Home » کالم » اداریہ » جمہوریت کی بقاء کےلئے حکومت کومدت پوری کرنی چاہیے
adaria

جمہوریت کی بقاء کےلئے حکومت کومدت پوری کرنی چاہیے

سیاست میں کبھی بھی دوٹوک بات کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے ، حکومت جب ہرطرح سے راضی ہے وہ ہرحلقہ کھولناچاہتی ہے تو پھرمولانافضل الرحمان کواس پرکوئی اعتراض نہیں ہوناچاہیے، ظاہر ہورہاہے کہ مولاناکسی ذاتی ایجنڈے پرکارفرما ہیں ان کا اختلاف حکومت یا اس کی پالیسیوں سے نہیں بلکہ محض ایک شخص سے ہے جس کانام عمران خان ہے، اسی ذاتی مفادات کی سیاست نے ہمیشہ جمہوریت کو ڈبویا، حکومت انتہادرجے کی لچک دکھا رہی ہے لیکن آخرکاروزیراعظم نے کہہ دیا کہ اگربات استعفے کی ہے تو پھراپوزیشن سے مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں ، مولانافضل الرحمان کوچاہیے کہ وہ نہ تو جمہوریت کی بساط لپیٹیں اورنہ ہی ایسے فیصلے کریں جو اس ملک وقوم کےلئے نقصان دہ ثابت ہوں ، جو وقت کاتقاضا ہے اسی پرچلناچاہیے لفظی گولہ باری سے رہبرکمیٹی اورحکومتی مذاکراتی کمیٹی کے مابین خلیج حائل ہوتی جارہی ہے فضل الرحمان صرف استعفے پرڈٹے ہوئے ہیں اورانہوں نے کہہ دیاکہ مذاکراتی ٹیم کا آناجانالاحاصل ہے جب تک وہ وزیراعظم کے مستعفی ہونے کامطالبہ پورانہیں کرتے تو تمام ملاقاتیں بے کار ہیں جبکہ پرویزخٹک نے بھی کہاکہ ہم بھی صرف آجا رہے ہیں اوروقت گزاری کررہے ہیں اب ان بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حالات پوائنٹ آف نوریٹرن کی جانب گامزن ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے واشگاف الفاظ میں کہاکہ گزشتہ دنوں مولانانے کہاتھاکہ انہیں لاشیں چاہئیں جس پرعمران خان نے کہاکہ ہم جمہوری لوگ ہیں لاشیں نہیں دیں گے اس طرح کے انتہاپسندانہ بیانات جمہوریت کوقتل کرنے کے مترادف ہیں ،انہی حالات کومدنظررکھتے ہوئے حکومت کے تمام ترجمانوں کو دھرنے کے حوالے سے بیان بازی سے بھی روک دیاگیاہے یہ ایک انتہائی احسن اقدام ہے ماضی کی سیاست کوبھی کھنگالاجائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نوازشریف کے دور میں جب قطر میں طالبان کے ساتھ مذاکرات ہورہے تھے تو اس وقت بھی اس زبان کی چاشنی نے تمام معاملے کو سبوتاژ کردیاتھا جب حالات انتہائی نازک اورحساس نوعیت کے ہوجائیں تو بہت سوچ سمجھ کربولناپڑتاہے کیونکہ بعض اوقات ایک چھوٹاسابیان تمام کاوشوں کوتلپٹ کرکے رکھ دیتاہے ۔ دونوں فریقین کوباہمی افہام وتفہیم سے اورمل بیٹھ کرمعنی اورنتیجہ خیزمذاکرات کرنے چاہئیں کیونکہ اسلام آباد میں اس وقت سردی کی شدت ہے اوررات بھردھرنے کے شرکاء کاکھلے آسمان میں ٹھہرنا انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتاہے ، خصوصی طورپرجب بارش ہوجائے تواس وقت ان کے سرچھپانے کی کوئی جگہ نہیں جبکہ دھرنے کے اکابرین چھت تلے مزے سے گرم رضائیوں میں خواب خرگوش کے مزے لیتے رہتے ہیں اورکارکن ٹھٹھرتی سردی میں تھرتھرکانپتے ہوئے مختلف بیماریوں میں مبتلاہورہے ہیں بلکہ ابھی تک تقریباً تین افراداپنی جان کی بازی بھی ہارچکے ہیں ۔ جمہوریت کبھی بھی خون نہیں مانگتی وہ جمہورکی حفاظت اوران کے حقوق کی پاسداری کرتی ہے ہم سب کی بقاء اسی میں ہے کہ جمہوریت کوچلنے دیاجائے اورمل بیٹھ کرکوئی درمیانی راستہ نکالاجائے ۔ ادھر وزیراعظم نے یوٹیلٹی سٹورکارپوریشن کےلئے بھی چھ ارب روپے جاری کرنے کا اعلان کیاہے جس میں اشیائے خوردونوش کی فراہمی سستی ہونے کا امکان ہے دراصل عوام کا حقیقی مسئلہ ،دھرنایا آزادی مارچ نہیں بلکہ مہنگائی ہے اس کوترجیحی بنیادوں پرحل کرناہوگا ۔ دوسری جانب وزیراعظم نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے معاشی ترقی کےلئے سمگلنگ کی موثرروک تھام کے عزم کا اظہارکیا ۔ چیزیں سستی کرنے کے ساتھ ساتھ سمگلنگ کو بھی کنٹرول کرنا انتہائی ضروری ہے اسی سلسلے میں وزیراعظم نے اجلاس کے دوران متعلقہ اداروں کو سمگلنگ روکنے کی ہدایات جاری کیں تاکہ ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں ۔ دوسری جانب نوازشریف کاعلاج کے سلسلے میں بیرون ملک روانگی کے حوالے سے عمران خان نے کہاکہ یہ کوئی این آرنہیں ہے ،این آراوتب ہوتاہے جب حکومت مقدمات کی پیروی نہ کرے نوازشریف علاج کے لئے باہرجارہے ہیں ا ن کے مقدمات قائم رہیں گے اور وہ واپس آکران کاسامناکریں گے جبکہ شہبازشریف نے بیرون ملک جانے اورای سی ایل نے نام نکلوانے کے لئے درخواست دیدی ہے لند ن اورامریکہ میں بھی نوازشریف کے علاج کے حوالے سے مختلف ڈاکٹروں سے گفت وشنیدچل رہی ہے نوازشریف کے ہمراہ شہبازشریف بھی جائیں گے ،مریم نوازنے بھی کہاکہ سیاست سے ضروری نوازشریف کی صحت ہے ان کی زندگی اس قوم کی امانت ہے لہٰذا انہیں بیرون ملک علاج کےلئے جانا چاہیے ، حکومت کابھی یہ احسن اقدام ہے کہ اس نے انسانی بنیادوں پرنوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی ہے اور آئندہ ہفتے وہ لندن روانہ ہوجائیں گے ۔

