Home » کالم » ’’حساس فیصلہ‘‘۔بڑا اہم قدم

’’حساس فیصلہ‘‘۔بڑا اہم قدم

انسانوں میں محبت کی طلب’انسانوں میں علم کی جستجو اور پھر دکھی انسانیت کیلئے بے پناہ اورناقابل برداشت جذبہ ترحم کی سرشاری یہ تابندہ وایثارکیش احساسات ہوتے ہیں جس سے کسی بھی قوم کے افراد کی زندگیوں میں توانائیاں اْبھرتی ہیں ایسے سماج میں ثولیدہ فکری کی کوئی جگہ نہیں ہوتی، ایسی اقوام کا شعورہمہ وقت بیداررہتا ہے اورایسے معاشروں میں باہمی اتحاد ویگانگت کا انسانیت پرورماحول کبھی ماند نہیں پڑتا، انسانیت پرورایسے سماج کا ہرایک فرد اپنے عزیزرشتہ دار واحباب تودرکنارکسی دوسرے فرد کیلئے بھی کچھ نہ کچھ اپنے تیءں کرگزرنے کی فکرمیں رہنے کو اپنی عبادت تصورکرتا ہے’بحیثیت مسلمان ہمیں بلارنگ ونسل علاقائی حدودوقیود کے تعصبات سے بالا تر ہو کر انسانوں کے ساتھ یکساں جذبہ ہمدردی کی تعلیم ہمارے آفاقی دین اِلٰہی اسلام کے بنیادی احکامات میں دی گئی ہے کون انکارکرسکتا ہے’ قرآن حکیم فرقان مجید براہ راست عالم انسانیت کومخاطب کرتا ہے مثلاً ‘کسی کی زبان اورکسی کے ہاتھ سے کسی دوسرے انسان کوکوئی تکلیف نہ پہنچے’ اسلامی تعلیمات کاخلاصہ یہ بھی ہے کہ جس نے ایک انسان کی بھی جان بچائی ہے گویا اْس نے تمام عالم انسانیت کومحفوظ کردیا’ انسانی ترقی کے متذکرہ بالا ثمرات انسانوں کے سبھی طبقات تک دنیا کے ترقی یافتہ اورترقی پذیرممالک تک پہنچانے کے فرائض اپنی جگہ اہم سہی! لیکن یہاں آج ہمارا مدعا یہ ہے کہ ترقی یافتہ مغربی دنیا نے جس کی باگ ڈور آج کل امریکا کے ہاتھوں میں ہے، مغرب کو بھی امریکا نے باورکرایا ہوا ہے اورخود بھی اسی راہ پر گامزن ہے انسانیت کی فلاح وبہبود کی آڑ میں ترقی پذیر ممالک اور خصوصا مسلم دنیا اور بالخصوص مسلم دنیا کے واحد ایٹمی ریاست پاکستان میں’ انسانیت کی بقاء کے لیئے ترجیحی بنیادوں پر جتنا زیادہ کام ہوسکے وہ بلاتاخیر کیا جائے اوراس کام کو پائیہ تکمیل پہنچانے کیلئے’غیرریاستی ادارے’ قائم کیئے جائیں ‘ عرف عام میں ان اداروں کو ‘این جی اوز’ کہا جاتا ہے’ مسلم دنیا میں اور خصوصا پاکستان میں مغربی و امریکی امداد سے قائم ہونے والی این جی اوز کے مذموم عزائم آج ہمارا موضوع ہیں کاش! یہ موضوع آج سے 35 ۔30 برس قبل ہمارے پیش نظر ہوتا‘ 35 ۔30 برس ایک عمرہوتی ہے، امریکی ومغربی ڈالرزکی بیساکھیوں پر چلنے والی ان ‘این جی اوز’ نے ہمارے سماجی وثقافتی کلچر میں جو تباہ کن بربادیاں ڈھانی تھیں وہ کب کی ڈھائی جاچکی ہیں، جناب! امریکا’برطانیہ اوردیگرمغربی ممالک کی نقد امداد نے پاکستان کی نظریاتی وفکری اساس کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچانا تھا پہنچا ضروردیا ہے ہمارے نہایت ہی قریبی ایک دوست نے جو بڑے لائق فائق دنیا گھومے ہوئے ہیں اْنہوں نے ہماری آنکھیں ہی نہیں کھول دیں اُنہوں نے یہ مزید انکشاف کر کے ہمیں دنگ کردیا اْنہوں نے کہا کہ ‘بہت دیرکی مہرباں آتے آتے’ شائد کسی کو یاد ہو کہ حبیب سوئیکارنوکے خوشحال انڈونیشیا کی معاشی تباہ کاری کی ابتداء میں امریکی ومغربی امداد پرقائم ہونے والی این جی اوزکا ہاتھ تھا جیسے وزیراعظم مہاتیرمحمد کے برسراقتدار آنے سے قبل ملائیشیا کے مالیاتی اداروں کی تباہی ہوئی تھی پُراعتماد فیصلہ کن قوت ارادی کے سچے‘کھرے اور دوٹوک لب ولہجے کے جذبوں سے لیس زمین سے خالص لگن وانسیت اوروالہانہ اپنائیت رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ نیک نیت و نیک سیرت شخصیت نے تباہ ہوتے ہوئے ملائیشیا کوترقی یافتہ جدید دنیا کا خوش حال ترین ملک بنانے میں اپنے دن اور اپنی راتیں ایک کردی تھیں اُنہو ں نے اس سفر میں کہیں سمجھوتہ نہیں کیا ملائیشیا کی سرزمین سے ہراْس غیر ملکی ادارے کو فی الفورنکال باہر کیا جس پررتی برابر کوئی شک وشبہ ہوا کئی مسلم ممالک کی اندرونی انتظامی بدحالیوں میں امریکی ومغربی امداد پرچلنے والی این جی اوز نے بڑا بدنام رول ادا کیا ہے جیسے افروایشیائی ممالک میں انسانی فلاح وبہبود کے نا م پروجود میں آنے والی این جی اوز نے اپنے خطے کو غیرملکی خفیہ ایجنٹس کا تقریباً گڑھ بنادیا یا اب بھی وہاں وہ خفیہ ایجنٹس اپنے دفاتر قائم کیئے بیٹھے ہیں جنہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ‘ کہیں غربت کے خاتمہ کا نام’کہیں اظہاررائے کی آزادی کا نام‘کہیں عورتوں کے بنیادی حقوق کی بحالی کا نام ‘کہیں صحت کے بنیادی مراکز کا نام‘کہیں دوردراز پسماندہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے دلفریب نعروں اورمختلف سیاسی وسماجی تنظیمی بحالی کے ‘دستاویزی پیپرزورک’ کے رنگین و خوشنما چارٹس کی بریفنگ تیارکی جاتی ہیں ملکی اعلیِ تعلیم یافتہ شرطیہ’بہترین انگریزی ڈرافٹنگ کرنے پڑھنے اور فرفربولنے والے مفادپرستوں کی دستیابی میں غیر ملکی خفیہ عزائم رکھنے والوں کو کوئی مشکل پیش نہیں آتی ہے ایسے مطلوبہ افراد باآسانی بعض اوقات حکومتی کارندوں میں ہی سے اُنہیں مل جاتے ہیں، لیجئے جنابِ والہ!’این جی او’ بن گئی؟ بیرون ملک سے نہ صرف فنانسنگ کا آغاز ہوگیا بیرون ملک سے اْن کے ‘باسنز’ اور دیگر کارندے بھی ملک میں آنے جانے لگے اور کسی نے پوچھا تک نہیں‘ یہ این جی او جیسے بے پناہ مالی فوائد پہنچانے والے ادارے کون لوگ قائم کرتے ہیں؟ بیرون ملک سے اْن کے رابطوں میں کون کون ہوتا ہے ؟ان اہم تفصیلات کی جانچ پڑتال کون کرتا ہے؟ جناب والہ! یہ اہم ذمہ داری وفاقی وزارت داخلہ کی ہوتی ہے، گزشتہ 71 برس تو چھوڑیں 25۔20 برسوں میں این جی اوزکے نام پر ملک میں ایسی اَنت مچی کہ رہے نام اللہ کا‘جہاں کہیں اگر آج یہ احساس ہواہے تو اسے بروقت اور بڑا اہم فیصلہ سمجھیں دیکھتے ہیں سی آئی اے اور ایم آئی 6 اور ایم آئی 5 سمیت موساد اور را کے خفیہ ایجنٹس جو ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں ملک کے ا ہم اداروں میں گھسے ہوئے ہیں ان کا ‘مکو’کیسے ٹھپاجاتا ہے؟ آج کی وفاقی وزارت داخلہ کو ترجیحی بنیادوں پر اپنے دن اور رات ایک کرنے ہونگے یہ معمولی کام نہیں ہے ،ملک غیر معمولی حالات و واقعات سے دوچارہے، لہٰذا غیر معمولی اقدامات فی الفور اْٹھانے ہونگے، یقیناً7 اکتوبر کو وفاقی وزارت داخلہ نے ایک بڑاہم فیصلہ کیا ہے جس کی بڑے شدومد سے ضرورت تھی 18 عالمی این جی اوز سے وابستہ غیرملکی افراد کو 60 دنوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا گیا ہے شکر ہے کئی دہائیوں میں شاید یہ پہلا موقع ہوگا کہ قوم یہ سن رہی ہے کہ’’ امریکیوں اور ‘برطانوی سمیت کئی مغربی ممالک کے افراد کو پاکستان کی سرزمین چھوڑنے کا حکم دیا جارہا ہے ‘‘ 72 عالمی این جی اوز پر پابندی عائد کرنے کا بڑا احسن فیصلہ کیا گیاجبکہ 141 این جی اوزکو جہاں ملک میں اپنے امور نمٹانے کی اجازت دی گئی ہے، وہاں اْن این جی اوزکو نئے حکومتی قواعدو ضوابط پوری کرنے کے بعد اپنے آپ کو پاکستان میں رجسٹرڈ کرانے کا بھی پابند کیا گیا ہے انسانی فلاح وبہبود کے نام پر قوم اپنے ملک میں غیرملکی خفیہ ایجنٹس کی مذموم سرگرمیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں کافی عرصہ سے قوم ایسے ہی ’’حساس اقدامات‘‘ کی منتظر تھی ‘

About Admin

Google Analytics Alternative