Home » کالم » اداریہ » حکومت کاآئی ایم ایف سے رجوع کرنے کافیصلہ
adaria

حکومت کاآئی ایم ایف سے رجوع کرنے کافیصلہ

adaria

عمران خان نے حکومت میں آنے سے قبل قوم سے یہ وعدہ کیاتھا کہ وہ آئی ایم ایف کسی صورت نہیں جائیں گے لیکن اقتدار میں بیٹھ کراوراقتدار سے باہر رہ کر بالکل مختلف حالات کاسامنا ہوتا ہے۔اس وجہ سے کچھ کٹھن فیصلے کرناپڑتے ہیں مگر ان فیصلوں کو کرتے وقت ہرحکومت کو ایک بات ملحوظ خاطررکھناچاہیے کہ آیا جو وہ فیصلے کرنے جارہی ہے وہ عوام کے مفاد میں ہیں بھی یانہیں ۔اول تو یہ روایت آج تک ختم ہی نہ ہوسکی کہ ہرآنیوالی حکومت سابقہ حکومت کو روتی پیٹتی رہتی ہے کہ اسے خزانہ خالی ملا ہے۔سواب بھی یہی تاریخ دہرائی جارہی ہے یاتو بلندوبانگ دعوے نہیں کرنے چاہئیں اوراگر کئے جائیں تو پھر اس کامتبادل حل لازمی ہوناچاہیے۔ یہ بات درست ہے کہ آئی ایم ایف سے رجوع کئے بغیر حکومت شدید ترین معاشی بحران کاشکار ہوجائے گی مگر آئی ایم ایف نے جو شرائط عائد کی ہیں جن میں اس نے ڈالر کی قیمت میں اضافہ پندرہ روپے فی ڈالر اور بجلی کے فی یونٹ میں اکیس روپے تک رکھاہے ۔ کیا حکومت نے حساب کیاہے کہ اگر ڈالر ڈیڑھ سو روپے کاہوگیا تو قرضے کہاں تک جائیں گے اور بجلی کے یونٹ میں متعلقہ اضافہ کردیاگیا تو عوام کتنا کسمپرسی کی شکارہوگی۔پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے پوری قوم جکڑی ہوئی ہے دووقت کی روٹی مشکل ہوتی جارہی ہے ۔حکومت کوچاہیے کہ وہ اپنے عنان اقتدار کے معاملات ضرور چلائے مگرجن لوگوں نے انہیں ووٹ دیئے ہیں ان کی زندگی کو بھی سہل بنانے کے لئے اقدامات کرے۔وزیراعظم نے آئی ایم ایف جانے کی منظوری دیدی ہے ان کی شرائط پر غوروخوض جاری ہے۔ عالمی بنک اور آئی ایم ایف کا سالانہ اجلاس رواں ہفتے کے آخر میں شروع ہو رہا ہے۔ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد ملک کی معاشی صورتحال پر سنگین تشویش ظاہر کی تھی اور اس پر قابو پانے کیلئے تمام دستیاب آپشن کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔ حکومت کو 6.6فیصد مالی خسارہ ورثہ میں ملا ہے۔ ایک ہزار ارب روپے سے زائد توانائی سیکٹر کے نقصانات کو حسابات میں لیا ہی نہیں گیا تھا، کرنٹ اکانٹ کا خسارہ 2ارب ڈالر ماہانہ ہے۔ حکومت نے معاشی میکرو اکنامک استحکام کیلئے منی بجٹ منظور کرایا اور سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں اضافہ کیا۔ حکومت نے اس حوالے سے دوست ممالک سے بھی صلاح مشورہ کیا۔ دوست ممالک سے انگیجمنٹ بھی جاری رکھی جائے گی۔ نئی حکومت آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کیلئے مجبور ہو رہی ہے۔ پاکستان کو 8سے 10ارب ڈالر کے پروگرام کی ضرورت ہے۔پروگرام پر بات چیت مکمل ہونے میں 8 سے 10ہفتے لگیں گے۔پاکستانی قوم نے ہمیشہ ملک حالات کا کامیابی سے مقابلہ کیا مشکل معاشی حالات کا پوری قوم کو ادراک ہے۔ ہمیشہ سابق حکومتیں نئی حکومت کیلئے معاشی بحران چھوڑ کر گئیں۔دوسری جانب آئی ایم ایف نے قرضے کیلئے پاکستان کے سامنے 20 شرائط رکھ دیں ،روپے کی قدرمیں کمی اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ کرنے کی شرط سرفہرست ہے۔ آئی ایم ایف کی شرط ہے کہ ڈالر کی قیمت میں 15 فیصد تک اضافہ کیا جائے۔ اضافے سے ڈالر کی قیمت 150 روپے تک پہنچ جائے گی۔ آئی ایم ایف نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے اور شرط رکھی ہے کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت 21 روپے تک کی جائے۔ مطالبہ پورا کرنے کیلئے چار روپے یونٹ تک اضافہ کرنا ہو گا۔ آئی ایم ایف کی شرط ہے کہ دیا گیا قرض سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی میں استعمال نہیں ہو گا۔ اس وقت سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کابحران ہے سوانڈیکس میں 1328پوائنٹس کی کمی ہوگئی جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے 238ارب ڈوب گئے ہیں روپے کی قدر میں بھی کمی ہوئی ہے۔ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کہ ملک معاشی طورپراپنے پیروں پرکھڑا ہوسکے اور عوام کو بھی ریلیف ملے۔
غوری میزائل کا کامیاب تجربہ
پاکستان نے غوری میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کیا جس میں غوری میزائل روایتی اور جوہری ہتھیاروں کے ساتھ1300کلو میٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، پاکستان کے اس کامیاب تجربے سے دشمن کی نیندیں اڑ گئیں ہیں چونکہ گزشتہ دنوں بھارت اور روس کے مابین جدید ترین میزائل کا معاہدہ ہوا جس کے تحت خطے میں امن و امان کی صورتحال ڈنواڈول ہونے کا خدشہ تھا، روس نے ایک دفعہ پھر بھارت کی جانب اپنے جھکاؤ کا اظہار کیا ہے لیکن پاکستان بھی کسی طرح کسی سے پیچھے نہیں ، جوہری صلاحیت کے اس میزائل کے تجربے سے ملکی استحکام کو مزید مضبوطی ملی ہے، صدر، وزیراعظم اور مسلح افواج کی قیادت نے آرمی اسٹرٹیجک فورسزکمانڈ کو سراہا اور مبارکباد پیش کی۔ پاکستان ٹیکنالوجی کے اعتبار سے بہت زرخیز ملک ہے اور ہر قیمت پر خطے میں امن و امان کے قیام کا داعی ہے لیکن ملکی استحکام پر کسی بھی قسم کی سودے بازی نہیں کی جاسکتی۔
سچی بات میں ایس کے نیازی کے بے لاگ تبصرے
شہبازشریف کی گرفتاری کابغورجائزہ لیاجائے تو پتہ چلتا ہے کہ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کاکیس سابقہ دور حکومت میں ہوا البتہ اداروں نے اب ان پرہاتھ ڈالا ہے اس گرفتاری سے قبل رانامشہود کاخود ساختہ بیان جس میں انہوں نے کہاتھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات طے ہوگئے ہیں اورآئندہ جلدآنیوالے وقت میں پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت ہوگی۔ ایک تو وہ میڈیا سے کچھ دور تھے اس لئے انہوں نے ایک ایسا بے سروپابیان داغ دیا جس کو خودنون لیگ نے بھی تسلیم نہیں کیا۔شہبازشریف کی گرفتاری کے حوالے سے روز نیوز کے پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور سینئر اینکر پرسن ایس کے نیازی نے کہا کہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کیس پی ٹی آئی حکومت سے پہلے کا ہے،انتقامی کارروائی تب ہوتی اگر اس حکومت میں کیس شروع ہوتا،رانا مشہود نے جان بوجھ کر ایک شوشہ چھوڑا،شہباز شریف نے کتنے کا کام کتنے میں کیا سوال یہ ہے۔چیئرمین نیب سوچ سمجھ کر کام کرتے ہیں،،نیب ریفرنس پر بابر اعوان کو بھی اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا،بلوچستان میں پانی کا بہت مسئلہ ہے،پینے کا صاف پانی نہیں،بلوچستان توجہ طلب معاملہ ہے،وہاں بہت معدنیات ہیں۔سچی بات میں اس موضوع پرسیرحاصل گفتگو کی گئی کہ شہبازشریف کی گرفتاری کوئی انتقامی کارروائی نہیں اورحقیقت بھی یہی ہے اس میں انتقام کہاں سے،اگرکرپشن کی ہے تو سزالازمی ملناچاہیے صرف شہبازشریف ہی نہیں تحریک انصاف کو اپنی صفوں میں بھی اس حوالے سے آپریشن کرناہوگا جب تمام ترمفادات ،تعلقات اوراقرباپروری سے بالاترہوکرکرپٹ افراد کے خلاف گھیراتنگ کیاجائے گا تب ہی نظام ٹھیک ہوگا۔ جب اس ملک کے ادارے آزاد ہوں گے تو پھر نظام خود بخود ٹھیک ہونا شروع ہو جائے گا، حکومت نے اس جانب قدم اٹھانا شروع کردئیے ہیں، امید واثق ہے کہ بہتر نتائج برآمد ہوں گے،ایس کے نیازی کایہ خاصا رہا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ان موضوعات کوزیربحث رکھا جوکہ وقت کی ضرورت ہو اور عوامی مسائل کوحل کرنے کا بھی خاطرخواہ ذکرکیا،پانی کامسئلہ ہویاملک میں کرپشن کا،ایس کے نیازی کاہمیشہ بے لاگ اورسچے تبصرے زبان زدعام رہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative