخمی ہونے والوں کو 50 ہزار روپے سے 3 لاکھ روپے تک دیے جائیں گے۔

صدر، وزیر اعظم سمیت ورلڈ بینک کے صدر کا بھی اظہار تعزیت

وزیراعظم عمران خان، صدر مملکت عارف علوی، پاکستان کے دورے پر آئے ورلڈ بینک کے صدر ڈیوڈ میل پاس سمیت حکومتی اور دیگر سیاسی شخصیات نے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

گریڈ 21 کے وفاقی انسپکٹر آفیسر مقرر 

چیئرمین ریلوے سکندر سلطان کے مطابق گریڈ 21 کے وفاقی انسپکٹر دوست علی لغاری کو تحقیقاتی آفیسر مقرر کردیا گیا ہے جو جائے حادثہ پر تمام شواہد اکٹھے کرکے وزیراعظم کو رپورٹ پیش کریں گے۔ چیئرمین ریلوے  نے بتایا کہ تحقیقات کے لیے دیگر افسران کو بھی جائے حادثہ پر روانہ کردیا گیا ہے۔

نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج

ٹرین گارڈ محمد سعید کی مدعیت میں مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، مقدمہ نمبر 19/46 کا اندراج تھانہ ریلوے پولیس خان پور ملتان ڈویژن میں کیا گیا ہے جس میں زیر دفعہ 126 ریلوے ایکٹ اور 436,427 تعزیرات پاکستان کی دفعات درج ہیں۔

سانحے کی ابتدائی تحقیقات مکمل

پاکستان ریلوے پولیس نے سانحہ کی ابتدائی تحقیقات مکمل کرلیں جس کے مطابق واقعہ کی بنیادی وجہ گیس سلنڈر پھٹنا ہے تاہم مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی بات سامنے آئے گی۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی ہدایات ہر آئی جی ریلوے پولیس واجد ضیاء نے تحقیات کو جلد از جلد مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative