Home » کالم » جعلی اکاؤنٹ : کیا اُونٹ پہاڑ کے نیچے آ گیا ہے؟
rana-biqi

جعلی اکاؤنٹ : کیا اُونٹ پہاڑ کے نیچے آ گیا ہے؟

rana-biqi

پاکستان میں نئے عام انتخابات کیلئے نگران حکومت کے قیام کے بعد اور کچھ ہوا ہے یا نہیں لیکن قومی سطح پر ایک خوشگوار تبدیلی ضرور آئی ہے کہ ملکی آئین و قانون حکمرانوں کے اُبرو کے اشارے کی بیساکیوں پر چلنے کے بجائے اپنے آئینی راستے کو خود متعین کرنے لگا ہے۔دریں اثنا، زرداری نواز شریف حوالے سے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان ڈیل کی سیاست کو فروغ دینے کا رجحان کچھ دیر کیلئے رُک گیا ہے چنانچہ سیاست دانوں کے خود ہی بنائے ہوئے قوانین اور آئینی ترامیم کے تحت فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ،ا یف آئی اے، جس کے پاس جرائم کی تحقیق و تفتیش کی بہترین ٹیم ہونے کے باوجود کرائم سے آلودہ سیاسی رہنماؤں کے مقدمات میں حکمرانوں کی صوابدید پر اُنہیں بیشتر مقدمات کو ادھورا چھوڑنا پڑتا تھا ، نگران حکومت کے دور میں ایک مرتبہ پھر سے فعال ہو گئی ہے۔ یہ درست ہے کہ ایف آئی اے نے موقع ملتے ہی اپنی تفتیشی صلاحیت کو منی لانڈرننگ کے پیچیدہ نظام کو آشکار کرکے واضح کردیا ہے کہ پاکستانی ادارے دنیا کی کسی تفتیشی ٹیم سے پیچھے نہیں ہیں بشرط کہ اُنہیں پیشہ ورانہ آزادی سے کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ بہرحال ایف آئی اے نے ملک میں قائم سیاسی جمود اور، اسٹیٹس کو، کی سیاست سے ماورا ہو کر منی لانڈرننگ کے حوالے سے جعلی اکاؤنٹ اسکینڈل کو بے نقاب کر دیا ہے ۔میڈیا اطلاعات کیمطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایف آئی اے کی بے لاگ تفتیشی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد منی لا نڈرننگ کیس کے تمام ملزموں جن میں پیپلز پارٹی کے چوٹی کے سیاسی رہنما آصف علی زرداری اور اُن کی بہن فریال تالپور شامل ہیں کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں اور تمام ملزمان کو 12 جولائی 2018 سپریم کورٹ میں جوابدہی کیلئے طلب کر لیا ہے۔یاد رہے کہ منی لانڈرننگ کے ایک حالیہ کیس میں فارن کرنسی سے بھرے بریف کیس کے ہمراہ جناب زرداری کی ایک دوست ایان علی رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی جس کی وکالت کے فرائض بظاہر زرداری صاحب کی ایما پر پیپلز پارٹی کے ایک اہم قانون دان نے کی تھی۔ درحقیقت ، سابق صدر آصف علی زرداری جن کی شخصیت کے گرد پھیلی ہوئی کرپشن اور منی لانڈرننگ سے آگہی رکھنے والے سیاسی دانشور اور جنوبی ایشیا کے مسائل سے متعلق اہم کتابوں کے مصنفین جن میں سی آئی اے شہرت یافتہ رون سسکائنڈ (Ron Suskind) سے لیکر پاکستانی نژاد برطانوی شہری طارق علی تک شامل ہیں ، جناب زرداری کی مبینہ مالی جرائم میں ملوث مشکوک شخصیت اور منی لانڈرننگ کے ذریعے بیرونی ملکوں میں پراپرٹی کی خریداری کے حوالے سے اچھا نہیں سمجھتے ہیں جس کا تذکرہ اُنہوں نے اپنی کتابوں میں کراچی میں اپنے والد کے سینما میں ٹکٹیں بلیک کرنے سے لیکر پہلی بی بی حکو مت میں وزیراعظم ہاؤس کے پچھلے کمرے میں بیٹھ کر کمیشن کی کیلئے سودے بازی کرنیکے حوالے سے کیا ہے جبکہ ماضی میں زرداری صاحب نے لندن، واشنگٹن اور دبئی میں اپنی رہائش کے دوران کبھی اِن لکھاریوں کے خلاف ازالہ حیثیت حرفی کے حوالے سے نوٹس دینے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی ہے ۔رون سسکائنڈ نے اپنی کتاب ،، دی وے آف دی ورلڈ ،، میں لکھا ہے : “Zardari lived the life of a crime boss–called “Mr. Ten Percent” in Pakistan–staying busy, allegedly, with backroom deals…As narratives go, there’s none in the Muslim world to match that of a the daughter of a slain leaderwho becomes prime minister, only to be compromised by a corrupt husband.”
مصنف طارق علی کی امریکا میں شائع ہونے والی کتاب ،،دی ڈوئل The Duel ،، رون سسکائنڈ سے بھی آگے کی بات کرتی ہے، وہ لکھتے ہیں : ” مسٹر اور مسز آصف علی زرداری کے سوئس مقدمات میں پیش نہ ہونے پر جولائی 2003 میں سوئس مجسٹریٹ ڈئنیل ڈیووڈ نے منی لانڈرننگ کیس میں ملزمان کو غیر موجودگی میں چھ ماہ قید کی سزا سنائی اور حکم دیا کہ 11.9 ملین امریکی ڈالر کی رقم حکومت پاکستان کے حوالے کی جائے۔ البتہ محترمہ بے نظیر بھٹو 19 نے ستمبر 2005 میں سوئس کورٹ میں پیش ہوکر بیان دیا کہ اُن کا اِس دولت سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اِس معاملے کا تعلق اُنکی والدہ اور اُن کے شوہر آصف علی زرداری سے ہے۔ اُنہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایک لاکھ بیس ہزار پاؤنڈ سٹرلنگ کے ہیروں کے ہار سے بھی اُن کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن وہ جانتی ہیں کہ یہ ہار اُن کے شوہر نے خریدا تھا لیکن اِسے غیر مناسب تحفہ سمجھتے ہوئے اُنہوں نے قبول نہیں کیا تھا۔طارق علی مزید لکھتے ہیں کہ برطانیہ میں آف شور کمپنی کے ذریعے 1995 میں زرداری صاحب نے 3.4 ملین ڈالر میں خریدا جانے والا سرے محل بھی برطانیہ میں عدالتی موشگافیوں کا شکار رہا ۔ جناب آصف علی زرداری تواتر سے سرے محل کی ملکیت سے انکار کرتے رہے لیکن جب برطانوی عدالت سرے محل کی نیلامی کے فیصلے سے حاصل ہونے والی رقم حکومت پاکستان کے حوالے کرنے جا رہی تھی تب آصف علی زرداری نے عدالت کے سامنے سرے محل کی ملکیت کو تسلیم کر لیا” ۔ جہاں تک سوئس اکاؤنٹ کا تعلق ہے سابق صدر آصف علی زرداری پاکستانی آئین میں استثنیٰ کی چھتری کے نیچے آگئے تھے تب سپریم کورٹ نے سوئس کورٹ کے ٹائم بارڈ ہونے سے قبل حکومت پاکستان کو سوئس کورٹ میں پیروی کیلئے احکامات جاری کئے لیکن صدر زرداری کی ایما پر پیپلز پارٹی کے وزیراعظم گیلانی نے اپنے عہدے سے برطرف ہونے کو ترجیح دی۔حیرانی کی بات ہے کہ سریم کورٹ کے احکامات کے برعکس سابق صدر زرداری کے دوست برطانیہ میں سابق پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے سوئس کورٹ سے اِس اہم مقدمے کی تمام دستاویزات زرداری صاحب کی منشا کیمطابق حاصل کرکے غائب کردیں لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہونے کے بعد بھی سیاسی ڈیل کی سیاست کے تحت میاں نواز شریف حکومت نے نہ صرف اِس مقدمے کا کوئی نوٹس نہیں لیا بلکہ کچھ عرصے تک برطانیہ میں واجد شمس الحسن کو پاکستانی ہائی کمشنر کے عہدے پر برقرار رکھا۔ درج بالا تناظر میں جناب آصف علی زرداری کی سیاست کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ منفی ہتھکنڈوں اور سیاسی چالاکی سے اپنا کام نکالنے کے ماہر ہیں چنانچہ دولت کی ہوس میں اُنہوں نے کراچی میں اپنے والد صاحب کے سینما گھر سے ٹکٹیں بلیک کرنے کا جو سفر شروع کیا تھا آج اُن کا شمار پاکستان کے دولت مند ترین خاندانوں میں ہوتا ہے۔ میڈیا زرائع کیمطابق اُن کی پراپرٹی دبئی سے لیکر ملائیشیا اور اسپین و برطانیہ اور امریکا تک پھیلی ہوئی ہے۔ زرداری صاحب پاکستان میں بے شمار شوگر ملوں کے علاوہ سینکڑوں اُونٹوں کے بھی مالک ہیں ۔ بلاشبہ زرداری صاحب نے تو ساری زندگی ڈیل کی سیاست کرنے میں ہی گزاردی ہے ۔ گزشتہ دنوں اُنہوں نے بظاہر ریاض ملک کیساتھ مل کر بلوچستان حکومت کو تبدیل کرنے اور سینٹ میں پیپلز پارٹی کیلئے ڈپٹی چیئرمین سینٹ کا عہدہ حاصل کرنے کیلئے جو کھیل کھیلا تھا اُسے دنیا بھر میں اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ دراصل وہ بی بی کی زندگی میں ہی اپنی سیاست کے خواب جگانے کی کوشش میں تھے جب اُنہوں نے انتہائی چالاکی سے سابق صدر پرویز مشرف کو بے نظیر بھٹو کی جگہ اپنی ذات کی سیاسی بحالی کیلئے راضی کر لیا تھا ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب میں لکھتی ہیں : میں امریکا میں تھی جب 2002 مجھے آڈیالہ جیل میں قید اپنے شوہر آصف علی زرداری کا فون آیا، اُن کا کہنا تھا کہ گر بے نظیر بھٹو دس برس کیلئے سیاست سے علیحدہ ہو جائیں تو وہ مجھے رہا کر دیں گے اور کیس سے متعلقہ تمام الزامات سے چھٹکارا حاصل ہو جائیگالیکن محترمہ بے نظیر بھٹو نے اِس ڈیل سے اتفاق نہیں کیا البتہ بعد میں زرداری صاحب کی رہائی کے بعد اُنہوں نے اپنے شوہر کی خوشنودی کیلئے سابق صدر مشرف سے نہ صرف NRO ڈیل کی بلکہ میاں نواز شریف سے بھی ملکی آئین و قانون سے ماورا ہو کرمیثاق جمہوریت پر دستخط کئے جس کے نتائج میاں نواز شریف اور زرداری صاحب کی کرپشن کے حوالے سے قوم آج بھی بھگت رہی ہے۔سوال یہی ہے کہ سب کچھ کر گزرنے کے بعد کیا جعلی اکاؤنٹ کیس میں اُونٹ پہاڑ کے نیچے آگیا ہے، یہ وقت ہی بتائے گا۔

About Admin

Google Analytics Alternative