Mian-Tahwar-Hussain 4

تے فیر چاپیءو

میرے چند دوستوں نے 2اکتوبر کوپاکستان اخبار میں شالا خیر تھیوے کے عنوان سے کالم پڑھا توفون پر کہنے لگے میاں صاحب آپ نے بھی جھولی چک کالم نویس بننے کی کوششیں شروع کردیں میں نے جواباً عرض کیا بھائی آپ دوستوں کو جن کے ساتھ عمر کا بیشتر حصہ گزارا ہے انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ میں ہمیشہ دوسروں میں خامیاں نہیں تلاش کرتا بلکہ اچھی بات کو اچھا اوربری بات کو منہ پر برا کہنے والاہوں ۔ من حیث القوم ہمارا کام دوسرو ں میں خامیاں تلاش کرنا ہی ہے ۔ کسی کے اچھے کام پر اگر تعریف کرنا ہو تو دندل پڑ جاتی ہے اور اگر برا کہنا ہوں تو زبان بتیس دانتوں کے قابو میں نہیں رہتی ۔ تبصرہ کرنے والوں کو اپنی تحریر میں توازن ضرور رکھنا چاہیے ۔ گزشتہ حکومتوں کے اچھے کاموں کو ضرورسراہا لیکن کرپشن پر میں نے دل کھول کر بھی لکھا ۔ کسی بھی سیاسی جماعت کی طرف میری تحریر کاجھکاءو نہیں رہا ۔ لکھنے والوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے وہ رائے عامہ ہموارکرنے والے ہوتے ہیں اس لئے درباری لکھاری بننے کی بجائے عوامی لکھاری بننا چاہیے عوام کے مسائل حکومت وقت تک پہنچانا نہ صرف اسکا صحیح معنوں میں تجزیہ کرنا بلکہ اپنی رائے کا اظہار بھی ضروری ہوتا ہے ۔ یہ ذمے داری ہرلکھاری کی ہے اور پھر ہر شخص کی سوچ کا اندازہ مختلف ہے کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے آپ کو کسی خاص جماعت کے ساتھ منسلک کرلے اورہر کام پر تعریف کے ڈونگرے برساتا رہے ۔ بہرحال اپنی اپنی سوچ کا انداز ہے ۔ موجودہ حکومت کرپشن کے خاتمے کیلئے کوششوں میں مصروف ہے لیکن کرپٹ افراد کے گرد گھیرا تنگ کرنے سے رشوت کے ریٹ میں اضافہ بھی ہوگیا ہے ۔ ابھی تک تبدیلی کے اثرات واضح طورپرسامنے نہیں آسکے کچھ تو ناتجربہ کار وزراء کی کارکردگی جو قطعی طورپر تسلی بخش نہیں رہی اور پھر یہ کہ کئی وزارتوں میں سیکرٹری تعینات نہیں کیے گئے ایڈیشنل چارج کے ذریعے کام چل رہا ہے اسی طرح دیگر ماتحت اداروں کا بھی یہی حال ہے ۔ سرکاری دفاتر میں جب تک تجربہ کار سربراہ نہیں لگائے جاتے انکی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہوسکتی ۔ بیورو کریسی دلجمعی سے کام نہیں کررہی کیونکہ انہیں یہ خوف ہے کہ اگر وہ اپنے اختیارات کے ذریعے کام کریں گے یا فیصلے تحریر کردیں گے تو کہیں نیب ان کے پیچھے نہ پڑ جائے جن وزارتوں میں برانڈ نیو وزراء ہیں ان کو پالیسی سازی کا تجربہ نہیں وہ تو سیکرٹری کے رحم کرم پر ہوں گے اور اگر سیکرٹری وزیر کو کسی غیر قانونی کام سے روک دے تووہ یہ سمجھتا ہے کہ سیکرٹری کی جراَت کیسے ہوئی کہ وزیر کوڈکٹیٹ کرے ۔ لہذا سیکرٹری کی تبدیلی ناگزیر ہے ۔ یونس ڈھاگا جیسے قابل ایماندار محنتی سیکرٹری کا حال یہ ہے کہ اس نے قبل ازوقت ریٹائرمٹ کیلئے اپلائی کردیا اسکی قابلیت اور صلاحیتوں سے ہم کوئی فائدہ اٹھانے کے موڈ میں نہیں ۔ ایف آئی اے کے بشیر میمن کا بھی یہی حال ہوا وہ اب گھر بیٹھا ہے ان کے علاوہ کئی ہیں جو گمنام رہنا زیادہ پسند کررہے ہیں ۔ بیورو کریسی حکومت کی پالیسیوں سے نہ تو مطمئن ہے اور نہ ہی بلا خوف و ہراس کام کررہے ہیں ، مہنگائی کا جن قابو سے باہر ہے ابھی تک حکومت اس پر قابو نہیں پاسکی ۔ بجلی کی قیمت میں اضافے سے اور پٹرول ، ڈیزل کی ڈیمانڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کا مناسب تعین نہ ہونا بھی مہنگائی کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے عوام کی مہنگائی کیوجہ سے سانس بند ہونے کے قریب ہے ۔ ہر دور کی حکومت نے یہی دعویٰ کیا کہ ان سے پہلے کی حکومتوں نے ملک کی معاشی حالت کا برا حال کردیا ، اسکو سدھارنے کیلئے وقت لگے گا ۔ سات دہائیوں سے یہی کچھ سننے کو مل رہا ہے لیکن ملک کی اور لامحالہ عوام کی معاشی حالت ہر آنے والے دن میں کمزور سے کمزور ترین ہوتی چلی گئی ۔ اب تو ہر شہری نے اس تبدیلی کو کوسنا شروع کردیا ہے ۔ وزیراعظم کو تو صرف اعدادوشمار ہی سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں انہوں نے خود تو شاپنگ بیگ ہاتھ میں لیکر گھر کا سودا خریدنے کیلئے مارکیٹوں میں نہیں جانا پیسے والوں کو تو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ مہنگائی کس شے کا نام ہے ۔ ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم ہے ۔ سرکاری زمینوں پر قبضے سرکاری اہلکار ہی کرواتے ہیں اور ماہانہ بھتہ وصول کرتے ہیں ۔ اسلام آباد کی مارکیٹوں کو دیکھ لیں یا نرسریز والوں کوچیک کرلیں انہیں اگر چند گز زمین برائے نرسری دی جاتی ہے تو وہ کچھ ہی عرصے میں نرسری اتنی پھیلا دیتے ہیں کہ چار کنال تک تو کم سے کم کہہ لیں زیادہ سے زیادہ انکی ہمت اور سرکاری اہلکاروں کے تعاون کی گیم ہے ۔ اسی طرح ریلوے کی زمین پر قبضہ عام بات ہے ۔ ملاوٹ ، ذخیرہ اندوزی کے ناسور اپنی جگہ بدبو پھیلا رہے ہیں ۔ اخلاقیات نام کی کوئی چیز معاشرے میں نہیں ۔ کچھ ہی عرصہ پہلے پولیس ریفارمز کی بات ہورہی تھی ۔ کے پی کے کی پولیس کا چرچہ تھا مثالی پولیس بن گئی پھر کمیٹی نے جو سفارشات دیں ان پر عملدرآمد نہ ہوسکا ۔ پورے پاکستان کی پولیس کی یونیفارم سے لیکر قوانین تک ایک ہونے چاہئیں ۔ اسی طرح تعلیم کا سسٹم ہر صوبے میں الگ ہے مدارس کے بچے مین سٹریم سے باہر ہیں تعلیمی نظام اور نصاب ہر صوبے میں ایک ہی ہو بچوں کی یونیفارم بھی ایک ہونی چاہیے ۔ کس کس چیز کا رونا رویا جائے ہمارے ملک کے مسائل الجھے ہوئے دھاگے کی طرح ہیں جسکا کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا ۔ تحریک انصاف کی حکومت جس سے لوگوں کی امید بندھی ہیں مایوسی کی طرف جارہی ہے ۔ تاجر برادری ، وزارت تجارت ، وزارت خزانہ کے وزیروں ، مشیروں سے ملنے کی بجائے چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملنے پر مجبور ہوئے ۔ لوگ اب کیوں آرمی کی طرف دیکھ رہے ہیں ان کو مسائل سے آگاہ کررہے ہیں ۔ آرمی چیف نے بھی تو وزیراعظم سے ہی بات کرنا ہے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کا مشورہ دینا ہے ۔ آرمی براہ راست تو کچھ نہیں کرسکتی انہیں اس وقت صرف سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے سرحدوں پر خصوصی طورپر بھارت سے جوکشیدہ تعلقات ہیں ان پر نظر رکھنی ہے انہیں دوسرے کاموں میں گھسیٹنا درست نہیں سول حکومت اگرملکی مسائل کو حل نہیں کرسکتی تو پھر فوجی حکومت بہتر ہے ۔ ملک کیلئے ان کی خدمات ترقی معاشی پالیسیاں تاریخ کا حصہ ہیں سیدھے سادے الفاظ میں یوں کہیے فوجیوں نے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں شب و روز محنت کی ایوب خان ، ضیاء الحق اور مشرف کے ادوار کو ذہن میں لائیں تو سول حکومتوں کی کارکردگی مایوس کن لگتی ہے ۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے اگرچہ اچھے بھی کام کیے لیکن مجموعی طورپر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کرپشن بھی عروج پر رہی جسکا خمیازہ قوم اب بھگت رہی ہے ۔ ہمارے رونے سے کچھ بنے گا نہیں نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے ۔ مجھے حضرت واصف علی واصف ;231; کا ایک واقعہ یاد آگیا آپ کو بھی سناتاہوں ۔ ’’ ان سے ایک صاحب ملنے کیلئے آئے اور کچھ ہی دیر بعدبہت سنجیدہ اور متفکر لہجے میں کہنے لگے واصف صاحب ملکی حالات بہت خراب ہیں خطرات منڈلارہے ہیں معاشی طورپر ملک بہت کمزور ہوتا جارہا ہے ۔ آپ ان صاحب کو باتیں سنتے رہے ۔ پوچھا چائے پیءو گے اثبات میں جواب پر آپ نے چائے منگوالی اور پھر گویا ہوئے بھئی یہ حالات تم نے خراب کیے ہیں وہ صاحب بولے نہیں پھر کہنے لگے ان برے حالات کو تم ٹھیک کرسکتے ہوں وہ صاحب بولے نہیں واصف صاحب نے فرمایا ’’ تے فیر چاپیءو‘‘ ۔ یہی حال ہمارا ہے ملکی حالات پر لکھتے لکھتے تھک گئے ہیں کچھ فرق نہیں پڑ رہا بس اب چائے ہی پی رہے ہیں ۔ اللہ کرے ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ ملک ترقی کی راہ پر چلتے ہوئے ویلفیئر سٹیٹ بن جائے ۔ چلئے اتنا تو ہے کہ اب حکومت وقت کو احساس ہے کہ ملک سنوارو کی سوچ غالب ہونی چاہیے بے خبر زندگی میں باخبر ہوجانا منزل کا احسان اول ہوتا ہے ۔ ہمارے حکمران خود کو گریٹ لیڈر کے طورپر منوانے کی دوڑ میں لگے رہے گریٹ وہ ہوتا ہے جسے اللہ بنائے پھر اس میں تحمل مزاجی ہوگی اور جو خود ساختہ گریٹ ہوگا وہ بڑا مفرور ہوگا اس طرح جہنم کا ایندھن بننے کا خطرہ ہوتا ہے جو ہمارے لیڈر ملک کی دولت لوٹ کر بیرونی دنیا میں مسکن بناتے ہیں وہ پاکستان کے وفادار نہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں