Home » بین الاقوامی » حسینہ واجد قاتلانہ حملہ کیس میں خالدہ ضیا کے بیٹے کو عمر قید

حسینہ واجد قاتلانہ حملہ کیس میں خالدہ ضیا کے بیٹے کو عمر قید

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے ملک کی موجودہ وزیراعظم حسینہ واجد پر قاتلانہ حملے میں ملوث 19 افراد کو سزائے موت جبکہ ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے کو عمر قید کی سزا سنادی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم حسینہ واجد پر حملے کے مقدمے میں سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمٰن سمیت 49 افراد نامزد تھے، ان پر مجرمانہ سازش اور متعدد قتل کے الزامات عائد تھے۔

طارق رحمٰن کا ٹرائل ان کی غیر حاضری میں کیا گیا کیونکہ وہ 2008 میں لندن فرار ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ 2004 میں اس وقت کی اپوزیشن رہنما اور موجودہ وزیراعظم حسینہ واجد کی ریلی پر گرینیڈ حملے کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئیں تھیں جبکہ 20 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

پروسیکیوٹر مشرف حسین نے رپورٹرز کو بتایا کہ ’ہم اس فیصلے کے لیے خدا کا شکر ادا کرتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں امید تھی کہ طارق رحمٰن کو سزائے موت دی جائے گی کیونکہ عدالت نے نوٹ کیا تھا کہ اس حملے میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا تھا’۔

مشرف حسین نے بتایا کہ 2 سابق وزرا کے علاوہ ملک کی طاقت ور انٹیلی جنس ایجنسیز سے تعلق رکھنے والے 2 سابق سربراہان کو بھی سزائے موت سنائی گئی۔

علاوہ ازیں، کالعدم تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی کے 15 انتہا پسندوں کو اس سازش کا منصوبہ بنانے اور حملہ کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔

خیال رہے کہ حرکت الجہاد الاسلامی کے رہنما کو گزشتہ برس اپریل میں پھانسی دی گئی تھی۔

پروسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ بی این پی کے وزیر عبدالسلام پنٹو نے مذکورہ تنظیم کے ساتھ سازش کرکے گرینیڈ ان کے حوالے کیے تھے۔

وزیر داخلہ اسد الزمان خان کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے سے مطمئن ییں، انہیں انصاف مل گیا۔

طارق رحمٰن کے وکیل ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کی نوعیت سیاسی تھی۔

انہوں نے فیصلے کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ سنا کر طارق رحمٰن کو دسمبر میں ہونے والے انتخابات سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’طارق رحمٰن کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت یا گواہ نہیں تھا‘۔

بی این پی کے ترجمان فخر الاسلام عالمگیر نے اس فیصلے کو مسترد کیا، ان کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ سیاسی انتقام کا واضح نمونہ ہے’۔

دوسری جانب پولیس کے ترجمان سہیل رانا کا کہنا تھا کہ عدالت کی حدود میں سخت سیکیورٹی تعینات کی گئی تھی تاکہ فیصلے کے بعد متوقع اشتعال انگیزی سے بروقت نمٹا جاسکے۔

2004 میں جب حسینہ واجد ریلی سے خطاب کررہی تھیں اس وقت گرنیڈ حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں اکثر افراد شدید زخمی ہوئے تھے، اسی حملے میں سابق صدر کی اہلیہ بھی جاں بحق ہوگئیں تھیں۔

اس حملے کے 4 سال بعد دسمبر 2008 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد حسینہ واجد اقتدار میں آّئیں تھیں۔

یاد رہے کہ بی این پی نے 2014 میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جس کے بعد حسینہ واجد ایک مرتبہ پھر اقتدار میں آئیں تھیں لیکن امکانات ہیں کہ ان کی پارٹی رواں سال دسمبر میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لے گی۔

تاہم رواں برس خالدہ ضیا کو بدعنوانی کے الزام میں 5 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد سے طارق رحمٰن خود ساختہ جلا وطنی کے باوجود ملک کی مرکزی اپوزیشن پارٹی بنگلہ دیش نیشنلسٹ ہارٹی (بی این پی) کی رہنمائی کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں سزائے موت دینا عام بات ہے اور سیکڑوں افراد کو سزائے موت کے ذریعے پھانسی دی جاتی ہے۔

سال 2007 سے اب تک ملک میں 9 انتہاپسند رہنماؤں، ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت کے 5 رہنماؤں اور سینئر اپوزیشن رہنما کو بھی پھانسی دی جاچکی ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative