Home » کالم » جوہری طاقتوں کے درمیان تصادم خطرناک ہو سکتا ہے

جوہری طاقتوں کے درمیان تصادم خطرناک ہو سکتا ہے

کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشیدگی میں بتدریج اضافہ کر رہاہے۔سرحد پر آئے روز اندھا دھند فائرنگ سے پاکستانی شہری شہید و زخمی ہو رہے ہیں۔ سکردو اور ملحقہ علاقوں میں بھارتی فوج نے جان بوجھ کر جارحیت اور کشیدگی کا آغاز کیا شاید وہ کارگل میں شکست کی شرمندگی مٹانا چاہتی ہے۔ بھارتی جارحیت قابل مذمت ہے۔ بھارت مذاکرات کی طرف آئے کیونکہ پاکستان پڑوسی ممالک کے ساتھ تعمیری بات چیت اور امن کا خواہاں ہے لیکن اگر بھارت نے اپنی ڈگر نہ چھوڑی تو پھر جنگ پاکستان کو بھی کرنا آتی ہے۔بھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے جوانوں کی شہادت سے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی نئی کوششوں کوخطرہ لاحق ہوگیاہے۔اگر بھارتی جارحیت کی وجہ سے یہ جنگ شروع ہوتی ہے تو خطرہ ہے کہ کہیں تیسری عالمی جنگ کا روپ نہ دھار لے ۔بھارت اس وقت پاکستان دشمنی میں پاگل ہو رہا ہے کیونکہ بھارت میں اگلے چند ماہ میں عام انتخاب ہونے ہیں لہذا معمولی واقعہ کو بھی بہت بڑا دکھایا جارہا ہے۔ اسی ضمن میں بھارتی وزیر دفاع نے دھمکی دی تھی کہ پاکستان کسی دھوکے میں نہ رہے، ہم سخت جواب دیں گے۔ دوسری طرف بھارتی آرمی چیف نے بھی اپنی مرضی کا محاذ کھولنے کی دھمکی دی اور ایسی ہی ایک دھمکی جموں کے کور کمانڈر نے بھی جاری کی ہے۔کسی کا کہنا ہے کہ ایک بھارتی فوجی کے بدلے پانچ پاکستانی فوجیوں کی جان لی جائے۔اسی طرح پاکستان دشمنی میں بھارت کا یہ حال ہے کہ بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا کہ پاکستان سے تربیت یافتہ عسکریت پسند جنوبی بھارت پر حملوں کے لئے سری لنکا کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مہاراشٹر پولیس نے مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے موصول دہشت گردی کے خلاف الرٹ جاری کی کہ پاکستان سے تربیت یافتہ آٹھ عسکریت پسند سری لنکا سے جنوبی بھارت پر حملوں کے لئے داخل ہو سکتے ہیں جن میں سے چار دہشت گرد پنجابی جب کہ باقی کشمیری یا پٹھان ہیں جو تامل ناڈو میں مادورائی کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ لشکر طیبہ بھارت پر حملے کر سکتی ہے اور آٹھ مشتبہ عسکریت پسند پاکستان سے تربیت یافتہ ہو سکتے ہیں۔سری لنکا کے ا خبا ر ’’کولمبو گزٹ‘‘ کے مطابق سری لنکن فوج نے بھارتی میڈیا کی ایسی تمام رپورٹوں کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ سری لنکن فوج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل جگاتھ جے سوریا نے کہا کہ بھارتی میڈیا کی رپورٹیں بے بنیاد ہیں ۔انتہائی کشیدگی اور جنگی ماحول کی اس فضا میں ہمارے حکمرانوں اور عسکری قیادتوں کو دفاع وطن کے تقاضے نبھانے کی تیاری کرنی چاہیے یا اب بھی بھارت کے ساتھ مذاکرات کا راگ الاپنا چاہیے؟ اگر بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے مسلسل یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ مذاکرات کیلئے پہلے پاکستان کو بھارت کی مرضی کے مطابق سازگار ماحول بنانا ہوگا تو ہمارے حکمرانوں کو ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے تقاضوں کے برعکس بھارت کے ساتھ مذاکرات کی کیا جلدی ہے؟ حد تو یہ ہے کہ بھارت کی ہر دھمکی اور ہر جارحیت کا جواب ہماری جانب سے مذاکرات کی خواہش کے اعادہ کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کے دوران قومی خارجہ پالیسی کا تذکرہ کیا تو اس میں بھی پاکستان بھارت مذاکرات کے ذریعے قیام امن کی یکطرفہ خواہش کا اظہار کیا۔ ہمارے حکمرانوں کی ایسی فدویانہ پالیسیوں کے بعد کیا توقع رکھی جا سکتی ہے کہ بھارت ہماری سالمیت کیخلاف اپنے جارحانہ عزائم سے باز آجائیگا اور مذاکرات کی میز پر مسئلہ کشمیر کے یو این قراردادوں کے مطابق حل سمیت تمام متنازعہ ایشوز کے تصفیہ پر آمادہ ہو جائیگا جبکہ ہمارے حکمران تو بھارت کو ہماری سالمیت کیخلاف جارحیت کے ارتکاب کا نادر موقع فراہم کر رہے ہیں۔ اگر بھارت کو ہماری ایٹمی صلاحیتوں کے حوالے سے اپنی سالمیت کے معاملہ میں کسی قسم کا خوف ہی لاحق نہیں ہو گا تو وہ مذاکرات کی میز پر ہمارے مؤقف کو تسلیم کرنا تو کجا‘ مذاکرات کا راستہ ہی اختیار نہیں کریگا جس کا واضح عندیہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حالیہ بیان سے مل رہا ہے۔ اس تناظر میں موجودہ صورتحال بھارت کے ساتھ مذاکرات کی نہیں‘ اسکے جارحانہ جنگی عزائم کا ٹھوس اور دوٹوک جواب دینے کی تیاریوں کی متقاضی ہے جس میں کسی قسم کی نرمی ملک کی سالمیت کے دفاع میں نرمی کے مترادف ہو گی جبکہ ہمارے پاس اب ملک کی سالمیت کے تحفظ کے معاملہ میں کسی ہلکی سی کوتاہی کی بھی گنجائش نہیں ہے۔

***

About Admin

Google Analytics Alternative