Home » تازہ ترین » حکومت اور اپوزیشن میں معاملات طے پا گئے۔ ایس کے نیازی کا انکشاف
sk niazi

حکومت اور اپوزیشن میں معاملات طے پا گئے۔ ایس کے نیازی کا انکشاف

ایس کے نیازی کی تجزیے کے مطابق حکومت اور اپوزیشن میں معاملات طے پا گئے ،دھرنا عیدمیلاد النبیﷺ کے بعد ختم ہوجائیگا۔ الیکشن کب ہوں گے؟ ایس کے نیازی نے بتادیا۔دو اہم صحافیوں کے ’’مکالمہ‘‘نے پاکستان کا سیاسی مستقبل عیاں کردیا۔

اسلام آباد (عائشہ مسعود) چیف ایڈیٹر/روزنامہ خبریں ضیاء شاہد کے پروگرام’’مکالمہ‘‘ میں ایس کے نیازی نے سوالات کے جوابات دیئےدھرنے کا نتیجہ کیا ہوگا؟ فائدہ کس کو ہوا؟ الیکشن کب ہونگے؟ مولانا ’’ قومی‘‘ لیڈربن گے؟کیافوج کے بغیر شفاف انتخابات ممکن ہیں؟ قائداعظم کا ویژ ن رکھنے والے وزیراعظم عمران خان کی مشکل کیا ہے؟ ایس کے نیازی نے تمام نقاط پر روشنی ڈال دی۔

ایس کے نیازی کی معروف صحافی ضیاء شاہد کے پروگرام ’’مکالمہ‘‘ میں شرکت نے پاکستان کے سیاسی مستقبل کو عیاں کردیا ۔ایس کے نیازی نے ضیاء شاہد کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ دھرنے سے دراصل ن لیگ اور پی پی کو فائدہ ہوا ہے البتہ مولانا فضل الرحمن کو اس لحاظ سے کامیابی ملی ہے کہ انہوں نے ایک کامیاب ’’پاور شو‘‘ کیا اورپارلیمنٹ میںن لیگ اور پیپلز پارٹی سے کم اکثریت حاصل کرنے کے باوجود کامیاب دھرنا دے کر اپوزیشن کا بھرپور کردار ادا کیا۔جس کا فائدہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو ہوگا جبکہ مولانا فضل الرحمن کو یہ اعزاز بھی جاتا ہے کہ انہوں نے مختلف مکتب فکر کے مذہبی لوگوں کوایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کر قومی لیڈر کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اس کے علاوہ مولانا یہ اجتماع بغیر کسی نقصان کے منعقد کرنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ ایس کے نیازی کے پروگرام ’’سچی بات‘‘ اور روز نیوز چینل کی تعریف کرنے کا ذکر کرتے ہوئے ایس کے نیازی نے کہا یہ مولانا فضل الرحمن کی محبت ہے کہ وہ اس قسم کی جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ لینے کے مطالبے کے جواب میں ایس کے نیازی نے کہا کہ یہ مطالبہ غیر آئینی ہے ۔ خبریں کے ایڈیٹر ضیاء شاہد کے اس سوال کے جواب میں کہ پی ٹی آئی نے حکومت میں آنے سے پہلے پچھلی حکومتوں کو قرض لینے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا ایس کے نیازی نے کہا کہ ایک سال سے زائد عرصہ ہونے کے باوجود یہ حکومت معاملات کو بہتر نہیں کرسکی مہنگائی کا سلسلہ ہمارے سامنے ہیں۔ عام آدمی کیلئے روزمرہ کی اشیاء خریدنا بھی مشکل ہوچکا ہے۔ عوام کو مایوسی سے نکالنے کیلئے پی ٹی آئی کی حکومت کو عوام کے مسائل حل کرنے کے بارے میں جلد سوچنا ہوگا۔ایس کے نیازی نے پی ٹی آئی کی حکومت کے بارے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے دراصل بلند وبالا دعوے کردیئے تھے جس میں یہ بھی شامل تھا کہ وہ پچاس لاکھ گھر پانچ سالوں میں تعمیر کرینگے اور ملازمتیں فراہم کرینگے اور باہر سے انوسیمنٹ بھی آئے گی مگر ان میں ایک بھی دعویٰ پورا نہ کیا جاسکا کیونکہ میرے خیال میں پچاس لاکھ گھر پانچ سال میں مکمل کرنا ممکن نہیں تھا۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال میںپچاس لاکھ گھر بنانے کیلئے 20سال کا عرصہ درکار ہوسکتا ہے۔
چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور چیئرمین روز ٹی وی ایس کے نیازی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت ٹیکس کا نظام بہتر بنانے میں بھی ناکام ہوئی ہے حالانکہ میرا خیال ہے کہ وزیراعظم عمران خان قائداعظم کا ویژن رکھتے ہیں مگر ان کیساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ایک تو ان کے ساتھ دوسری سیاسی پارٹیوں سے آئے ہوئے وزراء ہیںاور ان آزمودہ لوگوں سے بہتر نتائج کی توقع رکھنا دشوار بات ہے۔ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے پاس عوامی مسائل کے ادراک کا کوئی ذریعہ نہیں۔روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیاء شاہد کے ایک اہم ترین سوال کے جواب میں ایس کے نیازی نے پیشن گوئی کہ الیکشن ڈیڑھ سے دو سال کے عرصے میں ہونگے اور الیکشن فوج کے بغیر نہیں ہوسکتے۔فوج کو جب بلایا جاتا ہے تب آتی ہے اور برسر اقتدار حکومت فوج کو بلاتی ہے لہٰذا فوج پرالزام نہیں لگانا چاہیے۔

About Admin

Google Analytics Alternative