Home » کالم » جوانوں کیلئے پروگرام
Mian-Tahwar-Hussain

جوانوں کیلئے پروگرام

ملک کے دس لاکھ نوجوانو ں کیلئے سو ارب روپے کے قرضے دینے کا اعلان وزیراعظم عمران خان نے 17اکتوبر کو جناح کنونشن سینٹر میں ایک پروقار تقریب میں کیا ۔ 25 فیصدقرضے خواتین کیلئے ہونگے ۔ کاروبار کرنے اور باعزت روزی کمانے کیلئے دس ہزار روپے سے پچاس لاکھ روپے قرض مل سکیں گے ۔ ایک لاکھ روپے تک کا قرضہ بغیر سود یا بینک کے شرح منافع کے بغیر ہوگا ۔ ایک لاکھ نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کی تعلیم دی جائے گی مدارس کے طلباء سے چشم پوشی نہیں کی گئی ۔ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان مدارس میں پانچ سو اسکلز لیبارٹری بنائی جائیں گی ۔ وزیراعظم نے کامیاب جوان پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بڑے دکھ سے یہ بات کہی کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے ۔ چودہ ماہ حکومت کرتے ہوئے یہ بات سامنے آئی کہ اگر لوگ ٹیکس جمع نہیں کروائیں گے تو ملک کو کیسے چلایا جاسکتا ہے ۔ بٹن دبانے سے تو تبدیلی نہیں آتی ریاست مدینہ چند دنوں میں نہیں بنی تھی ۔ سب کو مل کر اپنے اپنے فراءض ادا کرنا ہوں گے ۔ اس وقت ملک کی معاشی حالت کومدنظر رکھ کر اگر بات کی جائے تو پروین شاکر کے شعر کا ایک مصرعہ حالت بیان کرنے کیلئے کافی ہے بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ۔ دوست ممالک سے ہم قرضہ مانگ رہے ہیں ۔ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس والے فروری تک گرے لسٹ میں رکھنے کی بدخبری دے چکے ہیں ۔ کاروبار مندی کا شکار ہے تاجر شٹرڈاءون اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کررہے ہیں کاروبار ٹھپ ہے ایسے حالات میں قرضہ لے کر نوجوان بغیرتربیت کونساکاروبار کرسکتے ہیں ۔ اگرہم ٹھنڈے دل ،دماغ سے سوچیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ نوجوانوں کی اکثریت ہنر مند نہیں ۔ تعلیم سے بیگانہ جوان روزانہ اجرت پرکام کی تلاش میں ہوتے ہیں یا پھر شیطانی خیالات میں الجھ کر قانون شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ ملک میں نہ تو ایسے مشاورتی سینٹرز ہیں جہاں نوجوانوں کو تلاش روزگار کیلئے صحیح راہنمائی مل سکے اور نہ ہی ایسے ادارے ہیں جہاں سے نوجوانوں کو قرض دے کر کاروبار کے بارے میں بتایا جاسکے کہ انہیں مارکیٹ میں آنے کیلئے کن کن باتوں کا خیال رکھنا ہوگا تاکہ قرض کے پیسے ڈوبنے سے بچ سکیں ورنہ نوجوان سرمایہ بھی کھوسکتے ہیں اورمقروض بھی ہونے کے چانسز ہوں گے ۔ حکومت کی طرف سے جب قرض دیاجائے گا تو لامحالہ اسکی واپسی کیلئے چند شرائط بھی لازمی ہوں گی اس لئے صرف قرض دینے کی سہولت بھی دینا اخلاقی اور قانونی فرض بناناچاہیے ۔ میں نے اپنے پہلے کالم میں کہا تھاکہ اس وقت پولی ٹیکنیک اداروں کی ضرورت ہے ۔ حکومت عارضی قیام، طعام کی سہولت کے ساتھ ساتھ فنی تربیت کا بندوبست کرے ورنہ صرف دستر خوان کشادہ کرنے سے مسائل مستقل طورپر حل نہیں ہوسکتے ۔ حکومت کا اولین فرض ہے کہ کاروبار کیلئے تاجروں کی مشاورت سے سازگار ماحول پیدا کیا جائے ۔ اس سلسلے میں فیڈریشن آف چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور مقامی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی انتظامیہ سے مشاورت اور راہنمائی لی جاسکتی ہے یہ ادارے تاجروں کی فلاح بہبود اور ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرتے ہیں ۔ وزارت تجارت ان اداروں سے مشاورت کے ذریعے شارٹ کورسز کا بندوبست کرسکتی ہے جس میں کاروبار کرنے سے پہلے نوجوانوں کو تجارت کے کسی بھی شعبے کو اختیار کرنے اوراسکے اصول ضوابط کے بارے میں معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں اس طرح نوجوان آسانی سے ایوان صنعت، تجارت کی راہنمائی سے اپنے لئے کسی بھی شعبے کا انتخاب کرنے اوراس شعبے کے بارے میں بھرپور معلومات حاصل کرسکتے ہیں تاکہ سرمایہ بھی محفوظ رہے اور مقاصد بھی حاصل کیے جاسکیں ۔ ورنہ جس طرح پہلے ہوتا چلا آیا ہے کہ پہلے قرض لیں پھر معاف کروالیں تو اسی طرح موجودہ حکومت پر بھی اپنوں کو نوازنے کا داغ لگ جائے گا ۔ قوم کا پیسہ ضائع ہونے سے بچنا چاہیے ۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ملی بھگت سے قرض دینے والے ادارے جن کو قرض دیا گیا ہے انکی فائلیں ہی ضائع یا گم کردیں ۔ ایسا ان کیسز میں ہوسکتا ہے جوکہ ان کے قریبی رشتے دار یاپھردوست یا دوستوں کے دوست یا ان سے تعاون کرنے والے ہوں پھر قرض واپس نہیں ہوسکتایعنی نہ ہوگا بانس اور نہ بجے کی بانسری ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کاروباری سرگرمیاں منجمد نہ ہوں جوکہ ملکی معیشت کیلئے بہت نقصان دہ ہوتی ہیں ۔ نوجوانوں کو قرض دینے کے لئے مناسب لاءحہ عمل بھی ترتیب دے دیا ہوگا ۔ قرض کے اجراء کا طریقہ بھی آسان ہوگا یہ نہ ہوکہ’’ اندھا ونڈے ریوڑیاں تے مڑ مڑ اپنیاں نوں ‘‘ صرف پی ٹی آئی کے نوجوان مستفیض نہ ہوں بلکہ ملک کاہر نوجوان جسکے پاس سفارش ہے یا نہیں اگر وہ شرائط پوری کرتا ہو تو اسے کاروبار کیلئے قرض ملنا چاہیے تاکہ میرٹ پر مستحق نوجوانوں کومتعدد دفاتر کے چکر لگائے بغیر قرضے مل سکیں ۔ آپ کو یاد ہوگا ملائیشیاء کے مسیحا مہاتیر محمد نے ہمارے ملک کو دوتجاویز دی تھیں اول ملک کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پانچ سال کیلئے انجینئرنگ کی تعلیم مفت کردی جائے اور اس کے ساتھ سمال انڈسٹری کےلئے چھوٹے قرضے جاری کیے جائیں ۔ یہ مناسب وقت ہے کہ حکومت جوکہ نوجوانوں کی فلاح، ترقی کیلئے کام کرنا چاہتی ہے وہ ان تجاویز پرضرور غورکرے جو ملائیشیاء کے مہاتیر محمد نے دی ہیں ۔ ہمارے نوجوانوں اگر ہنر مند ہو جائیں اور سمال انڈسٹری کو بھی تحفظ ملے تو یقین ہے کہ ملکی معیشت پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوں گے کسی بھی کام کرنے میں بلاشک وقتار درکارہوتا ہے اور پھر اسکی کامیابی بھی وقت کے ساتھ سامنے آتی ہے ۔ چند دنوں میں جادو کی چھڑی سے تبدیلیاں رونما نہیں کی جاسکتیں ۔ نیک نیتی پہلی شرط ہے جوکہ ہمارے وزیراعظم میں بدرجہ اتم موجود ہے ۔ لہذا دانش جمع تجربہ جمع سرمایہ جمع محنت جمع اللہ پر بھروسہ یقیناً کامیابی کے دروازے کھولے گا ۔ اچھی پالیسیوں کے ذریعے نمایاں تبدیلیاں ہوسکتی ہیں ۔ حال ہی میں گورنر اسٹیٹ بینک کا بیان بھی غور طلب ہے جس میں انہوں نے معاشی سست روی سے پیدا ہونے والے خدشات کی طرف بھی اشارہ کیا ۔ ملک میں افراط زر سے بھی نمٹنا ہوگا ۔ اشیائے خوردونوش کی جوگرانی اس وقت ہے وہ اگرچہ قلیل عرصے میں قابو میں آجائے گی ۔ آئی ایم ایف کے چکروں سے آزاد ہونے کیلئے ہ میں اپنی بچتوں کی شرح میں اضافہ کرنا ہوگا ۔ افراط زر اور معیشت کی بگڑتی صورت پر قابو پانے کیلئے کاروباری فضا کو بہتر سے بہتر بنانے کی فضا قائم کرنا ہوگی ۔ زرعی اور صنعتی پیداوار میں اضافے ہی سے ہم اپنی موجودہ مشکلات پر قابو پانے کے لائق ہوسکتے ہیں ۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ درآمدی پالیسی کو سخت کیا جائے اور برآمدی پالیسی پر توجہ دے کر بیرونی تجارت کومزید بڑھایا جائے اور برآمدی پالیسی پر توجہ دے کر بیرونی تجارت کومزید بڑھایا جائے ۔ اپنے اخراجات پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے ۔ سرکاری اخراجات کو کم کرنے کیلئے خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ۔ حکومت اگرچہ چودہ ماہ کے بعد اب صحیح لائن پر چل پڑی ہے لہذا نتاءج آنے میں کچھ وقت لگے گا ۔ اس قلیل عرصے میں تو حکومت مسائل کو سمجھنے کے قابل ہوتی ہے ان سے کرامات کی امیدیں نہیں لگاسکتے ۔ نیک نیتی سے حکومت یعنی وزیراعظم اور وزراء اگر ایک ٹیم بن کر کام کریں گے تو ان سے بہترین نتاءج کی توقع ہوسکتی ہے ورنہ وقت تو گزر ہی جائے گا پھر وہی تماشے لگے ہوں گے جن کو دیکھ دیکھ کر لوگ تنگ آچکے ہیں ۔ نوجوان ملک کی طاقت ہیں ان کے مستقبل کو بہتربنانے کی جدوجہد لازمی ہے اچھی پالیسیوں کے ساتھ نیک نیتی نتیجہ خیز ہوگی ۔

About Admin

Google Analytics Alternative