Home » کالم » جدید پاکستان ، نوجوانوں کا کردار اور فکر اقبال

جدید پاکستان ، نوجوانوں کا کردار اور فکر اقبال

اکستان کا خیال اقبال;231; کے ذہن میں کیوں آیا ;238; جیسے کہ اقبال;231; عالم اسلام کے مفکر جن کو لا الہٰ کے ذریعے جواب مل جاتا ہے، دو قومی نظریے کا خیال آیا ۔ جس میں ہندو اور مسلمان دو الگ قو میں ہیں ۔ ایک میان میں دو تلواروں والی بات تھی ۔ جب قرآن اس قدر واضح تصور سیاسست پیش کرتا ہے ، نظریہ قرآن کو عملی طور پر الگ ریاست میں احکام الہٰی کے تحت نافذ کیا جاسکتا ہے ۔ ہندو اکثریت کی غلامی بمنزلہ موت کے ہے ۔ ایسی زمین کا ٹکڑا جہاں مسلمان اللہ کی حاکمیت کے تحت اس مملکت کا احیاء کریں گے ۔ جہاں وہ اپنے افکار اور احکام دین کے مطابق زندگی بسر کریں گے ۔ قیام پاکستان کا تصور کرہ ارض میں ہمارے دین کی بنیاد ہے ۔ اس وقت اسلام ہی واحد دین ہے ۔ باقی سب مذاہب ۔ جہاں مذاہب ہوں گے وہاں تاریکی ، توہمات، باطل تصورات ہونگے ۔ مولانا آزاد عالم اسلام میں معروف مقرر اور مذہبی عالم تھے ۔ حسین مدنی دیوبند کے ممتاز عالم تھے مگر انہوں نے ہندو یعنی باطل کے ساتھ مصالحت کی بلکہ انکے آلہ کار بن گئے ۔ علامہ اقبال کے ان افکار اور قائداعظم کو عوامی جلسوں میں کافر، کہہ کر بدنام کرنے کا پروپیگنڈا چلایا بلکہ آخر میں حسین مدنی نے اقبال کے تصور کو زائل کرنے کے لئے قو میں اوطان سے بنتی ہیں ‘‘ کے پمفلٹ بانٹا شروع کئے ۔ یعنی ہندوستان ہم سب کا وطن ہے ۔ اس میں ہندو اور مسلم دونوں ایک ہی قوم ہیں ۔ یعنی رام اور رحیم دونو ں ایک ہیں ۔ آپ غور کیجئے کہ یہ ایک گمراہ کن صدا تھی جس پر علامہ اقبال نے ایسا جواب دیا کہ مولانا معافیوں پر اترآیا ۔

ملاُ کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

بحر حال نو جوانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان کسی دیوانے کا خواب نہیں ۔ اس کا مقصد اور نصب العین نہایت مقدس اور پاکیزہ ہے ۔ یہ درست ہے کہ اب تک پاکستان نے ان نظریات کا جامہ نہیں پہنا ۔ مگر یہ خوش قسمتی کیا کم ہے یہاں کے مسلمان ہندوستان کے مسلمانوں یا کشمیر کے مسلمانو ں کی نسبت آزاد فضا میں جی رہے ہیں ۔ ہمارا سیاسی نظام اپنے مفا د پرست ٹولے کے شکنجے میں ہے باطل اور حق کی اس آویزش میں دنیا کی کئی قو میں اُبھری ہیں اور آج انکی اپنی شاخت ہے ۔ امریکہ کو تین سو سال لگے خانہ جنگی میں اور بد ترین حالات سے ۔ چین ہمار ا پڑوسی ہے ۔ جاپان یا مغربی ممالک ۔ تاریک دور سے گزر کر آج ترقی کی راہ پر گامزن ہیں ۔ لیکن جن قوموں کی مثال دی جار ہی ہے انکے پاس تحریک کا سبب وطن پرستی تھا ۔ پاکستان اسلام کے تحت معرض وجود میں آیا ۔ عالمی سطح پر اور ہمارے اپنے مسلمان بھی اس نظریے کی مخالفت کر رہے تھے کیونکہ جب خدا کی حاکمیت کی بات ہوئی جسکا آئین قرآن ہے ۔ نافذالعمل ہوگا تو یہ تاریکیاں فنا ہو جائیں گی ۔ اقبال کے کلام کا مرکزی فلسفہ، خودی ہے ۔ خودی وہ توانائی ہے جو صرف نوجوان میں پائی جاتی ہے ۔ اقبال نے اپنے اس فلسفے کی تکمیل کے لئے نوجوان کا انتخاب کیا ہے یہ قرآن کا وہ کردار ہے جسے اقبال نے خودی کے ذریعے متشکل کرنا چاہا ۔ خودی دراصل وہ صفت یا کردار ہے جس سے پہچان ذات، معارف ذات ، انفرادیت ، شخصیت ، سچائی اور حق کے لئے کوشاں کردار ، عادل منصف، ذمہ دار ، مایوسی کا دشمن اپنی زندگی کو نظم و ضبط سے گزارنے والا ۔ ہر وقت متحرک رہنے والا ۔ بلند مقاصد سے لیس’’ خیرالناس‘‘ کا ترجمان ، عمل پسند، مستقبل پسند، ماضی سے کسی قسم کی تصوراتی وابستگی نہ رکھنے والا ۔ اللہ کی حاکمیت پر ایمان رکھنے والا ۔ قرآن میں غور و فکر کرنے والا ۔ وہاں سے اللہ کی نگہبانی لینے والا اور اسکو اپنی زندگی میں نافذ کرنے والا اور اسکا دائرہ عالمگیر انسانیت تک پھیلانے والا ۔ خود احتسابی کے عمل سے گزرنے والا ۔ علوم اور سائنس میں محقق بن کر ارتقاء سے گزرنے والا ،جدید تصورات کےساتھ ساتھ دین کے اخلاقی نظا م کا پابند رہنے والا ۔ محکوموں ، غلاموں اور یتیموں کا آسرا ۔

ان صفات کو حاصل کرنےوالے نوجوان کو مومن کہتے ہیں ۔ اقبال نے ہر اُس نوجوان کیلئے ہی پیغام دیا ہے ( ایک نوجوان کے نام )

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

توُ شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

جو کبوتر پہ جھپٹنے کا مزا ہے اے پسر

وہ مزہ شاید کبوتر کے لہو میں میں بھی نہیں

ان دواشعار میں نوجوان کو شاہین کے استعارے میں رکھا یا گیا ۔ شاہین کی یہ صفت ہے کہ وہ مسلسل حرکت میں رہتا ہے ۔ اُسکی اڑان فضاؤں میں رہتی ہے ۔ اُس کا مشاہدہ آسمان سے زمین پر ۔ وہ تمام جزیات حرکت زندگی سے با خبر رہتا ہے ۔ ایک نوجوان نے اپنی عملی زندگی میں مسلسل مصروف رہتا ہے کیونکہ اس کی قوت اور توانائی اس قدر پاکیزہ و مقدس ہوتی ہیں کہ وہ ہر نا ممکن کو ممکن بنا لیتا ہے ۔ دوسرے شعر میں نوجوان کے لئے کیا خوبصورت پیغام ہے کہ جب آپ کسی مقصد کےلئے مسلسل یہ عمل کرتے ہیں تو اس کی لذت سے خو د کو بیگانہ رکھیں ۔ جو اس شے کو حصول سے پہلے آپکو حاصل ہے کیونکہ منزل پر پہنچنے سے پہلے جو کوشش ہے اصل قیمت اسکی ہے منزل کا حصول اس لذت کا خاتمہ ہے ۔ لہٰذا پہلی سے دوسری اور دوسری سے اگلی منزل کاتعین کرتے جائیں ۔ اس سے آپکے عزائم ، ارادے اور نصب العین کی وسعت گہرائی اور گیرائی میں اضافہ ہوتا چلاجائیگا اور یہ تسخیر کا ئنات ہے ۔ گویا خودی اپنی سرحدوں سے نکل کر خدائی بن جاتی ہے اور اس طرح شرف انسانیت کا وہ مقام حاصل ہوتاہے ۔ جب اللہ نے انسان کی پیدائش پر فخر کیا تھا ۔ اقبال نے پاکستان کے تصور کے دوران ہی اپنے اس خواب کو نوجوانوں کے ہاتھوں متشکل کروانے کی آرزو کی تھی ۔

خدایا آزرو میری یہی ہے

میرا نورِ بصیرت عام کردے

جاوید کے نام کے ذریعے نوجوان کو پیغام :

میرا طریق امیری نہیں فقیری نہیں

خودی نہ بیج غریبی میں نام پیدا کردے

ایک مومن نوجوان کی تگ و دو ۔ اسکی زندگی سے لیکر بعداز موت کی زندگی میں بھی جاری رہتی ہے ۔

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

نوجوان ہی سے کہا کہ اپنے مستقبل پر نظر رکھو، حال زندگی کا وہ زمانہ ہے جس کو موقع oppurtinity کہتے ہیں ۔ حال کا سفر مستقبل کی طرف ہے ۔ ’یہ زمانہ ‘’وقت‘’ دور‘ ۔ ارتقاء ;69;voluteپذیر ہے ۔ آگے کی طرف رواں دواں ہے واپس نہیں جاتا ۔ آج ستاروں سیاروں اور بلیک ہول کی باتیں ہو رہی ہیں مریخ اور چاند پر انسان نے قدم رکھا کیا پہلے ممکن تھا ،یہ اصول کائنات ہے کہ وقت کی قدر کرکے اسکو اپنے اور انسانیت کے مفاد کے لئے استعمال کرو اور یوں آپ ایک ’’جنت ‘‘ سے ’’دوسری جنت ‘‘ مگر مستقبل میں داخل ہوجائیں گے ۔ اقبال نے یہ نکتہ سورہ رحمان سے لیا ہے جہاں ’’قرآن نے ’’جناتان‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ یعنی اس دنیا میں جب انسان قرآن کی اطاعت کر کے ایک ایسا نظام قائم کرتا جس میں فلاح انسانیت کے اصول مرتب ہوتے ہیں ۔ انفرادی و اجتماعی دونوں زندگیا ں امن میں ہونگی ۔ اسے قرآن نے دنیا کی ’’جنت ‘‘ قرار دیا ہے اور جس نے جہاں جتنی زندگی گزاری اس کی آخروی جنت اس نے خریدلی ہے ۔ یعنی اصول یہ ہے کہ اپنے آج کو مسلسل محنت ، دیانتداری ، ایمانداری سے خوشگواربنالیں تو آپ اگلے مرحلہ زندگی کی خوشگواریت کا حق دار بن جاتا ہے ۔ ایسا نہیں کہ آپ ماضی پرستی، اپنے آباوَ اجداد کے کارناموں پر صرف فخر کرتے رہیں تو آپکا اس دنیا اور آخرت کا بہترین مستقبل ایک خواب ہی رہے گا ۔

کبھی اے نوجواں مسلم تدبیر بھی کیا تو نے

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے زمین پر آسماں نے ہم کو دے مارا

About Admin

Google Analytics Alternative