Home » کالم » جرائم کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟ ایک تجویز

جرائم کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟ ایک تجویز

جکل میڈیا پر معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ ۔ درندگی کے واقعات جس تسلسل سے سامنے ;200;رہے ہیں ۔ اس پر انسانیت نوحہ کناں ہے ۔ لگتا ہے ظلم کی جتنی تشہیر کی جارہی ہے اتنا ہی پنپ رہا ہے ۔ شاید مظلوم کی چیخیں ظالم کو تسکین دیتی ہیں ۔ دیکھا جائے تو اس سلسلے میں ٹی وی پروگرام ،سوشل میڈیا،ادبی تحریریں ،المناک اور درد میں ڈوبی شاعری ۔ ۔ یہ واویلا کس کے سامنے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ;238; حیوانیت کی سطح سے بھی گری ہوئی،عقل سے عاری ۔ ۔ بے حس اور ابنارمل مخلوق پر ۔ ۔ ۔ ان کا کیا اثر ہوگا;238;

ہمارے کچھ لکھنے والے اپنے ;200;پ کو بہت بے باک ثابت کرنے کےلئے اس طرح کی سیچویشن کو اپنی شناخت کےلئے استعمال کرتے ہیں ۔ جسم کے ایک ایک حصے کو ننگا کر کے اس طرح بخیے ادھیڑے جاتے ہیں کہ ذہنی پسماندگی کے شکار لوگوں کو اور تحریک ملتی ہے ۔ کیا یہ مسئلے کا حل ہے;238; کیا کسی نے ان باتوں کا اثر لیا ہے;238; کیا ان واقعات میں کمی ہوئی ہے;238;

اس کےلئے ماتم، نوحے، بین کرنا کیا ایک زندہ قوم کا عمل ہونا چاہیئے ۔ ;238;کیا ہم اتنے بے بس اور لاچار ہیں ;238; کہ کسی ایک بیمار شخص کی ہوسناکی پر ;200;نسو بہائیں ، ماتم کریں اور کچھ کر نہ پائیں ;238; ہمارے اداروں کا حال سب کے سامنے ہے ۔ ذرا موقع ملنے پر وار کر دیتے ہیں ۔ آخر شنوائی کےلئے کون سا در کھٹکھٹا نا پڑے گا ۔ ;238; حکومتوں نے تو اسی پیٹرن پر چلنا ہے ۔ جو اِن کےلئے مختص ہے ۔ وہ گندے پانی کے جوہڑ میں صاف پانی کی چند بالٹیاں ڈال بھی دیں گے تو کیا ہو گا ;238; فی الوقت ایسے اداروں کی مکمل تطہیر کی ضرورت ہے ۔ لیکن یہ کیسے ہوگا ۔ ;238;کون مجرم ہے کون بے گناہ;238; یہ فیصلہ کون کرے گا;238;ہوگا یہی کہ ہوشیار اور چالاک مجرم بے گناہوں کو سزا کے پھندے میں پھنسا کر دندناتے پھریں گے ۔ توپھر ۔ ۔ ہوسناکی، درندگی، بھوک، اور ظلم کا خاتمہ کیسے ہوگا;238; کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ وجوہات تلاش کی جائیں اور ان کا خاتمہ کیا جائے;238;وجوہات کیا ہیں ;238;

جہالت، غربت، بےروزگاری ۔ یہ وجوہات کسی بھی معاشرے کےلئے زہر قاتل ثابت ہو سکتی ہیں ۔ نوجوانوں میں تعلیم وتربیت کا فقدان اچھائی اوربرائی کی تمیز ختم کر دیتا ہے ۔ غربت اور بے روزگاری جرم پر اکساتی ہے اور انتقامی رویے پروان چڑھتے ہیں ۔ فراغت اور تجرد پن کی وجہ سے ڈپریشن اس طرح کے انسانیت سوز واقعات کا سبب بنتی ہے ۔ ان کی بیخ کنی کےلئے کیا کیا جائے;238; چند مجرموں کو پہانسی کے پھندے پر لٹکا کردلوں کو تسکین تو ہوگی ۔ لیکن اس مستقل خوف وہراس کی کیفیت سے نکلنے کےلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ۔ حکمران ٹولے اپنی ہوس زر و اقتدار کے نشے سے باہر نکلیں اور عوام کی حالت پر توجہ دیں تو کچھ سکتا ہے لیکن ان کے پاس بھی ان مسائل کے حل کیلئے کوئی قابل عمل سٹریٹجی نہیں ہے ۔ حال ہی میں پناہ گاہ کے نام سے مراکز قائم کر کے غریب لوگوں کو کھانا کھلانے کا بندوبست کیا گیا ہے اور لنگرز کے افتتاح کیے جا رہے ہیں ۔ اوہ خدا کے بندو!ہماری قوم کا مسئلہ بھوک نہیں فراغت ہے ۔ ۔ ۔ ان کا پیٹ بھر جائے گا پھر وہ کیا کریں گے ۔ اور ;200;سائشیں ڈھونڈنے کےلئے پھر جرائم کی طرف راغب ہونگے ۔ ہم خیرات کرتے وقت کسی کی مدد کرتے وقت اپنی دوم سوم کی کتابوں میں لکھا ہوا واقعہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی للہ علیہ والہ وسلم نے کس طرح ایک شخص کو کلہاڑی اور رسی دے کر فرمایا کہ محنت کرو اور کھاوَ ۔ اسی خیرات کے پیسے سے ان کےلئے سکول، کارخانے اور کام کرنے کے کئی مواقع مہیا کیے جا سکتے ہیں ۔ ان افراد کے کواءف اکٹھے کر کے ان کی استعداد کے مطابق انہیں مصروف کیا جا سکتا ہے ۔ بچوں کو سکولوں میں داخل کروایا جائے ان کو فیس ، کتابیں اور یونیفارم مہیا کیا جائے ۔ کھانا بھی ان کی پڑھائی کے ساتھ مشروط ہو ۔ نوجوانوں کو کارخانوں اور روزگار فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ذریعے ملازمت دلائی جائے ۔ عورتوں کےلئے بھی گارمنٹس اور دیگر کاموں کے علاوہ کمپنیز کے ذریعے گہروں میں ملازمت کا بندوبست کیا جائے ۔ اس سلسلے میں مخیرحضرات کو خیرات دینے کے طریقے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ انفرادی مدد کی بجائے اجتماعی طور پر فلاح وبہبود کا عمل جاری رکھا جائے تاکہ محنت کی عادت کے ساتھ عزت نفس جیسی دولت جس سے ہماری قوم یکسر محروم ہو چکی ہے بحال کی جا سکے ۔ کسی کے سامنے پلیٹ رکھ کر کھانا ڈالنا ;200;سان ہے لیکن کسی کو مستقل بنیادوں پر اپنے پاں پر کھڑا کرنا کافی محنت طلب کام ہے ۔ اس سلسلے میں ہ میں پہلے سے موجود وسائل سے بھی فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ نہ کوئی نئی بلڈنگ نہ سٹاف نہ کوئی نئے عہدے ۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے مسلم معاشرے میں مساجد کی صورت میں اصلاح کے ادارے قائم ہیں ۔ میں یہاں مذہبی مدارس کی بات نہیں کر رہی بلکہ وہ مسجد جہاں ایک محلے کے لوگ پانچ مرتبہ ملتے ہیں ایک دوسرے سے واقفیت رکہتے ہیں ۔ ہر گھر میں سے کوئی نہ کوئی باپ، دادا ، بھائی، بوڑھا جوان مسجد میں ضرور جاتا ہے ۔ ان بزرگوں ریٹائرڈ لوگوں کی مدد سے بہت بڑا کام کیا جا سکتا ہے ۔ اس کےلئے کوئی جگہ ،دفاتر عملے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ سب کچھ پہلے سے موجود ہے صرف ایک ترتیب پر لگانے کی ضرورت ہے ۔ مساجد کے امام صاحبان ایک ایسا طبقہ ہے جو عزت و احترام اور لوگوں کے مسائل حل کرنے کے سلسلے میں سب سے زیادہ موثر کردار ادا کر سکتا ہے ۔ جسے انگریز نے اپنے مقاصد کےلئے کم مایہ کر دیا اور رہی سہی کسر انگریز کے گماشتوں نے ان کے کردار کو اس طرح سے تبدیل کر کے پوری کی کہ اب کوئی ان سے خیر کی توقع نہیں رکھتا ۔ لیکن پھربھی یہاں حالات اتنے خراب نہیں ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے محلوں گلیوں میں جگہ جگہ مساجد ہیں ۔ نیک کام کا ;200;غاز نیک نیتی کے ساتھ اللہ کے گھر سے کیا جائے ۔ جہاں اربوں کھربوں روپے بے بنیاد مقاصد کےلئے خرچ کیے جاتے ہیں وہاں مساجد کے امام صاحبان کی تعلیمی قابلیت اور کام کرنے کی استعداد کے مطابق تنخواہ مقرر کی جائے ۔ نماز کے ساتھ ایک اور اہم ذمہ داری انہیں سونپی جائے کہ وہ اپنے علاقے ،محلے کے ان پڑھ ، بےروزگار افراد کے ساتھ ساتھ ایسے نوجوانوں کا بھی ریکارڈ رکہیں جو شادی کے بغیر رہ رہے ہیں ۔ کچھ بے غرض اور دیانت دار افراد کی ایک ٹیم بنا لیں جو اس سلسلے میں ان کی مدد کرے ۔

1 ۔ جو بچے تعلیم حاصل نہیں کر رہے ۔ انہیں تعلیم دلوانے کا بندوبست کریں ۔

2 ۔ بےروزگار افراد کو روزگار دلوانے کا بندوبست کریں ۔

3 ۔ غریب نوجوانوں کے نکاح بھی بغیر اخراجات کے مساجد میں کرائیں ۔

4 ۔ ان کے روزگار کے بندوبست تک مناسب مشاہرہ انہیں دیا جائے ۔

جس کےلئے حکومتی ادارے فنڈزمہیا کریں ۔ ہر کام ممکن ہے اور بہترین نتاءج کا حامل ہو سکتا ہے بشرطیکہ دیانتداری ، خلوص اور دانشمندی سے کیا جائے ۔ خیرات، زکو اۃ اور سوشل ویلفیئر کے ادارے ایک ہی سمت پر کام کریں تو نتاءج مثبت نکل سکتے ہیں ۔ اس معاملے میں مذہبی امور کی وزارتوں کو ذمہ داری بہی سونپنے کی ضرورت ہے ۔ کسی سیاسی عہدےدار ، پولیس یا اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کے شوقین افراد کو اس عمل سے باہر رکھا جائے ۔ ان میں سے کوئی فلاحی جذبے سے مدد کرنا چاہیے اور مقررکردہ ٹیم کا حکومتی اداروں سے رابطے کے سلسلے میں مددکریں تو درست ہے لیکن وہ اس دائرہ کار میں دخل اندازی نہ کریں ۔ اس کےلئے مذہبی وزارت میں جید علمائے کرام اور سکالرز پر مشتمل ایک ٹیم ہو جو ایک مکمل لاءحہ عمل تیار کرے ۔ صوبائی سطح پر بھی ایسے علمائے کرام کا انتخاب کیا جائے جو اس کام کےلئے سرگرم ہو سکتے ہوں ۔ وہ علما اپنے اپنے علاقے میں مساجد کے علما سے رابطے کریں اور انہیں یہ ذمہ داری سپرد کریں ۔ اس سلسلے صوبائی وزارت کی مرکزی وزارت کے ساتھ میٹنگ ;200;ن لائن ہونی چاہیئے اور جتنی بہی کاروائی طے پائے وہ بذریعہ ای میل سب تک پہنچ جائے ۔ اسی طرح صوبائی وزراء کی میٹنگ بھی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ;200;ن لائن ہونی چاہیئے تا کہ زیادہ سے زیادہ وقت اصل کام کو دیا جائے ۔ مرکزی رہنماؤں سے میٹنگ کےلئے سفر اور رہائش کے اخراجات اور وقت کے ضیاع سے اجتناب کیا جائے ۔ ضلعی سطح پر مقرر کردہ علما شہروں اور دیہاتوں کے علما کے ساتھ بھی فون ، نیٹ اور ;200;ن لائن رابطہ رکہیں اور انہیں کام تفویض کر کے رپورٹ کےلئے پابند کیا جائے ۔ اس طرح اپنی اپنی جگہ پر ہر علاقے سے تعلق رکھنے والے علما اپنے علاقوں کی ذمہ داری سنبھال لیں ۔ شرط یہ ہے کہ اس کام کو سادگی سے ایک ڈیوٹی سمجھ کر انجام دیا جائے ۔ ہر قدم پر نتاءج مرتب کئے جائیں اور مقررہ ہدف کو پانے کے سلسلے میں مکمل تفصیلات طے کر کے انہیں فالو اپ کیا جائے ۔ چیک اور بیلنس کا سسٹم ساتھ ساتھ چلتا جائے ۔

اس طرح ایک بہت بڑی تعداد میں علما کو کسی سسٹم کے تحت کام کرنے کا موقع ملے گا اور وہ اپنی کوشس کے نتاءج دیکھ کر مطمئن بھی ہونگے ۔ معاشرے کے اندر ایک بڑی تعداد فعال ہو سکتی ہے اور جرائم کا سد باب بھی ہو سکے گا ۔ یہ کام اپنے اپنے علاقوں میں امام صاحبان خود بھی کر سکتے ہیں لیکن وسائل کی کمی کے باعث ہر ایک کےلئے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ حکومت اس سلسلے میں واضح حکمت عملی سے کام لے اور اس کام کو بھی اپنی باقی ترجیحات کے ساتھ صف اول پر رکھے ۔ یقین کیجیے کہ غربت ، بےروزگاری اور جہالت کے خاتمے کے بغیر جرائم سے معاشرے کو پاک نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی بھی شعبے میں ترقی کا خواب پورا ہو سکتا ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative