Home » کالم » حکومت کا ناقابلِ تعریف کارنامہ

حکومت کا ناقابلِ تعریف کارنامہ

پاکستان میں بہت کم ایسے مواقع آتے ہیں جب کسی کام پر پوری قوم خوش ہوئی ہو۔پاکستان میں ایسے تمام ادارے جو عوام کی سہولت کے لئے بنائے جاتے ہیں ۔سب سے زیادہ تکالیف اور مصیبت عوام کو بھی وہیں برداشت کرنی پٹرتی ہیں ۔کونسا ایسا عوامی ادارہ ہے جس سے عوام کا واسطہ ہواور عوام اس ادارے سے مطمئن ہو۔پولیس، محکم�ۂ مال، سی ڈی اے، آر ڈے اے، ایل ڈے اے، محکمہ ڈاک، بجلی، گیس سمیت سیوریج تک کے ادارے عوام کے لئے وبالِ جان بنے رہتے ہیں ۔کالم لکھتے وقت بار بار خیال آتا ہے کہ بات کس ادارے اور کس مصیبت سے شروع کی جائے ۔ عام محاورہ یہ بولا جاتا ہے کہ لوگ نوکری صرف تنخواہ لینے کیلئے کرتے ہیں ۔ کام تو وہ رشوت لیکر کرتے ہیں ۔پھر سب سے افسوسناک پہلو یہ ہوتا ہے کہ کسی کے خلاف کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔لیکن آج میں دوسرے کسی ادارے کے متعلق نہیں لکھنا چاہتا کہ کس محکمے میں کس کو کون کون سے حربے استعمال کر کے سائلین کو تنگ کیا جاتا ہے۔آج میں نے اخبارات کے پہلے صفحے پر وزیر بجلی سردار اویس احمد خان لغاری کی طرف سے یہ خبر پڑھی کہ غلط بل بھیجنے پر زیادہ بل بھیجنے والوں کو 3سال تک قید ہوگی۔پاکستان میں گیس اور بجلی کے40فیصد سے زیادہ بل غلط آتے ہیں ۔پھر بل ٹھیک کرانے کے لئے بجلی اور گیس کے دفاتر کے کئی چکر لگانے پڑتے ہیں زیادہ تر یہ جواب ملتا ہے کہ متعلقہ کلرک سیٹ پر نہیں ہے۔اور خوش قسمتی سے متعلقہ کلرک سیٹ پر بیٹھا ہو تو پتہ چلتا ہے کہ آج نیٹ کام نہیں کر رہا۔اس طرح لوگ دفتروں سے چھٹی اور اور کاروباری لوگ اپنا بزنس چھوڑ کر بجلی اور گیس کے دفاتر کے چکر لگارہے ہوتے ہیں ۔خاص طور پر سب سے زیادہ تکلیف دہ مرحلہ اس وقت ہوتا ہے جب گھر میں کوئی مرد نہ ہو اور خواتین کے پاس ذاتی ٹرانسپورٹ بھی نہ ہو۔تو وہ خواتین کن مشکلات سے ان دفاتر کے ہر ماہ ایک سے زیادہ چکر لگاتی ہونگی۔راقم نے ذاتی طور پر ان محکموں کے ستائے ہوئے لوگوں کو ان دفتروں میں آنسو بہاتے دیکھا۔لیکن وہاں کوئی شکایت سننے والا نہیں تھا۔آج وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے یہ بل پاس کرا دیا کہ غلط یا زیادہ بل بھیجنے والے کو تین سال کی سزا ہوگی۔یہ بہت ہی اہم اور عوام کیلئے خوشی کی خبر ہے۔لیکن اس میں سے پھر ایک سوال نکلتا ہے کہ شکایت کنندہ کو غلط بل کی شکایت لے کر کہاں جانا ہوگا۔کیا اس سائل کو پھر عدالتوں کے چکر لگانے ہونگے۔وہاں پھر وکیل کرنے ہونگے ۔ کیا وہ وکیل اس کی ہر پیشگی پر عدالت میں حاضر ہونگے اور کیا وہ جج صاحب پہلی ہی تاریخ پر غلط بل کا لکھا ثبوت دیکھ کر بغیر وکیل کے ہی مجرم کو اپنی عدالت میں ہی گرفتار کر کے3سال کے لئے جیل بھیج دیں گے۔مجھے تو یہ کاروائی نا ممکن کی حد تک مشکل نظر آتی ہے۔ یا تو اس کا حل یہ نکالا جائے کہ شکایت کنندہ اپنا غلط بل درخواست کے ساتھ نیب جیسے ادارے کے میل باکس میں ڈال دیں ۔ وہ ادارے والے چیک کریں اور غلط بل بھیجنے والے کو جیل بھیج دیں ۔ موجودہ جتنے بھی حالات یا قوانین میں سب سائل کو تنگ کرنے والے ہیں حکومت کو عوام کی سہولتوں کیلئے اقدامات کرنے پڑیں گے۔سرکاری خزانے پر حملے ہر دور میں ہوتے رہے۔کسی نے ٹھیکیداری میں شرکت سے گندگی سمیٹی اور غیر معیاری کاموں کو پاس کرانے میں مدد دی۔کسی نے کاروباری حصص بغیر سرمایہ کاری کے سرکاری اثرو رسوخ اور مراعات کی سہولیات بہم پہنچا کر حاصل کی۔کسی نے کوٹھیاں بنوا کر اپنا مطالبہ پورا کرایا اور کسی نے لنگر اخراجات کسی کے ذمے ڈالے۔کسی نے الیکشن مہمات میں گاڑیوں کی شکل میں مقاصد حاصل کئے۔اور کسی نے پٹرول کے ااخراجات اپنے ذمے ڈال کر نقب زنی کی راہ ڈھونڈی۔کہیں نظریات کے جھٹکوں نے سلوٹ دی اور قوم کی اعصاب پر ضرب محسوس کی تو جھوٹ ، مکاری اور لفاظی کو سہارا بنایا۔کہیں کوئی بے بس ہوا تو دین کو بلیک میل کر کے مطلب براری کا ذریعہ بنایا۔کسی نے بڑائی کا سرٹیفیکیٹ دولت سمیٹ کر لے لیا۔اور کہیں نعرے بازوں اور چاپلوسی کے جوش و خروش سے سکون حاصل کیا۔کسی نے ذرائع ابلاغ کی مدد سے تصاویر کی نمائش میں اپنی برتری کا سکہ منوانے کی کوشش کی اور کسی نے ٹی وی کی چھاپ لگوا کر اپنی شہرت کو چار چاند لگوائے۔کہیں جائیدادیں بڑھانے کو اپنے لئے ذریعہ شناخت بنایا۔اس ملک کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے حربے جو ان فضاؤں میں پروان چڑھنے والوں نے اختیار کیے وہ بے حد و بے حساب ہیں ۔کہیں سے اس وطنِ عزیز کی بقا اور سا لمیت کے لئے رب ذوالجلال کے حضور آنسوؤں اور آہوں کے ساتھ سحر خیزی میں دعائیں ہوئیں ۔عظمتوں اور روشنیوں کے پیکر زندگی کی بازی اس وطنِ عزیز پر قربان کر گئے۔ان کے جذبوں نے نہ نمائش کی فکر کی، نہ ناموں کی تختیوں کا سہارا لیا، نہ ٹی وی پر تصویروں کا تقاضا کیااور نہ اخباری سرخیوں کی حاجت محسوس کی۔جن کے خون کا ہر ہر قطرہ ، سانس کی ہردھڑکن اور روح کے ہر جھٹکے میں وطن کی سا لمیت کا راز چھپا تھا۔حر ص اور لالچ نے انسان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔جدوجہد کے جذبے دم توڑ گئے۔تساہل پسندوں اور آسانیوں نے انسانیت کو بکھیر دیا۔لوٹ مار کے جذبوں نے نہ صرف گھچاؤ بڑھایابلکہ نفرت اور خود غرضی کے تمغے دیے۔چاہت کی چاشنی چھن گئی۔محبت کی بینائی غائب ہو گئی۔قربانی اور ایثار کے جذبے مٹتے چلے گئے۔حلال اور حرام کی تمیز ختم ہوگئی۔خون کی گردش نے رنگ بدل لئے۔افراتفری کا عالم ، جھوٹ و مکار ی کا سماں ، کسی کو کسی پر اعتماد نہیں ۔ہر ایک اپنے داؤ پیچ کے کرتب دکھانے میں سرگرداں ، صرف کمائی کے حوض میں غرقابی کا شوق، کسی کو احساس نہیں ، یہ حوض کس قدر گدلا، کس قدر گندا، کس قدر غلیظ اور کتنا بدبودار ہے۔کتنی بیماریاں اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں اور اس حوض میں اشنان کے کیا اثرات ہونگے؟ بدقسمتی سے مسلمانوں کی پوری تاریخ میں اقتدار حاصل کرنے کے لئے ہر دور میں بڑے بھیانک حربے استعمال کئے۔لیکن آج میں زیادہ پیچھے نہیں جانا چاہتا۔میری نسل کے لوگوں نے ایوب خان کے اقتدار سے لے کر اب تک حالات دیکھے ہیں ۔فوجی آمروں نے جب بھی اقتدار پر قبضہ کرنا چاہا تو جمہوری حکومتوں پر سو قسم کے الزامات لگا کر انہیں رخصت کر دیا۔لیکن ذرائع ابلاغ نے پھر ان ڈکٹیٹروں کا بھی احتساب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے دور کو تاریخ میں سیاہ ترین دور لکھا جاتا ہے۔ابھی عوامی خدمت کے تمام ادارے عوام کیلئے مشکلات پیدا کرتے ہیں ۔ الیکشن نزدیک آ گیا ہے ۔ حکومت کو عوامی سہولیات کیلئے بہت محنت کرنی ہوگی ۔ عوام کو ہر شکایت کا بذریعہ ڈاک یا خط گھر پر اطلاع دی جانی چاہیئے۔لوگوں کو فضول دفتروں کے چکروں سے بچایا جائے۔ شکایت بھی ڈاک میں جائے اور اس کا ازالہ بھی بذریعہ ڈاک اس کو گھر تک پہنچایا جائے۔لیکن بذریعہ سائلین کا ازالہ کرنے کے لئے حکومت کو سب سے پہلے محکم�ۂ ڈاک کے ملازمین کا بھی احتساب کرنا ہوگا۔حکومت کو مبارک ۔کسی چھائی کی طرف قد م اٹھایا تو ہے۔
*****

About Admin

Google Analytics Alternative