پاکستان کی بہترمعیشت پر

آئی ایم ایف کا اظہاراعتماد

حکومتی اقدامات کے باعث معیشت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے آئی ایم ایف نے بھی اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے اپنے پرانے اہداف مکمل کرلئے ہیں نیزاب نئی گائیڈلائنز دیدی گئی ہے ، آئی ایم ایف نے پاکستان کو45کروڑ ڈالریعنی کہ 70ارب روپے کی دوسری قسط دسمبر میں دینے کا اعلان کردیا ہے جبکہ بھارت کی معیشت تباہ حال ہوچکی ہے ۔ موڈیز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے معاشی حالات انتہائی دگرگوں ہیں آنے والے وقتوں میں وہاں پربھوک، افلاس اورمہنگائی کاراج ہوگا ۔ ادھرپاکستان کے اقدامات پرآئی ایم ایف نے معترف ہوتے ہوئے کہاہے کہ مشکل حالات کے باوجود پاکستان نے پروگرام پربہترعمل کیا اندرو نی وبیرونی خسارے کم ہوگئے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لئے اقدامات کئے گئے وزیراعظم کے مشیرخزانہ حفیظ شیخ کاکہنا ہے کہ پاکستان پہلے جائزے میں کارکردگی کے معیارپرپورا اترا، معیشت مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہے ،مہنگائی میں کمی کی توقع ہے ،انسدادمنی لانڈرنگ اوردہشت گردوں تک مالی رسائی روکنے کے لئے فریم ورک پرخاطرخواہ کام ہورہاہے، اقتصادی ترقی سست لیکن اس کے نتاءج مثبت آرہے ہیں ۔ حال میں جو حکومت فیصلے کررہی ہے وہ عوام کوگراں تو گزررہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کے نتاءج اچھے برآمدہورہے ہیں جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہورہاہے آج کچھ مشکلات برداشت کرناہوں گی آنیوالاوقت انشاء اللہ سکون کاہوگا ۔ توقع ہے کہ رواں سال مہنگائی کی اوسط شرح کم ہوکرگیارہ اعشاریہ آٹھ فیصد پرآجائے گی ۔

عیدمیلادالنبیﷺ کے موقع پر امت مسلمہ کومتحداوریکجاہونے کاعزم کرناہوگا

ملک بھر میں آج عیدمیلادالنبی;248; مذہبی عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے ۔ رات کومحافل نعت اور کانفرنسز ہونگی ۔ مساجد میں اسلام اورمذہبی تعلیمات کے فروغ ،اتحاد،یکجہتی، ترقی اورامت مسلمہ کی فلاح وبہبود کےلئے خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی ۔ دن کی سب سے بڑی تقریب اسلام آباد میں بین الاقوامی رحمت الالعالمین;248; کانفرنس ہوگی، جس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت وزیراعظم عمران خان جبکہ اختتامی نشست کی صدارت صدر ڈاکٹر عارف علوی کریں گے ۔ حکومت ، مذہبی تنظیموں ;47; میلاد کمیٹیوں اورذاتی طورپرلوگوں نے اس موقع پر جلوس ، سیمینارز، کانفرنسز اورمباحثے کے پروگرام ترتیب دیئے ہیں ۔ ملک بھر میں عیدمیلادالنبیﷺ کے سلسلے میں متعدد جلوس نکالے جائیں گے ۔ اُدھر گلیوں ،سڑکوں ، بازاروں ، شاپنگ سنٹرز اورسرکاری و نجی عمارتوں کو برقی قمقموں ، رنگارنگ جھنڈیوں اور بینرزسے سجایا گیا ہے جونہایت دلکش منظرپیش کر رہے ہیں ۔ عید میلادالنبیﷺ کا دن ہ میں اس بات کا پیغام دیتا ہے کہ ہم اللہ اوراس کے رسولﷺ کے احکامات پر عمل پیرا ہوں آج امت مسلمہ جو ذلیل وخوار اور نفاق کا شکار ہے وہ محض اس لئے کہ ہم نے رسول پاکﷺ کی تعلیمات سے دوری اختیار کرلی ہے ۔ حضور پاک ﷺ کی زندگی ہمارے لئے عملی نمونہ ہے ہم اللہ تعالیٰ کے حکم اورحضورپاکﷺ کی پیروی کر کے کامیابی حاصل کرسکتے ہیں ۔ آج ہم دنیا و ما فیہا میں اتنے گم ہوچکے ہیں کہ آخرت کی کوئی فکرہی نہیں ، آخر کار دنیابھر میں صرف مسلمان ہی کیوں ظلم وتشدد کا نشانہ بن رہے ہیں ،دیکھاجائے تو ہرجگہ پرمسلمانوں پرظلم ہورہاہے ۔ آج کشمیر ، فلسطین ، افغانستان، عراق سمیت بہت سے اسلامی ممالک میں مسلمان غیر مسلموں کے ہاتھ مررہاہے ۔ اب ہ میں قرآن ، سنت اوراحادیث پرعمل پیرا ہونا ہوگا، اللہ اور اس کے محبوبﷺ کی قربت حاصل کرنا ہوگی ان کے دیئے ہوئے احکامات پر عملدر آمد کرنا ہوگا ، عید میلاد النبیﷺ ہ میں آپس میں اتحاد اور اخوت سے رہنے کا سبق دیتی ہے ،متحدہوکرہی مسلمان کفار کو شکست سے دوچارکرسکتے ہیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative