Home » کالم » خارزارصحافت اورروز نیوزکے بیورو چیف نورالحسن کا صحافتی قتل

خارزارصحافت اورروز نیوزکے بیورو چیف نورالحسن کا صحافتی قتل

صحافت ایک آئینہ ہے جس میں سماج ،معاشرہ قوم اور ملک کی سیاسی اور سماجی زندگی کی جھلک نظر آتی ہے ۔یہ صرف لکھنے پڑھنے کانام نہیں بلکہ موجودہ دور کی ایک ضرورت بن چکی ہے اور اس کے اثرات سیاست،سماج، معاشرے ،ملک اور قوم پر دور رس اور ہمہ گیر ہیں اس وجہ سے اس شعبہ کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں یہ دنیا جو اربوں انسانوں اور لاکھوں مربع میل رقبہ پر محیط ہے اب یہ گلوبل ویلج میں تبدیل ہو چکی ہے۔انسان کی عزو منزلت میں یہ پہلو بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ اسے عقل و شعور دیا گیا ہے اور اس نے لکھنے پڑھنے کے ذریعے نظام حیات و کائنات میں تجسس سے کام لے کر اپنے منصب کو پہچاننے ،مقصد حیات کو سمجھنے اور زندگی کو بہتر طور پر برتنے کی ارتقائے انسان کی ہر دور میں کوشش کی ہے اور یہ کوشش اپنی فطرت کے مطابق جاری و ساری رکھے ہوئے ہے اور تا ابد جاری رکھے گا۔جمہوری دنیا میں ریاست کا جوتصور پیش کیا گیا ہے اس میں پریس کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا گیا ہے اس دور جدید میں الیکٹرانک میڈیا بھی پریس کا ایک حصہ ہے تین ستونوں کی مضبوطی کا انحصار اس چوتھے ستون کی مضبوطی پر ہے ریاست کے تین ستون بھی اہمیت کے حامل ہیں لیکن چوتھا ستون منزل کی طرف راہنما خطوط متعین کرتا ہے منزل کا پتہ دیتا ہے یہی چوتھا ستون صحافت آج لوگوں کی بصارت اور سماعت کا مترادف بن چکی ہے یہ ہر آن سماج کے بدلتے ہوئے حالات اور اقدار میں راہنمائی بخشتی ہے کہ ہمارا ماضی کیا تھا ،حال کیسا ہے اور مستقبل کیسا ہو گا اور اس سلسلے میں ہمیں کیا کچھ کرنا چاہیے یہ سماجی و معاشرتی برائیوں کی نشاندہی کر کے اصلاح قوم و معاشرت کا اہم کام بھی انجام دیتی ہے جب بھی اس چوتھے ستون کو جبراًگل کرنے کی سعی لاحاصل کی جائے گی تو دوسرے تین ستون بھی نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے ماضی اس پر شاہد ہے کہ جب بھی اس ستون کی آزادی چھیننے کی کوشش کی گئی کسی کو کچھ نہیں ملافیض احمد فیض نے کہا تھا

زباں پہ مہر لگی تو کہا کہ رکھ دی ہے
ہر حلقہ زنجیر میں زباں میں نے
پاکستان کے جرنلسٹ،دانشور،شاعر اور ادیب آمریت کے خلاف ہراول بنے سبھی اپنی آواز ،اپنے الفاظ ،اپنی تصاویر اور کارٹونوں کے ساتھ زیر عتاب بھی آئے جیل گئے بیڑیاں پہنیں کوڑے کھائے پولیس گردی کا شکار ہوئے لیکن ان کی ثابت قدمی متزلزل نہ کی جاسکی کئی ایسے بھی تھے جو آج آزادی صحافت کے علمبردار بنے ہوئے ہیں ضیاء الحق کے ہراول دستے میں شامل ہو کر مرادیں پا گئے طوفانی اور سچی تحریریں پڑھ کر آمریت کے کاخ ایوان لرزتے ضرور ہیں اور نشے میں مدہوش آمر سہم جاتے ہیں ویسے بھی دنیا کا ہر شعبہ اچھے اور برے انسانوں کی آمیزش پر مشتمل ہوتا ہے باضمیر صحافی سچ کی خاطر اپنی ترقیوں اور ملازمتوں کو خطرے میں ڈالنے سے گریز نہیں کرتے نڈر اور بے باک مالکان اخبار وجرائد حکومت سے اشتہارات کی بندش اور ڈکلریشن کی منسوخی تک مول لے لیتے ہیں اسی طرح جرأت مند اور پیشہ وارانہ امانت کے حامل رپورٹر صحیح اور درست خبروں کو لانے کیلئے جنگی میدانوں میں بے خوف و خطر گھس جاتے ہیں اور جان تک کی پرواہ نہیں کرتے یہ محکمانہ بد عنوانیوں اور اخلاقی سکینڈلوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش میں حادثات کا شکار ہونے کی پرواہ نہیں کرتے ۔رپورٹنگ محض کیچڑ اچھالنے اور کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانے کیلئے نہیں ہونی چاہیے بلکہ عظیم تر قومی مفاد میں سچائی اور حقائق کو سامنے لانے کا نام ہے مثبت اور تعمیری رپورٹنگ میں سکینڈلز کو بے نقاب کیا جاتا ہے اور قانون کی خلاف ورزیوں کو نمایاں ۔اس فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی معاشرے میں ہونے والی انفرادی اور اجتماعی برائیوں کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی اصلاح کا کام کرتے ہیں اس رپورٹنگ کے نتیجے میں قوم اربوں روپے کی لوٹ مار سے محفوظ ہو جاتی ہے اور اداروں کی پالیسیوں میں مثبت تبدیلی آتی ہے بھارت کا تہلکہ ڈاٹ کام ہو یا امریکہ میں صدر نکسن کے دور کا واٹر گیٹ سکینڈل ،بل کلنٹن کے دور کا مونیکا لیو نسکی کیس،فلپائن کے صدر ایسٹر ا ڈاکو کو ملنے والی سزا ان سب کے پس منظر میں نیوز رپورٹنگ کا ہی کردار نظر آتا ہے ۔معزز و محترم قارئین یہ بھی دنیا کی سب سے بڑی سچائی ہے کہ سچ لکھنا اور سچ کہنا ایک کڑا امتحان ہے ۔سچ کہنے بولنے اور سچ لکھنے کیلئے کبھی زہر کا پیالہ پینا پڑتا ہے ،کبھی پھانسی کے پھندے پر جھولنا مقدر بنتا ہے ۔باجرأت ،بے باک،نڈر لوگوں کو موت کا خوف سچ کہنے ،سچ بولنے اور سچ لکھنے سے باز نہیں رکھ سکتا سچ کی خاطر اذیتیں سہنا تو انبیاء کا شیوہ رہا ہے سچ کہہ کر فرعونان وقت سے ٹکر لینا آسان نہیں ہوتا اس خار دار کھٹن راستے کا چناؤ بھی بہادر ہی کرتے ہیں جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے میں وہ لرزہ بر اندام نہیں ہوتے وقت کی مصلحتیں ایسے انسانوں کیلئے سدّراہ نہیں بنتیں ایسے لوگ بکاؤ مال نہیں ہوتے نہ ہی چڑھتے سورج کے پجاری شاعر نے انہیں کی عظمت کو اس شعر میں بیان کیا ہے۔

انسان کی عظمت کو ترازو میں نہ تولو
انسان ہر دور میں انمول رہا ہے
صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اس ستون کی بنیادوں میں سچائی کے ان گنت علمبرداروں کا لہو شامل ہے اس وقت وطن عزیز کئی اقسام کے ملک دشمن مافیاز میں گھر چکا ہے جب بھی کسی پر کوئی افتاد پڑتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے پیچھے فلاں مافیا سرگرم ہے اور یہ اس قدر طاقتور ہے کہ حکومت کا کوئی ادارہ کسی غلط فہمی میں اس پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے منہ کی کھانی پڑتی ہے ۔ان مختلف جرائم پیشہ مافیاز کی سرکوبی کیلئے جہاں قانون محافظ ادارے نبرد آزما ہوتے ہیں وہاں صحافت کا شعبہ بھی ان کیلئے سدراہ بنتا ہے صحافت سے وابستہ افراد کو سچ کی تلاش اور سماج کی اصلاح کیلئے قدم قدم پر خطرات کا سامنا رہتا ہے وطن عزیز میں ایسے صحافی اور رپورٹر بھی موجود ہیں جو جان کے نذرانے پیش کر کے ملک و قوم کے سامنے سرخرو ہوئے ۔یہ بے باک صحافی دہشتگردی کا شکار ہوگئے لیکن قانون دشمن عناصر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکاری رہے اگر سماج کا کوئی معززفرد ،صحافی یا پولیس کا اہلکار آنکھیں بند کر کے اپنے سامنے جرم یا کوئی غیر قانونی کام ہوتے دیکھتا ہے مگر خاموش ہے تو وطن، معاشرے اور اپنے پیشے سے انصاف ہی نہیں کر رہا بلکہ اس سے غداری کا مرتکب ہو رہا ہے صحافت ایک معنوں میں عوام اور حکومت کے درمیان سفارت کاری ہے ۔صحافی قومی سفیر ہوتے ہیں ۔کوئی غنڈہ قومی سفیر کو اپنی بر بریت کا نشانہ بناتا ہے تو اسے کوئی ڈر نہں ہوتا پشاور میں موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں کی فائرنگ سے روزنیوز کے خیبر پختونخواہ کے بیورو چیف نورالحسن شہید ہوگئے جبکہ کیمرہ مین شبیر شدید زخمی ہوگیا۔بیوروچیف نورالحسن کا تعلق نوشہرہ سے تھا وہ گاڑی میں پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کیلئے حیات آباد سے پشاور جا رہے تھے کہ رنگ روڈ پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر شہید ہوگئے جبکہ کیمرہ مین شبیر شدید زخمی ہو گیا ۔تہذیبی ارتقاء کے دامن میں اس سے زیادہ بد نما داغ ممکن ہی نہیں ہوتا کہ راہ چلتے انسان کو گولیوں کی بوچھاڑ پر رکھ کر موت سے ہمکنار کر دیا جائے اور یہ معلوم ہی نہ ہو سکے کہ اسے کن لوگوں نے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا۔قتل کے ان مجرموں کی گرفتاری اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانا اصل معرکہ ہے تاکہ ایسی وارداتوں کے منصوبہ ساز اور ان پر عمل درآمد کرنے والے عبرت پکڑیں پاکستان کو صحافتی اعتبار سے دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ میدان صحافت کے دوسرے شہداء کی طرح نورالحسن کا کیس بھی وقت کی راہداریوں میں گم ہوجاتا ہے یا پھر نورالحسن شہید کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جاتی ہے۔
***

About Admin

Google Analytics Alternative