Home » کالم » جنوبی ایشیاء کے بڑھتے معاشی مسائل!
asghar-ali

جنوبی ایشیاء کے بڑھتے معاشی مسائل!

دہلی کے حکمران معاشی خوشحالی، جمہوریت اور سیکولرازم کے بلند بانگ دعوے کرتے نہیں تھکتے مگر زمینی حقائق ان کے دعووں کی ہنڈیا بار بار بیچ چوراہے پھوڑدیتے ہیں ۔ بھارتی اقتصادی ماہرین کے مطابق 8 نومبر 2016 میں مودی نے نوٹ بندی کرنے کا جو احمقانہ فیصلہ کیا، اس نے بھارتی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔ اس فیصلے کے بعد ہندوستانی معیشت میں جو تباہی آنی تھی، ریزرو بینک آف انڈیا کے ریزرو فنڈ سے ایک لاکھ 76 ہزار کروڑ کی خطیر رقم لینا اس کا منطقی انجام ہے ۔ یاد رہے کہ اس فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارتی سابق وزیراعظم اور ماہر معاشیات ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ اس فیصلہ سے نہ صرف بھارت کی مجموعی گھریلو پیداوار میں دو فیصد کی سالانہ گراوٹ آئے گی بلکہ اسکے خطرناک اثرات دہائیوں تک محسوس کئے جائیں گے ۔ آج حالت یہ ہے کہ ہندوستان میں عوامی اداروں سے سرمایہ کی نکاسی ، تھکے ہارے عوام پر طرح طرح کے ٹیکس لگا دینے ، شاید ہندوستان تاریخ میں سب سے سستا خام تیل خرید کر اسے سونے کے بھاءو بیچنے کے باوجود ہندوستان کی معیشت میں استحکام نہیں آ رہا ۔ بیروزگاری کی شرح بچاس برسوں کا ریکارڈ توڑے ہوئے ہے، کاروبار ٹھپ پڑے ہیں ، کسان دھڑا دھڑ خودکشی کر رہے ہیں مگر مودی چین کی بانسری بجا رہے ہیں ، ;667480; کے رہنما حقائق کو توڑ مروڑ کر یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ ہم جلد ہی پانچ ٹریلین معیشت بننے والے ہیں ، کوئی ان سے پوچھے کہ عالمی بینک نے آپ کو ترقی پذیر ملکوں کی فہرست سے کیوں نکال دیا;238;، تاریخ میں سب سے زیادہ غیر ملکی قرض مودی سرکار نے کیوں لیا;238;، ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب ہے ’’انتہا پسندی‘‘ ۔ گذشتہ دنوں جھارکھنڈ میں بی جے پی کے ایک مقامی لیڈر کے جواں سال بیٹے نے نوکری جانے کے خدشے سے خودکشی کر لی، کہنے کو تو یہ ایک معمولی خبر ہو سکتی ہے لیکن قریب قریب ہر لحاظ سے بھارت میں جس طرح روزگار جا رہے ہیں ، ملازمین کی چھانٹی ہو رہی ہے، لاکھوں لوگ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹے ہیں ، لاکھوں کے سر پر نوکری جانے کی تلوار لٹک رہی ہے، بیروزگاری کی شرح 50 سالوں کا ریکارڈ توڑ چکی ہے، یہ بھارتی بالادست طبقات کے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہیے ۔ کمال ہوشیاری سے مودی سرکار اور ;828383; کی پراپیگنڈہ مشین جارحانہ انتہا پسندی پر قوم پرستی کا پردہ ڈالے ہوئے ہے، لیکن عالمی صحت تنظیم کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر پانچواں شخص ڈپریشن کا شکار ہے جس کی اہم وجوہات میں سے ایک مستقبل کی تاریکی، بے یقینی اور سماجی پراگندگی ہے جو مودی سرکار کا ہندوستان کیلئے ایک عظیم تحفہ ہے ۔ ہر 40 منٹ بعد ایک کسان خودکشی کر رہا ہے، چھوٹے اور متوسط کاروبار برباد ہو رہے ہیں ، تعمیراتی سیکٹر بے موت مر چکا ہے، افسروں اور انجینئروں سے لے کر مستری مزدوروں تک کو بیروزگاری جھیلنی پڑ رہے ہیں ، اب بھارت کا آٹو سیکٹر بھی اس عفریت کی زد میں آ چکا ہے ۔ ٹاٹا ماروتی اور دیگر آٹو کمپنیوں کے پلانٹ اور شو روم بند ہو رہے ہیں اور ان میں کام کرنے والے لاکھوں لوگ سڑکوں پر آ رہے ہیں ۔ بھارت کے اقتصادی امور کے ماہر ’’مرلی رام شرما‘‘ نے کہا ہے کہ بھارت کو مسئلہ صرف بیروزگاری کے محاذ پر ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کا معاشی ڈھانچہ چرمرا کر رہ گیا ہے ۔ عالمی بینک نے بھارت کو ترقی پذیر ممالک کی فہرست سے نکال کر افریقی ملکوں کے زمرہ میں رکھ دیا ہے ۔ ’’ پی بال کرشنن‘‘ نے کہا کہ مودی سرکار بننے کے بعد 2014 سے ملک کی مائیکرو معاشی پالیسیاں معیشت کو سکیڑ رہی ہےں جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر کساد بازاری اور بیروزگاری کا پچاس برسوں کی بلند ترین شرح پر پہنچنا لازمی تھا ۔ وہیں گولڈ مین ساکس کی چیف اکانومسٹ ’’پراچی مشرا‘‘ کے مطابق کمزور سرمایہ کاری پالیسیوں کا فیصلوں کا فائدہ ہدف تک نہ پہنچنا، جی ایس ٹی میں کم کلیکشن و دیگر عوام ل انڈین ریزرو بینک کے ریپو ریٹ کو انتہائی تیزی سے کم کر رہے ہےں ۔ تجارتی بینک شرح سود کم کرنے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ انکے پاس نقد رقم کی سخت قلت ہے ۔ بزنس سٹینڈرڈ کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں بجٹ حالیہ بجٹ پیش کئے جانے کے بعد سے حصص مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں کا ایک کروڑ 33 لاکھ کروڑ اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کا قریب ساڑے تین لاکھ کروڑ روپیہ ڈوپ چکا ہے ۔ یہاں یہ امر ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ معاشی محاذ پر وطن عزیز کی صورتحال بھی کسی طور قابل رشک نہیں ہے، جس کا بروقت ادراک انتہائی ضروری ہے ورنہ یہ کساد بازاری ہمارے لئے بھی کئی نئے مسائل کو جنم دے سکتی ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس حوالے سے خطے کے سبھی ممالک اپنی انسانی ذمہ داریاں پوری کریں گے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative