Home » کالم » خالصتان تحریک، سکھوں پر ہندووَں کے مظالم کا نتیجہ ہے

خالصتان تحریک، سکھوں پر ہندووَں کے مظالم کا نتیجہ ہے

کئی دہائیوں تک راکھ میں دبے رہنے کے بعد خالصتان تحریک کی چنگاری اب ایک بار پھر بھڑک اٹھی ہے ۔ 3 جون 1984 کو ہندوستانی حکومت کی جانب سے سکھ میجر جنرل کلدیپ سنگھ برار کی سربراہی میں خونی آپریشن بلیو اسٹار کے دوران بے پناہ طاقت کے استعمال نے وقتی طور پر 70 اور 80 کی دہائی میں پورے زور و شور کے ساتھ جاری علیحدہ ملک کی سکھ تحریک کو کچل دیا تھا ۔ لیکن جیسا کہ آزادی کی تحریکوں میں ہوا کرتا ہے، طاقت کا استعمال وقتی طور پر تو کارگر ثابت ہوتا ہے لیکن اگلی نسلوں کے جوان ہونے تک طاقت کا استعمال بذاتِ خود تحریکوں میں نئے جذبے پیدا کرنے کا موجب بن جاتا ہے ۔ خالصتان تحریک کے بارے میں ہندوستان کی جانب سے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یہ تحریک پاکستان کی پیدا کردہ ہے جو مشرقی پاکستان میں ہندوستان کی جانب سے دخل اندازی کا بدلہ لینے کےلئے شروع کی گئی ۔ اس بات میں کتنی سچائی ہے یہ تو مستقبل کا تاریخ دان بتائے گا لیکن ہندوستان کی جو تاریخ ہمارے سامنے موجود ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ خالصتان کی تحریک بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی پاکستان کی تحریک ۔ ’’خالصتان‘‘ کی اصطلاح بھی مارچ 1940 میں ڈاکٹر ویر سنگھ بھٹی نے ایک پمفلٹ میں وضع کی، جو مسلم لیگ کی 23 مارچ 1940کی قراردادِ پاکستان کے ردعمل کے طور پر لکھا گیا تھا ۔ ڈاکٹر ویر سنگھ کے مطابق پاکستان کا مطالبہ چونکہ مذہبی بنیادوں پر کیا جا رہا تھا اور پنجاب (اس وقت کا پنجاب پاکستانی پنجاب، ہندوستانی پنجاب، ہریانہ اور ہماچل پردیش کے کچھ علاقوں پر مشتمل تھا) کو پاکستان میں شامل کیے جانے کا مطالبہ بھی کیا جارہا تھا جہاں سکھ کافی بڑی تعداد میں آباد تھے، اس لیے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہندوستان میں پاکستان کے ساتھ ساتھ پنجاب کے کچھ علاقوں میں خالصتان کے نام سے سکھوں کا علیحدہ ملک بھی قائم کیا جائے ۔ ان کا خواب اس لیے شرمندہء تعبیر نہیں ہوسکا کیونکہ اس وقت پنجاب کے کسی ایک ضلع میں بھی سکھ اکثریت میں نہیں تھے لیکن تقسیم ہند کے بعد چونکہ پاکستانی پنجاب سے سارے سکھ ہجرت کر کے ہندوستانی پنجاب کے ملحقہ ضلعوں میں چلے گئے تو وہاں کچھ ضلعوں میں سکھ اکثریتی علاقے وجود میں آنے لگے ۔ البتہ خالصتان کی تحریک کو آگے بڑھانے کےلئے یہ تبدیلیاں کافی نہیں تھیں ۔ ہندوستان میں آزادی کے بعد کہنے کو تو کانگریس کی سیکولر حکومت قائم ہوئی لیکن اس سیکولر حکومت نے جس قسم کی مذہبی پالیسیاں بنانا شروع کیں ان سے مسلمانوں کی طرح سکھوں کو بھی بہت شکایات پیدا ہوئیں ۔ شکایات کے ساتھ ساتھ مطالبات بھی آنے لگے، جب سکھوں کی شکایات اور مطالبات میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا اور کئی دہائیوں تک ہندوستان پر حکمران رہنے والی کانگریس ان مطالبات پر سکھوں کو مطمئن کرنے میں ناکام ہوتی چلی گئی تو ہندوستانی پنجاب میں کئی ایک سیاسی جماعتیں اور علیحدگی کی تحریکیں منظم اور فعال ہونا شروع ہو گئیں جن میں سے کچھ دبے لفظوں میں اور کچھ کھلے عام، کچھ پر امن سیاسی جدوجہد سے، اور کچھ جنگجوانہ مزاحمت کے ذریعے سکھوں کے علیحدہ ملک خالصتان کا مطالبہ کرنے لگیں ۔ جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے 80 کی دہائی میں سکھوں کے علیحدہ ملک کی تحریک کے روحِ رواں تھے ۔ آپریشن بلیو اسٹار کا ہدف بھی انہی کی قیادت میں ;39;خالصتان;39; حاصل کرنے کےلئے منظم ہونے والے نوجوان سکھ جنگجو تھے جو سکھوں کے سب سے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل میں مورچہ زن تھے ۔ اس آپریشن کے نتیجے میں ہزاروں زائرین ہلاک ہوئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے، سکھوں کے سب سے مقدس گوردوارے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور سکھوں کےلئے مقدس ترین دنیاوی مظہر اکال تخت کو بھی نقصان پہنچا ۔ جس بے رحمی سے جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے اور ان کے ساتھیوں کو طاقت کے بے پناہ استعمال کے ذریعے ہلاک کیا گیا، اور جس طرح سے گولڈن ٹیمپل پر آپریشن کےلئے سکھوں کے مذہبی تہوار کے دنوں کا انتخاب کیا گیا جب وہاں ہزاروں زائرین کی موجودگی یقینی تھی، وہ سکھ نیشنلزم اور خالصتان تحریک کے احیاء کے ایسے بیج بو گیا، جنہوں نے اب پھوٹنا شروع کر دیا ہے ۔ جرنیل سنگھ بھنڈرا نوالے مذہبی رہنما تھے اور سکھ مذہب کے احیاء اور فروغ کےلئے کوشاں تھے، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے جنگجو تنظیم سازی کے ذریعے بزورِ طاقت خالصتان کے علیحدہ ملک بنانے کی جدوجہد شروع کر دی جو آپریشن بلیو اسٹار میں ان کی اپنے سینکڑوں مسلح ساتھیوں کی ہلاکت کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچی ۔ خالصتان کی سکھ تنظیموں نے دوسرے ملکوں میں بسنے والے سکھوں کو منظم کرنا شروع کیا اور آج ایک دفعہ پھر خالصتان تحریک مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔ ہندوستانی انتظامیہ اور اس کی خفیہ ایجنسی را کے بارے میں بھی ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جن کے مطابق انہیں خدشہ ہے کہ خالصتان تحریک زور پکڑ رہی ہے ۔ اس وقت ببر خالصہ، انٹرنیشنل سکھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن، خالصتان کمانڈو فورس، آل انڈیا سکھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن، بھنڈرانوالے ٹائیگر فورس آف خالصتان، خالصتان زندہ باد فورس، خالصتان لبریشن فورس، خالصتان لبریشن آرمی، دشمیش رجمنٹ اور شہید خالصہ فورس نامی مختلف تنظی میں خالصتان کی آزادی کےلئے سرگرم ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اب ایک نیا رجحان جنم لے رہا ہے اور خالصتان کی تحریکوں میں مذہب کے ساتھ ساتھ بتدریج قوم پرستی کا رنگ بھی سامنے آنے لگا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خالصتان تحریک سے وابستہ تنظیموں نے اب کشمیر میں ہونے والی ہندوستانی زیادتیوں کا ذکر بھی کرنا شروع کر دیا ہے اور چند ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ دونوں تحریکیں مستقبل میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو سکیں گی ۔ ہندوستان کے ریاستی معاملات میں تیزی سے بڑھنے والی مذہبی انتہا پسندانہ سوچ ان دونوں تحریکوں کو بالآخر ایک دوسرے کے قریب لانے کا موجب بنے گی ۔

About Admin

Google Analytics Alternative