Home » کالم » جنوبی ایشیا میں مسلم مملکت کےلئے اقبالؒ کی ویژن
rana-baqi

جنوبی ایشیا میں مسلم مملکت کےلئے اقبالؒ کی ویژن

rana-baqi

شاعر مشرق ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبالؒ برّصغیر ہندوستان کے طول و ارض میں پھیلے مسلمانوں میں اسلامی مذہبی احساسات و محسوسات کی یکجہتی کو مشترکہ صفت سمجھتے تھے اور بل خصوص جنوبی ایشیا کے مسلم اکثریتی خطوں میں اسلامی کلچر کی بنیاد پر بّرصغیر ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ اسلامی فلاحی مملکت کے داعی تھے ۔ علامہ اقبال وجدانہ صفت رکھنے والی ویژن کے مالک تھے جبکہ اُنکی ویژن کو عملی شکل دینے کےلئے غیر معمولی فکر و نظر رکھنے والے قائد کی ضرورت تھی۔ چنانچہ قائداعظم محمد علی جناح جو غیر معمولی خدا داد سیاسی فہم و فراست اور تدبرکے مالک تھے ، نے علامہ اقبال کی اِس ویژن کا بروقت ادراک کیا اور حصولِ پاکستان کےلئے ناقابلِ شکست سیاسی جدوجہد کے ذریعے پاکستان حاصل کیا ۔ اِس حقیقت کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ہندوستان میں انگریز ہندو گٹھ جوڑ اور غیرمعمولی انتہا پسند ہندو اکثریتی آبادی کی موجودگی میں مسلمانانِ ہند میں علیحدہ مسلم مملکت کی جوت جگانا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ یہ درست ہے کہ مغلیہ دورِ حکومت میں شہروں اور دیہاتوں میں ہندو اور مسلمان آبادیاں معاشرتی توازن کےساتھ co-existکرتی رہیں لیکن مغلیہ سلطنت کے خاتمے پر مسلمان آبادیوں کے مسائل میں اُس وقت بے حد اضافہ ہوا جب انگریز کمپنی بہادر اور برطانوی حکومتِ ہند نے جو بتدریج مسلمان نوابین اور مغلیہ سلطنت کی جگہ اقتدار میں آئی تھی ، نے مسلمانوں کو سیاسی اور معاشی طور پر تباہ کرنے کےلئے انتہا پسند ہندوﺅں کو برطانوی حکومت ہند کے اقتدار اعلی میں شریک کیا ۔ پروفیسر محمد منور اپنی کتاب تحریکِ پاکستان کے تاریخی خدوخال میں لکھتے ہیں ” بّر صغیرکے مسلمانوں کے خلاف ہندوﺅں اور انگریزوں نے کس طرح باہم گٹھ جوڑ کر لیا یہ ایک طویل اور دردناک کہانی ہے ۔ اِن دونوں قوموں نے مسلمانوں کے حقوق پامال کئے اور اُنہیں یکسر برباد کرنے کےلئے سارا زور لگا ڈالا ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاریخ بھی ایسی گھناﺅنی کوششوں سے پُر ہے ۔ بنگال میں جہاں انگریزی حکومت سب سے پہلے قدم جمانے میں کامیاب ہوئی ، وہاں جملہ انتظامی مشینری ہندوﺅں کے حوالے کر دی گئی ۔ مسلمان چپڑاسی سے بڑھ کر کسی عہدے کی اُمید نہیں رکھ سکتے تھے ۔ یہ وہ حقائق ہیں جن کی تائید تاریخی دستاویزات کرتی ہیں۔ اندریں حالات مسلمانوں کےلئے یہ ایک مشکل تر مرحلہ تھا جس کا ہندو انڈیا کے حوالے سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
قارائین کرام ، جواہر لال نہرو کو جدید ہندوستان کا بانی سمجھا جاتا ہے ۔ نہرو جدید دنیا کے علوم کے ماہر تھے، تاریخ پر اُن کی گہری نظر تھی چنانچہ اُن کی فکر پر ماضی میں جنوبی ایشیا میں کابل سے بنگال تک پھیلی ہوئی ہندو ریاست کے بانی چندر گپت موریا اور اُس کے وزیر و مشیر اور ہندو تاریخ کے مشہور سیاسی دانشور چانکیہ کوٹلیہ کی سوچ ہمیشہ ہی حاوی رہی۔ یہ نہروکی ہی سیاسی شخصیت تھی جس نے جنوبی ایشیا میں بھارت ماتا کے نام پر وحدت ہندوستان یا اکھنڈ بھارت کے تصور کو پھر سے زندہ کیا ۔ وہ چانکیہ کی فکر و نظر کے قائل تھے اور چانکیہ کو بہت ہی لائق و فائق سیاسی دانشور گردانتے تھے ۔ اُن کی فکر کے مطابق چانکیہ نہ صرف بڑا فاضل بلکہ چندر گپت کی سلطنت کے قیام ، ترقی اور استحکام میں زبردست شریک اور مددگارتھا جسے موجودہ دور کے میکاولی سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ۔ نہرو سمجھتے تھے کہ وہ اپنے عمل اور ذہنی قابلیت میں میکا ولی سے بھی بڑھ کر تھا کیونکہ چانکیہ اپنے مقصد کی پیروی اور حصول میں اخلاقی اصول سے بے نیاز اور ارادے کا پختہ تھا ۔ نہرو کا کہنا تھا کہ چانکیہ نے آخری فتح اِس طرح حاصل کی کہ سکندر اعظم کی ہندوستان پر قابض فوج جسے وہ دشمن کی فوج سے تعبیر کرتے تھے میں پہلے تو سازشوں کے ذریعے بے چینی اور بے اطمینانی کا بیج بویا اور جب یہ بیج پھل لے آیا تو اُس نے چندر گپت کے ساتھ مل کر ہندوستان میں موثر مرکزی حکومت قائم کی ۔ جواہر لال نہرو نے چونکہ چانکیہ کی سیاسی حکمت عملی کا گہرا مطالعہ کیا تھا ، لہذا وہ چندرگپت کی طرح ہی گاندہی جی کےساتھ مل کر وحدتِ ہندوستان کے نام پر جنوبی ایشیا میں ایک عظیم ہندو ریاست کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے ۔ جواہر لال نہرو اِس اَمر کو اچھی طرح جانتے تھے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں سندھ سے شروع ہونے والی اسلامی فتوحات جنہیں افغانستان کی جانب سے آنے والے مسلم لشکروں کی آمد نے ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ حکمرانی میں تبدیل کر دیا تھا ، ہندو سماج کےلئے ہمیشہ ہی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی تھی ۔ وہ جانتے تھے کہ اسلام کی ہندوستان میں آمد کے بعد ہندو ازم کی امتزاج و جذب کی معاشرتی قوت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے کیونکہ گذشتہ کئی صدیوں میں لاکھوں ہندوﺅں نے ہندوستان کے طول و ارض میں اسلام قبول کیا ۔ نہرو اپنی کتاب تلاشِ ہند میں لکھتے ہیں کہ اعلیٰ ذاتوں کے ہندو تو فرداً فرداً اسلام قبول کرتے تھے لیکن نچلی ذات کے ہندوﺅں میں پوری برادری یا پور ا گاﺅں اسلام قبول کرتا تھا ۔ وادی¿ کشمیر میں مدت سے ہندو اسلام قبول کرتے رہے ہیں اور وہاں کی نوے فی صد آبادی مسلمان بن چکی ہے ۔ ماضی میں (مسلم دور حکومت میں) لوگوں نے خواہ انفرادی طور پر اسلام قبول کیا یا جماعتی طور پر کیا ، ہندو قوم نے اِس کی مخالفت نہیں کی لیکن آجکل (انگریز ہندو گٹھ جوڑ کے بعد) معاملہ اِس کے بالکل برعکس ہے ، اگر کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے تو ہر طرف غم و غصہ کے جذبات مشتعل ہو جاتے ہیں ۔
درج بالا تناظر میں اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد اٹھارویں صدی میں جب مسلمانوں کی عظیم الشان مغلیہ سلطنت پر زوال کے آثار نمایاں ہونے شروع ہوئے اور انگریز کمپنی بہادر کی اُبھرتی ہوئی سامراجی سیاسی قوت نے مسلمان نوابین کے باہمی انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی بہتر سیاسی ، فوجی اور انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اونچی ذات کے ہندوﺅں کو اپنے ساتھ ملایا اور بتدریج بّرصغیر ہندوستان پر قابض ہوگئے ۔ کیونکہ انگریزوں نے ہندوستان میں اقتدار مسلمانوں سے حاصل کیا تھا چنانچہ اُنہوں نے ہندوﺅں کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی اور مسلمانوں کو بحیثیت قوم کرش کرنے کی پالیسی اپنائی ۔ یہی وہ پس منظر تھا جب ابتدائی طور پر سر سید احمد خان نے مسلمانانِ ہند کو مکمل تباہی سے بچانے کےلئے انگریز حکمرانوں کےساتھ صلح کن رویہ اختیار کیا اور مسلمانوں کو مستقبل کی سیاسی جد و جہد کےلئے جدید تعلیم کے حصول کےلئے رضامند کیا ۔ سرسید احمد خان کی وفات کے بعد علامہ اقبالؒ نے اپنی فکری شاعری کے ذریعے نہ صرف قوم کو جگایا بلکہ ہندوستان میں مسلم قومیت کے فلسفے کو آگے بڑھاتے ہوئے مسلمانوں میں ایک علیحدہ مملکت کی جہت کی جوت جگا کر بے مثال کام کیا ۔ علامہ اقبال ، اسلامی تہذیب و تمدن پر مغرب کی یلغار کے سبب مسلم قوم کی بگڑتی ہوئی حالتِ زار پر کڑتے تھے اور مسلمانوں کو غلامی سے نجات کےلئے آزادی و سربلندی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے تھے اور اِسی حوالے سے اُن کی شاعری نے مسلمانانِ ہند میں خود آگہی ، خودی و ذاتی بصیرت کی تلاش اورسنہرے مستقبل کی جستجو کےلئے جذبہءحریت کو بیدار کر دیا ۔ بلاشبہ حکیم الااُمت ڈاکٹر علامہ اقبال نے اُمتِ اسلامیہ کو زوال کی کیفیت سے نکالنے کےلئے اپنی شہرہ آفاق نظموں شکوہ اور جواب شکوہ کے ذریعے مسلمانانِ ہند کی کھوئی ہوئی عظمت کا احساس دلانے کےلئے اُمتِ اسلامیہ کے ضمیر کو جھنجھوڑا اور مسلمانانِ ہند کے دلوں کو عظمتِ رفتہ کے عظیم مناظر دکھا کر گرمایا ۔ اُنہوں نے شکوہ اور جوابِ شکوہ میں مسلمانوں کی اسلامی تعلیمات سے غفلت ، فرقہ پسندی ، باہمی انتشار اور عملی زندگی میں سرزد ہونے والی کوتاہیوں کی نشان دہی کی اور بیداری¿ فکر سے انسانی جدوجہد کے جذبے کو مہمیز دینے کےلئے تیز تر کرنے کےلئے اپنے پیغامی کلام کے ذریعے مسلمانانِ ہند کو خواب غفلت سے جگانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ درحقیقت علامہ اقبال نے دسمبر 1930 میں اپنے صدارتی خطبہ¿ الہ آباد میں اِس اَمر کی کی قدرے وضاحت کر دی تھی کہ ہندوستان کے شمال مغرب میں مستقبل کی مسلم ریاست مسلم اکثریتی خطوں میں ہی قائم کی جا سکتی ہے۔ قائداعظم ، علیحدہ مسلم ریاست کے حوالے سے فکرِ اقبال سے متفق تھے لیکن 1937 میں تحریک پاکستان کے باقاعدہ آغاز کے باوجود قرارداد لاہو کی شکل میں قرارداد پاکستان 1940 سے قبل نہیں لائی جا سکی کیونکہ قائداعظم ہندوستان کے ہندو اکثریتی صوبوں میں مسلمانوں کی حالت زار پر مسلسل غور و فکر کرتے رہے لیکن 1938 میں علامہ اقبال کی وفات کے بعد بلاآخر قائداعظم طویل سوچ و بچار کے بعد اِسی نتیجے پر پہنچے کہ بّرصغیر میں مسلمانوں کو مکمل تباہی سے بچانے کےلئے مسلم اکثریتی صوبوں میںعلیحدہ مسلم مملکت کا مطالبہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ قائداعظم نے 1937/38 میں علامہ اقبال کی جانب سے قائداعظم کو لکھے گئے خطوط جو علامہ اقبال کی وفات (1938) کے بعد 1943/44 میں شائع ہوئے ، کے دیباچے میں قائداعظم نے اِس اَمر کا اعتراف کیا کہ علامہ اقبال 1938 میں اپنی وفات سے قبل اُن سے ایک آزاد مسلم ریاست کے مطالبے کے اصول کو منوا چکے تھے ۔ قائد نے مزید لکھا ” اقبال کی رائے بنیادی طور پر میری رائے کے مطابق ہی تھی اور آخر کار یہ رائے مجھے اُن نتائج تک پہنچا کر رہیں جو مجھے ہندوستان کے دستوری مسائل پر گہرے غور و فکر کے بعد حاصل ہوئیں اور یہی فکری نتائج مسلمانانِ ہند کے متحدہ عزم کی شکل میں ظاہر ہوئے اور قراردادِ لاہور میں شامل ہوئے ۔ حقیقت یہی ہے کہ علامہ اقبال کی مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کی ویژن کی موجودگی میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت نے نہرو کے وحدتِ ہندوستان کے تصور کو مسترد کر دیا اور قائداعظم کی تحریک پاکستان نے بّرصغیر کی تاریخ کے دھارے کا رخ موڑکر رکھ دیا ۔ ختم شد

About Admin

Google Analytics Alternative