1

حکومت مخالف مارچ اور دھرنوں کی سیاست!

ملک میں حکومت مخالف مارچ،اپوزیشن اتحاد اور دھرنوں کی سیاست نے پورے ملک کے باشعور اورفکرمندلوگوں کو ہلاکررکھ دیاہے ، دوستی اوردشمنی کامعیارذاتی مفادبنتا جارہا ہے ۔ سیاست کی ڈوری جن کے ہاتھ میں ہے وہ دوستی اور رشتے ناتے چمک کودیکھ کرہی آگے بڑھتے ہیں ، تشدد کی سیاست کا دور دورہ ہے اور رواداری معدوم ہے اور اب تک تاریخ یہی بتاتی ہے کہ سب کی سوچ تنگ نظری پر مبنی ہے جب کہ جو کچھ وسیع القلب واقع ہوئے ہیں ان پر فتوے کا ٹھپہ لگادیا جاتا ہے ۔ مسلکی بنیادوں پر کافی دوریاں محسوس کی گئی ہیں اواسلامی تہذیب کے جملہ راہ ورسم یہاں ہوا ہوتے نظرآرہے ہیں ۔ لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھاہے ۔ تمام فرقے اپنے آپ کو ہی سچا مسلمان اور محب وطن تصورکرتے ہیں جبکہ باقی سب ہی یہود و ہنود اور استعمار کے ایجنٹ قرار دئے جاتے ہیں ۔ انا و لا غیری کے فارمولے پر ہر فرقہ کے پیروکار عمل کرتے ہیں جس کے نتیجے میں مخالف فرقے کا ردعمل بھی شدید اور نہایت سخت اورجارحانہ ہوتا ہے جبکہ بہت لوگوں کو لوگوں کو اعتدال پسند کہاجاسکتاہے اور مگر ان کی حب الوطنی کو شکوک سمجھا جاتا ہے اور فتوے لگا کر ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ ہمارا ملک اب تک ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں کیوں شامل نہیں ہوسکا ا س کی سب سے بڑی وجہ کچھ لوگ یہاں ناخواندگی کو قرار دیتے ہیں ، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صحت کی ناگفتہ بہ حالت نے اس ملک کو آگے بڑھنے سے روک رکھا ہے،ایک حلقہ غربت کو قصوروارگردانا جاتاہے، ایک گروہ ایسابھی ہے جن کا خیال ہے کہ اس ملک کو آگے بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت ہے ۔ لیکن ایک بہت بڑاطبقہ وطن عزیز کی ترقی میں بدعنوانی اورچوربازاری کو سب سے بڑی رکاوٹ قراردیتاہے لیکن راقم الحروف کا خیال ہے کہ ملک کی تعمیر وترقی کی راہ میں فرقہ واریت کا ایک جنونی بھوت کھڑاہے جو بظاہرنظرنہیں آتا لیکن وہ گھن کی طرح اس ملک کے تمام سماجی رشتوں کے تانے بانے کو تباہ کرنے پر مصرہے، فرقہ واریت کی آگ اس ملک کی اسلامی اقدار و تہذیب کو مٹانے پر آمادہ ہے اوراگر جلد ا س پر توجہ نہیں دی گئی توپھر یہ آگ جھونپڑیوں کو بھی جلائے گی اورقصرسلطانی کوبھی ۔ اگرہم جائزہ لیں تو اندازہ ہوتاہے کہ کچھ سیاست دانوں نے ووٹوں کی صف بندی کےلئے الفت ومحبت کو تاراج کر دیا اور اس میں سبھی سیاسی جماعتیں یکساں طورپر ذمہ دار ہیں ، اسی طرح فرقہ وارانہ فسادات نے بھی لوگوں میں دوریاں پیداکی ہیں ۔ فسادات کا دور ملک میں جنرل ضیاء کے عہدسے زیادہ فروغ پکڑ چکا ہے اور فرقہ وارانہ فسادات کی جڑیں مستحکم ہوئی ہیں اور فرقہ واریت کی ایک نئی تاریخ رقم کردی گئی طرفین کے بڑے بڑے لیڈر بھی مارے گئے اور ایسی دوریاں شروع ہوئی جو مٹنے کانام نہیں لے رہی ہیں ۔ اگرہم انتخابی سیاست کاجائزہ لیں تواندازہ ہوتاہے کہ عیار اور مکار سیاست دان نہایت تکنیک سے ووٹروں کی فرقہ وارانہ صف بندی کرتے ہیں اور ووٹروں کے درمیانفرت کی لکیرکھینچ کر مفادات پورے کرتے ہیں ۔ ظاہرہے کہ ووٹوں کےلئے اس قسم کی کوششیں دوفرقوں میں دوریاں ہی پیداکرسکتی ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ ووٹروں کی فرقہ وارانہ صف بندی کےلئے صرف مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے سرگرم ہیں بلکہ اس کام میں دیگر جماعتوں کے لیڈران بھی کچھ کم نہیں ہیں ، انہوں نے بھی کہیں لسانیت کے نام پر توکہیں ذات برادری کے نام پر ووٹروں کی صف بندی کی ہے ۔ مسلمانوں کے غلبے کے دور کے ایک ہزار سال کی اسلامی تاریخ میں کبھی ایسی کیفیت دیکھنے کو نہیں ملی جن سے آج ہمارا ملک دوچارہے ۔ برصغیر میں مسلمانوں کی حکمرانی کے وقت بھانت بھانت کے نظریات اور زبان والے لوگ آپس میں متحد تھے ۔ گزشتہ پون صدی کی تاریخ گواہ ہے وطن عزیز میں حقیقی سیاسی قیادت موجود نہیں رہی ابتدا ء سے لے کر آج تک سیاست کے سنگھاسن پر براجمان جمہوریت اور ملک و قوم کا نام تو لیتے رہے لیکن ملک و قوم کی تعریف ان کے ہاں ذاتی جاگیر اورخاندان و گروہ ہوتا تھاقومی سیاست کے نام پرذاتی مفادات کا حصو ل اولین ترجیح ہوتی تھی اور جب بات ذاتی مفادات کی ہوئی تو اس میں لڑائی و جھگڑے کا کھیل لازمی عنصرکی حیثیت اختیارکر گیا یہ کھیل اُسوقت اور مظبوط ہو گیا جب امریکی سامراج نے یہاں کے مقتدر طبقات کو اپنے زیر اثر کر لیا ۔ یہاں ہر اچھے عمل کو سبوتاژ کرنابھی ایک روایت ہے اوریہ ایک بھی حقیقت ہے کہ یہاں آئین میں ترمیمات ہوتی رہتی ہیں اور بل وغیرہ پاس کئے جاتے ہیں لیکن کیا ان آئینی ترامیم کے نتیجے میں ملک میں موجود سامراجی استحصالی نظام تبدیل تبدیل ہوتا ہے;238; اور کیا ان ترمیمات کے ذریعے جاگیرداریت اور سرمایہ داریت کو کوئی خطرہ درپیش ہوتا ہے ;238;یقینا اس کا جواب نفی میں ہے اور کیا ان آئینی ترامیم کے نتیجے میں مزدوروں کے معیار ذندگی میں کوئی فرق آیا اورغریبوں کی غربت اور امیروں کی کی عمارت میں کوئی کمی ہوئی ہوئی ہے اور کیا طبقاتی نظام کا خاتمہ ہوا ہے;238; اور کیا ججوں کے تقرر کے جھگڑے چکانے میں عد ل و انصاف کا بول بالا ہوا اور کیاقوم کے حقیقی مجرم کیفر کردار کو پہنچے ;238; عدالت اگر مافیا کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو عدلیہ کو دھمکیاں دی جاتی ہے اور چنے چبوانے کی بات کی جاتی ہے اور پھر ان کے گھروں پہ فائرنگ کروائی جاتی ہے مگر نظام عدل کےلئے آواز اٹھائی گئی ہے;238; ایک آدمی کو بار بار وزیر اعظم بنانے اور ایک نا اہل کو اہل کرنے کیلئے تو قانون سازی کی جاتی ہے مگر کیا عوام کا خیال بھی کسی کو ہے;238; اور کیادہشت گردی اور بنیاد پرستی ختم ہوئی یامذہبی و سیاسی فرقہ واریت کے جراثیموں کا خاتمہ ہوا;238;آخر یہ دھرنے اوربلیک میلنگ کی سیاست کب تک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں