Home » کالم » حکومت مہنگائی پر کنٹرول کرے

حکومت مہنگائی پر کنٹرول کرے

بالآخر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان قرضے کیلئے مذاکرات کامیاب ہوگئے، معاہدے کے مطابق آئی ایم ایف پاکستان کو 39 ماہ میں 6 ارب ڈالرز کا قرضہ دے گا ۔ معاہدے کی اصل شرائط تو معلوم نہیں کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے کن شرائط پر قرضہ لیا تاہم جو اعلامیہ جاری کیا گیا اسکے مطابق ٹیکسوں کا بوجھ تمام شعبوں پر یکساں ڈالا جائے گا ۔ اسٹیٹ بنک کی خودمختاری قائم اور شرح سود میں اضافے کے ساتھ ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپے کا تعین مارکیٹ کرے گی ا سکے ساتھ ساتھ بجلی و گیس بھی مہنگی ہوگی لیکن عوام کو دلاسہ دیا جارہا ہے کہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا حالانکہ بجلی کی قیمت جس سطح پر بھی بڑھائی جائے گی بوجھ عام آدمی پر ہی پڑے گا کیونکہ حکومت میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث اشیاء خوردونوش سمیت دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے دے اوپر سے حکومت میٹروبس کے کرایوں میں بھی اضافہ کرنے جارہی ہے جوکہ خالصتاً عام آدمی پر ڈائریکٹ اثر ڈالے گا اگر حکومت عام آدمی پر خرچ کیے جانے والے چند ارب روپے برداشت نہیں کرسکتی تو پھر ریاست مدینہ کا نعرہ نہ لگایا جائے ۔ دوسری جانب اسٹیٹ بنک کو خودمختار کرکے ڈالر کو اوپن مارکیٹ کے سہارے چھوڑنے کی بات ہورہی ہے جبکہ ایسا ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے جس ملک کی برآمدات بہت کم ہوں وہاں پر ڈالر کی قیمت مارکیٹ تعین کرے گی تو مہنگائی کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور ہمارے ملک میں تو روایت ہے کہ جس میں زیادہ منافع نظر آرہا ہو اس میں ملک کے چند ارب اور کھرب پتی اپنی سرمایہ کاری شروع کردیتے ہیں اور پھر مارکیٹ کو اپنے مطابق کنٹرول کرتے ہیں اگر ڈالر کی قیمت کا تعین مارکیٹ پر چھوڑا تو چند سرمایہ دار ڈالر قیمت کو کنٹرول کرنا شروع کردینگے جوملکی معیشت کیلئے خطرناک ہوگا اس لئے اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے ۔ اسٹیٹ بنک کی مکمل خودمختاری کے فیصلے پر بھی دوبارہ سوچ بچار کی ضرورت ہے کیونکہ غریب ممالک کی معیشت اس طرح کنٹرول ہوتی ہے ۔ عوام کو جھوٹے دلاسے نہ دئیے جائیں کیونکہ شاید وزیراعظم عمران خان یہ بات نہیں جانتے کہ جنہوں نے انہیں ووٹ دیا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم کرنے میں جانیں قربان کیں انکے لواحقین وزیراعظم عمران خان اور انکی کابینہ کے وزراء سمیت تقریباً ہر پی ٹی آئی رہنما کی باتوں کو سنجیدہ لیتے ہیں اور انکی ہر کہی بات پر یقین کرتے ہیں جس کی وجہ وزیراعظم عمران خان کا بے داغ دامن ہے ۔ سب سے پہلے وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ اپنے وزراء اور پی ٹی آئی رہنماءوں کو غیر ضروری بیانات سے روکیں ۔ وزیراعظم عمران خان بے شک سیاسی بیانات سے نہ روکیں لیکن ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو عوام کے زخموں پر وقتی طورپر تو مرہم رکھ دیں لیکن بعد میں بیانات جھوٹے یا غلط ثابت ہوں ایسی صورتحال میں عوام کو مایوسی ہوگی اور اس بار اگر عوام مایوس ہوئے تو ملک میں انارکی بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان سے قوم کو بہت امیدیں وابستہ ہیں اور انہی امیدوں کے سہارے قوم مہنگائی در مہنگائی کی کڑوی گولی بار بار نگل رہے ہیں ۔ ملک میں جاری موجودہ مہنگائی صرف ا ور صرف حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے، مانا کہ ماضی کی حکومتوں کے شروع کے ادوار میں اسی طرح کی مہنگائی ہوتی آئی ہے لیکن مہنگائی کے اتنے بڑے بڑے جھٹکے قوم کو بار بار پہلی بار لگ رہے ہیں اوپر سے وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں صبر سے کام لیں یہ مشکل وقت ہے جو جلد گزر جائے گا لیکن وزیراعظم عمران خان اس بات کا جواب نہیں دے رہے کہ جس غریب آدمی کے بچوں کو آج بھوک لگی ہے وہ کیسے صبر کریں ، بھوک تو زیادہ سے ایک وقت کا ہی صبر کرنے کی مہلت دیتی ہے اس سے زیادہ نہیں اور پھر جب ایک مجبور شخص نے اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرنے کیلئے کسی کے آگے ہاتھ پھیلا دئیے اور اپنی عزت نفس کو تار تار کردیا تو اس کا ازالہ کون کرے گا اور جب کسی کا کوئی چارہ نہ بن پائے اور وہ گلی ، محلوں یا چوراہوں پر بھیک مانگنا شروع کردے یا پھر چوری وغیرہ جیسے جرائم کا ارتکاب کرے تو کیا اس ساری صورتحال کی ذمہ داری حکومت لے گی ۔ کیا حکومت انکے بڑھتے مسائل کے حل کیلئے کچھ کرے گی ۔ وزیراعظم عمران خان صاحب یہ بھوک ہی ہے جو والدین کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو سکولوں سے ہٹا کر کمانے کیلئے بھیجنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ حکومت جو بھی معاشی پالیسی بنائے لیکن اس کی اتنی رٹ ہونی چاہیے کہ وہ شتر بے مہار بڑھتی اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرسکے ۔ یہاں پر قابل غور امر یہ ہے کہ کیا حکومت نے بڑھتی مہنگائی میں انتہائی غریب افراد کیلئے فوری ریلیف کیلئے کچھ کیا;238; اس پر حکومت یوٹیلٹی سٹورز پر دی جانے والی سبسڈی اور سستے بازاروں کے انعقاد جیسے اقدامات کو بطور جواز پیش کرتی ہے حالانکہ سستے بازاروں میں بھی حکومت کی مقرر کردہ نرخوں سے زائد اشیاء خوردونوش کی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں اور یوٹیلٹی سٹورز پر جو حالت ہے وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، سستے بازاروں میں پھلوں کا جو معیار ہے کیا کسی حکومتی نمائندے نے اس پربھی کبھی غور کیا یا پھر موقع پر جاکر عام آدمی بن کر قیمتوں اور معیار کو پرکھا ہے;238; حکومتی دعوے ایک طرف لیکن وزیراعظم عمران خان صاحب آن گراءونڈ بہت بری حالت ہے ایسا لگتا ہے کہ پرانی حکومت اور آج کی حکومت میں کوئی فرق نہیں ۔ وہی غیر معیاری اشیاء مہنگے داموں سستے بازاروں میں فروخت ہورہی ہیں وہی دھوکہ دہی کا بازار گرم ہے جبکہ عوام توقع کررہی تھی کہ ضلعی انتظامیہ اپنے ہونے کا ادراک کرائے گی مگر بالکل بھی تبدیلی نہیں آئی جبکہ یہ وہ تبدیلی تھی جوکہ آسانی کے ساتھ حکومتی رٹ قائم کرکے اچھے اور نیک لوگوں کی تعیناتی کے ذریعے لائی جاسکتی تھی مگر افسوس کہ ہم نے موجودہ حکومت کے منہ سے بھی وہی جھوٹے دلاسے اور سیاسی نعرے ہی سنے حالانکہ یہ تبدیلی والی حکومت تھی ۔ بہرحال اب آئی ایم ایف کا پروگرام بھی لے لیا اور دوست ملکوں کی امداد بھی آچکی ۔ ایشیائی ترقیاتی بنک بھی قرضہ دے گا اب معاشی استحکام آنا چاہیے اور اس معاشی استحکام کے دوران ہی حکومت نے ملکی بہتری کیلئے جو کرنا ہے کر گزرے مگر عام آدمی کیلئے بھی کچھ کرے کیونکہ فوری طورپر تو عام آدمی ہی حکومتی پالیسیوں سے متاثر ہوتا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان اور انکی ٹیم کو ملکی بہتری کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ان سے کس سطح پر اور کہاں کہاں غلطیاں ہوئیں جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا ۔ کارخدارا حکومت مہنگائی پر کنٹرول کرے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative