1

حکومت نے مشکل مگر ضروری فیصلے کیے ہیں

جن ممالک میں عوام اپنے حکمرانوں کو جوابدہی کے کٹہرے میں لانے کے خلاف سڑکوں پر نکلنے اور احتجاج کرنے کی کھلے عام باتیں کرنا شروع کردیں اور اپنی عدلیہ پر سوالیہ انگلیاں اْٹھانی شروع کردیں تو کیا ایسی قوموں کو جدید سائنسی دنیا میں مہذب اور متمدن قراردیا جاسکتا ہے اوریہی نہیں بلکہ کیا ایسی اقوام کے چند افراد یا گروہ جو بدترین کرپشنز کے الزامات میں پکڑے جانے والے اپنے پسندیدہ سیاسی قائدین کی عدالتوں میں پیشیاں بھگتنے کے شرمناک مواقعوں پراْن کے گرد جمع ہوجانے کی ذلت و خواری اور ندامت بھری ریتوں اور روایات کو بڑھوادینے کی بُری عادتیں اپنا لیں کیا وہ سیاسی اخلاقیات کے زمرے میں معتبر کہلائے جانے کے لائق ہوسکتے ہیں ;238; چند ماہ پیشتر پاکستان میں گزشتہ ستر برسوں کے بعد ہماری عمروں کے لوگوں نے پہلی بار اپنی آنکھوں سے اپنے ملک میں یہ خوش آئند نظارہ دیکھا ہے کہ جن خاندانوں نے چالیس اور بیس برسوں تک پاکستان کی مرکزی حکومت میں اور پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں پر مسلسل حکمرانی کی آج کل وہ ملک کی عدالتوں میں مالی کرپشنز کیسوں میں تفتیشی ریمانڈ پر سلاخوں کے پیچھے ہیں کہیں اْن کو باقاعدہ مجرم تسلیم کر لیا گیا ہے اور وہ جیلوں میں بند پڑے ہیں ، گزشتہ چالیس برسوں سے ملکی قانون ساز اداروں میں یہی لوگ باربار الیکشن جیت کر آتے رہے، ملکی آئین اور قانون سے مجرمانہ کھلواڑ کرتے رہے، اعلیٰ ترین سیاسی آئینی عہدوں پر فائز رہنے والوں کے لئے قانون کے شکنجوں میں استثنائیٰ سقم کی مشگافیاں بناتے رہے یوں ملکی جیلیں بھی ان کےلئے محلات سے کم نہیں رہیں آخر عوام کب تک جمہوری سیاست کے نام پر یہ مظالم برداشت کرتے یوں عوام کے شعور نے جونہی ترقی کی تو جولائی سن دوہزار اْٹھارہ کے عام انتخابات نے لگ بھگ تین چار ادوار کے لگاتار انتخابات کا یکدم سے پانسہ ہی پلٹ دیا اور پاکستان کے نوجوانوں میں مقبولیت پانےوالے نئے ابھرتے ہوئے سیاسی قائد عمران خان کی سحر انگیز اور پُرکشش شخصیت نے اُن کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو ملکی پارلیمنٹ میں عددی برتری سے جیتادیاجس کے نتیجے میں دنیا بھر کے سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگاروں نے پاکستان کے اقتدار اعلیٰ پر ایک بالکل نئے چہرے کو پاکستان کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوتے دیکھا نئے وزیراعظم عمران خان نے اپنی بیس سالہ سیاسی جدوجہد میں اپنے عملی کردار کے ذریعے سے پہلے یہ ثابت کرکے دیکھا دیا تھاکہ وہ اپنے فیصلہ سازی میں میرٹ پر سختی سے کار بند رہنے پرکوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ہمیشہ اپنے آپ کو ملکی قانون کے سامنے جوابدہ بنائیں گے ملکی خزانے کو عوام کی امانت کے حقیقی تصورکو عام کیا جائے گا،قومی خزانے کی ایک ایک پائی کا برابر حساب رکھا جائے گا اورخاص طورپر پاکستان میں جاری جمہوریت میں وراثتی اورحادثاتی لیڈر شپ کی فرسودہ روایات کو ختم کردیا جائے گا ایسے موقعوں پرایک انتہائی شرم اور ذلت کا یہ مقام بھی ہ میں اورآپ کو دیکھنا پڑرہا ہے کہ ماضی میں جن کرپٹ زورآوروں نے اپنی بدمعاش طینت ذہنیت کی فطرت پر مبنی حکمرانیوں کے دور میں جہاں بیورکریٹوں کی کھیپ کی کھیپ تیار کی تھی جو آج موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کےلئے ایک بڑی چیلنج بنی ہوئی ہے وہاں فیک نیوز اور جعلی خبریں گھڑنے والے بکاو قلمکاروں کی ایک بھرمار بھی ان کے پاس بطور قلم بردار کھڑی نظرآتی ہے جو وزیراعظم عمران خان اور اْن کے حکومتی فیصلوں کو نیچا دکھانے کےلئے اپنے طور پر وپیگنڈامہم چلا ئے ہوئے ہے گزشتہ ماہ(جون) میں شاءع ہونےوالے ہفتہ وار جریدے ‘‘فرائی ڈے ٹائمز’’ نے اپنے ایڈیٹوریل میں سال دوہزار انیس ۔ بیس کے مالیاتی میزانئیے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے جریدے مالک ایڈیٹر کے دل کے پھپھولوں کو پھوڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ،یہ کون ہیں سب جانتے ہیں وقت آنے پر راءٹسٹ بن جاتے ہیں لبرل بن جاتے ہیں قوم پرست اور سیکولر بن جاتے ہیں جس انگریزی جریدے کی بات بیان کی گئی وہ کبھی ماضی میں ’امن کی آشا‘کے گلوکار بھی رہے وہ صاحب کیا کیا نہیں رہے ;238; آج کل وہ ایک ہفت روزہ جریدے کے ایڈیٹر ضرور ہیں ، پی سی بی کے چیئرمین اب وہ رہے نہیں اپنے تین ماہ کی عارضی وزارت اعلیٰ ‘کیئر ٹیکروزارت اعلیٰ کے دوران ‘پینتیس پنکچروں ’ کے نام سے جتنی بہت بدنامی اْنہوں نے کمانی تھی سو کمائی جس کا نقدر آور اجر بھی اْنہیں خوب ملا اور گھر میں اب صوبائی اسمبلی پنجاب کی ایک نشست بھی ہاتھ آگئی بحیثیت صحافی ہونے کے ناطے قلم اْن کا ایک آزمودہ ہتھیار تسلیم، مگر قلم کے اپنے کچھ دیانت وصداقت کے تقاضے بھی ہوتے ہیں یقینا ہر اہم قومی وبین الا اقوامی مسئلہ پراْنہیں اپنے لکھنے کی ذمہ داری ضروری پوری کرنی چاہیئے مگر سچائی کا دامن چھوڑے بغیر اْنہیں پاکستانی قوم کو گمراہ کرنے سے اپنے قلم کی روانی کو روکنا ہوگا ہم مانتے ہیں کہ نواز عہد میں اْن کے نام سے ساتھ پینتیس پنکچروں کا بڑا شورہوا تھا اور یوں اْن کے دل میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے خلاف چھپا پوا بغض وعناد اور حسد کی رقابت کی وہ آگ ابھی تک اْن کے اندریقینا سلگ رہی ہے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان الا ماشا اللہ اب ملک کے وزیراعظم کے مقتدر عہدے پر فائز ہیں اور اْن کی ٹاورنگ قائدانہ شخصیت سے حسد کرنے والوں کی ملک میں کوئی کمی بھی نہیں اْن کے حاسد آج کل اْن کے خلاف بولنے اور لکھنے پر ایکا کیئے ہوئے خاموش رہنا اْن کی فطرت نہیں ہے عمران خان کی ذات سے اندروانی بغض و حسد کا کینہ ایسوں کے دلوں میں کنڈلی مار ہمہ وقت پھنکارتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہتے ہیں کہ حاسد اپنے محسود کو ہمیشہ اپنے زہریلے طنز کے نشانے پر لیئے رہتا ہے اب اْن کے سامنے سال دو ہزار انیس ۔ بیس کا مالی بجٹ آگیا ہے ویکلی فرائی ڈے ٹائمز کے ایڈیٹوریل کا ذکر اس لیئے ضروری سمجھیں وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کا یہ بجٹ جمہوری تقاضوں کی عکاسی نہیں کرتا یہ بجٹ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے سویلین بیورکریسی کو ڈکٹیٹ کرایا ہے، جو انتہائی سخت اور عوام دشمن بجٹ ہے ‘‘خان مخالفت’’ میں اپنی آنکھیں بند رکھنے والوں کے مطابق عوام کواس بجٹ کے مندرجات کے اعداد وشمار کے چکروں میں اکسایا جارہا ہے کہ ایف بی آر نے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں سے تقریباً چالیس فیصد جو ایک اعشاریہ پانچ کھرب روپے بنتے ہیں آئندہ بارہ ماہ میں عوام سے زبردستی ٹیکسوں کی صورت میں وصول کیئے جائیں گے یعنی گزشتہ بجٹ سے ٹیکسوں کی مد میں جانے والی مذکورہ رقم زائد ہوگی اور اسکے باوجود ہمارا جی ڈی پی تین اعشاریہ تین فیصد سے اور گھٹ جائے گا حکومت مخالفت سیاسی کرپشنز کے حمایتی کہتے ہیں کہ حکومت کا مسئلہ دوچیزوں سے ہے یعنی جن اخراجات کا تذکرہ خصوصی طور پربجٹ میں کیا گیا ہے جن میں دفاعی اخراجات اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کی بات کی گئی ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ سودکی ادائیگی پر حکومت کو جو ریونیو ملے گا اْس پر تو پچاس فیصد سے زائد رقم خرچ ہوجائے گی جبکہ دفاعی اخراجات پر چونتیس فیصد خرچ آئے گا یوں یہ موجودہ حکومت عوام کا اعتماد بالکل کھو بیٹھے گی جوحکومت گزشتہ بارہ ماہ میں اپنے ٹارگٹ حاصل نہیں کرپائی اور جوحکومت آئی ایم ایف کے پروگرام کو نوماہ تک ٹالتی رہی پھر یوٹرن لیا گیا گزشتہ دس برسوں کی ماضی کی سابقہ دوادوار کی حکومتوں نے عالمی اداروں سے جو اربوں ڈالر قرضے لئے وہ ملک میں کن منصوبوں پر خرچ کیئے گئے اس کی تفتیش کےلئے سویلین اور جمہوری نمائندوں کے علاوہ ملکی افواج کے سربراہ کو شامل کرکے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے فرائی ڈے ٹائمزنے اسی ٹاسک فورس کے بارے میں لکھا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں قائم ہونے والی ٹاسک فورس میں عالمی اداروں کے نمائندے بھی شامل کیئے گئے ہیں اور یہ جھوٹ ہے اور سچ یہ ہے کہ قوم پوچھنے کا حق رکھتی ہے نیشنل مالیاتی تفتیشی ٹاسک فورس کو بتایا جائے کہ عالمی قرضوں کے اخراجات ملک میں کہاں لگائے گئے;238; عوام کی اکثریت کو قومی ٹیکس نیٹ میں لانا ایک قومی فریضہ ہے ملک میں جمہوری سسٹم رواں دواں ہے ریاستی جبرکی باتیں ،میڈیا اورعدلیہ پر دباءورکھنے جیسی احمقانہ سوچ فاشسٹ طرز کی آمرانہ افواہوں کو پھیلانے والے پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلی کرنے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں ملک میں نہ تو ترکی اور مصرجیسا جبروقہر کا کوئی مالی سسٹم آرہا ہے اور نہ ہی ریاستی حساس ادارے رواں جمہوری نظام کے طے کردہ آئینی حدود وقیود کو پار کریں گے پاکستانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے چندروز پیشتر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ماہرین اقتصادیات کے معززین سے خطاب کرتے ہوئے یہ واضح کیاتھاکہ مسلح افواج نے رضاکارانہ طور پر دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافہ لینے سے انکار کیا ’اور یہ واحد قدم نہیں جو ہم معیشت کی بہتری کےلئے اٹھا رہے ہیں جنرل قمر جاوید باجوہ کے مطابق مالیاتی بدانتظامی کے باعث پاکستان مشکل معاشی حالات کا شکار ہے انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومتیں اس حوالے سے تامل کا شکار رہیں انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت نے دور رس فوائد کےلئے مشکل مگر ضروری فیصلے کیے ہیں اور ہم بھی اپنے عملی اقدامات کے ذریعے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں آرمی چیف نے کہا کہ مشکل وقت میں کوئی فرد تنہا کامیاب نہیں ہوسکتا اس کیلئے قوم کا متحد ہونا ضروری ہے انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے مشکل فیصلوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کےلئے پاکستانی قوم کو مل کر اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں