23

خامشی کا شور۔۔۔تہمینہ راءو کے قلم کا زور

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے یا بولتا جائے ۔ بول اور قول میں بھی جادو گری کا ہنر لہجہ تخلیق کرتا ہے ۔ تقریر میں سحر انگیزی بدرجہ اتم پیدا کی جاسکتی ہے بالکل اسی طرح ایک ادیب اپنے افسانوی طرز و اسلوب سے کہانی میں جادو اور افسانے میں افسوں افزوں کرسکتا ہے ۔ میں افسانے کا آدمی نہیں ہوں اور نہ ہی میں افسانوی دنیا میں رہتا ہوں مگر افسانے کی افسوں میں گرفتار کب ہوا ہوں جب تخیلاتی سرزمینوں کی خواہش نے دل میں کروٹیں لینا شروع کیں تو افسانے پر اعتماد دلانا پڑا ۔ افسانہ کا شجرہَ نسب اڑھائی ہزار برس پرانا اور اپنی شکل و صورت میں آج بھی جدید تر ہے ۔ تہمینہ راءو کے افسانے اس کی ذ ہنی کیفیات کے مختصر نثری شہ پارے ہیں ۔ تہمینہ راءو نے تفصیلات پر اختصار کو ترجیح دی ہے اور اپنے قارئین کی تعداد میں اضافہ کر لیا ہے ۔ ’’خامشی کا شور‘‘ میں 43 افسانے یا افسانچے ہیں ۔ تہمینہ راءو ایک صاحب رائے اور حقیقت پسند افسانہ نگار کے طور پر ابھری ہیں ۔ سچائی اور راست بازی موصوفہ کے افسانوں کے ایک ایک لفظ سے محسوس ہوتی ہے ۔ اصغر ندیم سید نے تہمینہ راءو کے افسانوں کا تجزیہ اور محاکمہ جس انداز سے پیش کیا ہے وہ بڑی خاصے کی چیز ہے ۔ گزشتہ روز ہمارے ہمدم دیرینہ اور دمساز خالد شریف نے ماورا کے زیر اہتمام خوبصورت خامشی کا شور کی تقریب رونمائی میں افسانے کے افسوں سے ماحول کو زندگی اور فکر و عمل کے میدان میں لا کر کھڑا کر دیا ۔ خالد شریف کی خوش نصیبی کہوں گا یا سکندر بختی کہ آپ نوکر شاہی سے شہنشاہی کی طرف آگئے ۔ اگر نوکر شاہی کی مسند سے اذکار رفتہ ہوتے تو آپ بھی بہت سارے افسران کی طرح گمنام زندگی کر رہے ہوتے ۔ سورج جہاں سے نکلتا ہے اور جہاں غروب ہوتا ہے شرقاً غرباً اور شمالاً جنوباً اردو جہاں جہاں بولی جاتی ہے اور انگریزی جہاں جہاں سمجھی جاتی ہے خالد شریف کے نام کو بھی کسی تعارف کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم محترمہ تہمینہ راءو کی یہ دوسری کتاب ہے اور ماورا کے زیر اہتمام شاءع بھی ہوئی اور آج بین الاقوامی شہرت یافتہ مزاح نگار جن کے کالموں میں بھی افسانے، کہانیاں ، کہاوتیں ، مثالیں اور زندگی کے تلخ و شیریں حقائق سے قاری لطف اندوز ہوتا ہے میری مراد جناب عطاء الحق قاسمی کی ذاتِ گرامی سے ہے ۔ صدارت کی کرسی پر جلوہ افروز تھے سٹیج پر جاوید انور، اصغر ندیم سید، توقیر شریفی، ’’خامشی کا شور‘‘ کی مصنفہ افسانہ نگار کردار نگاری کی ملکہ معظمہ ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی زندگی کے مسائل کو نوک قلم پر لا کر ہمیشہ کے لئے زندہَ جاوید بنا دینے والی محترمہ تہمینہ راءو کی موجودگی ماحول میں آسودگی پیدا کر رہی تھی آپ کے افسانوں کی اس کتاب پر صاحبِ صدر عطاء الحق قاسمی نے صدارتی کلمات میں کہا کہ میں تہمینہ کے افسانوں سے متاثر ہوا ہوں مگر شاعری نے تو مجھے زیادہ متاثر کیا ہے ۔ تہمینہ کی شاعری کی کتاب اگر منظر عام پر نہیں آئی تو ماورا اگر شاءع کرتا ہے تو خالد شریف سے مجھے مفت مل جائے گی ۔ ویسے میں اس کتاب کو خرید کر ہی پڑھنا چاہتا ہوں کیونکہ افسانوں کے ساتھ تہمینہ نے اپنے چند اشعار کا انتخاب سنا کر اپنی شاعری کو افسانوں پر غالب کر دیا ہے ۔ صدر ذی وقار عطاء الحق قاسمی نے اپنی زندہ دلی اور زندہ ولی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اپنی سنجیدگی اور کوہستانی وقار جیسی خاموشی کو توڑ تے ہوئے مزاح کی حس کو بھی گفتگو میں شامل کیا ۔ خالد شریف صاحب کی نواز ش ہے کہ وہ راقم کو استقبالیہ کلمات کا اعزاز عطا کرتے ہیں اور عطاء الحق قاسمی صاحب کی فراخ دلانہ حوصلہ افزائی میرے لئے مسیحائی سے کم نہ تھی ۔ تہمینہ راءو نے چند افسانے اور اشعار سنا کر خوب داد وصول کی ۔ خدیجہ مستور، رضیہ فصیح احمد ، جمیلہ ہاشمی، اختر جمال، حاجرہ مسرور، فرخندہ لودھی، نثار عزیز بٹ، کہکشاں ملک، احمد ندیم قاسمی، زاہدہ حنا جیسے ممتاز اور تیز دھار قلم کاروں کے افسانوں میں گہری اثر آفرینی پائی جاتی ہے اور آج تہمینہ راءوبھی اس قافلے میں شریک ہوگئی ہے آپ کا شمار حقیقت پسند افسانہ نگاروں میں ہوگا ۔ قومی ، معاشرتی اور سماجی مسائل کو تہمینہ راءو نے بڑی روانی سے قلم بند کیا ہے ۔ افسانہ نگار تہمینہ کے اندر ایک شاعرہ کی روح موجود ہے ۔ آپ کا اسلوب نگارش اللہ کی بہت بڑی نوازش اور موصوفہ کی ذاتی کاوش کا آئینہ دار ہے ۔ الطاف فاطمہ، زہرہ جبیں ، شائستہ سہروردی ، سیدہ اشرف، سنجیدہ اشرف، عائشہ درانی اور تہمینہ راءو افسانے کے بڑے معتبر نام اس صدی میں سامنے آئے ہیں ’’خامشی کا شور‘‘ شعورو ادراک سے لبریز ہے ۔ شازیہ مفتی ، طاہرہ روحی، سفرنامہ نگار خاتون جو روس ، ترکی اور پوری دنیا میں اپنے نام سے پہچانی جاتی ہیں اور جن کا احترام ہمارے ادیبوں ، شاعروں ، انشاپردازوں ، صحافیوں ، سماجی اور ثقافتی حلقوں میں بدرجہ اتم موجود ہے آپ کی سادگی میں زندگی کی ساری حقیقتیں پنہاں ہیں ہم نے ہمیشہ سلمہ اعوان کی خاکساری میں آسمانوں کی بلندی دیکھی ہے اور سلمہ اعوان نے تہمینہ راءو کو مبارک باد دی اور افسانوں کو انسانوں کے لئے درس قرار دیا ۔ شارق جمال کا کمال یہ ہے کہ وہ ایک بہت غضب کے شاعر اور بلا کے گفتگو طراز ہیں آپ نے بھی مہمان خاص کی حیثیت سے ’’خامشی کا شور‘‘ پر اظہار خیال کیا ۔ قراۃ العین نے ’’خامشی کا شور‘‘ اور اپنے شعور کی روشنی سے افسانوں کوعصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہمینہ راءو کی عام باتوں نے افسانوں میں تڑپا دیا ہے ۔ خالد شریف نے ہمیشہ کی طرح نقابت کے فراءض بڑی خوش اسلوبی اور قرینے سلیقے سے سرانجام دیئے ۔ اصغر ندیم سید نے فلسفہَ افسانہ کی حقیقت بڑے بڑے افسانہ نگاروں کے نام لے کر بیان کی ۔ منٹو کے افسانوں کے خلاصے پیش کیے اور سامعین نے بڑی داد دی اور وہ تالیوں کی گونج میں دبے پاءوں نکل گئے کیونکہ آپ نے کسی یونیورسٹی میں لیکچر دینا تھا ۔ آپ نے تہمینہ راءو کے بارے میں کہا کہ تہمینہ نے جو موضوعات لئے ہیں وہ بے حد متنوع ہیں ایک تو گھریلو رشتوں کی پوری بساط موجود ہے جس میں مشرقی معاشرے کی اقدار اور اُن کے مقابل عالمی زندگی کی وہ قدریں جو اپنی جگہ بنارہی ہیں موجود ہیں ۔ اس کشمکش کو ہم ان مختصر افسانوں میں دیکھ سکتے ہیں ۔ بعض بے حد نازک تعلقات اوررشتوں کو تہمینہ راءو نے بڑی خوبصورتی سے ان کو افسانوں میں شامل کیا ہے ۔ محمد اظہار الحق رقم طراز ہیں : ’’شاعری کے حوالے سے کامیابی سے متعارف ہونے کے بعد تہمینہ راءو نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اچھی نثر نگار بھی ہیں ۔ کہانیوں کی زبان رواں ہونے کے ساتھ سلیس بھی ہے ۔ تارکینِ وطن کے مسائل اس نوعیت کے نہیں جن سے ہمارا واسطہ پاکستان میں پڑتا ہے ۔ تہمینہ نے ان کہانیوں میں اُن مسائل کو خوبصورتی اور چابکدستی سے بیان کیا ہے یہ روزمرہ کے واقعات ہیں جو ہر انسان کو پیش آتے ہیں مگر انہیں تعمیم کا رنگ دے کر آفاقی بنانا ادیب ہی کا کام ہے او ریہ کام تہمینہ نے کامیابی کے ساتھ کیا ہے ۔ بیرونِ ملک ایک خاتونِ خانہ کی زندگی ذمہ داریوں سے اٹی ہوتی ہے اس کے باوجود شاعری اور افسانہ نگاری کے لیے وقت نکالنا اور اس پر مسلسل توجہ دینا مشکل کام ہے اور تہمینہ یہ مشکل کام کر رہی ہیں اس زاویہَ نظر سے اُن کی تخلیقات تحسین کی حقدار ہیں ۔ تہمینہ اردو کے اُن سفیروں میں شامل ہیں جو ستائش کی تمنا اور صلے کی پروا کیے بغیر اپنی زبان کی خدمت کر رہی ہیں یہ کاوش قابلِ قدر ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ تہمینہ اپنا تخلیقی سفر جاری رکھیں گی اور اُن کی آنے والی تخلیقات زیادہ سے زیادہ دلنشین ہوں گی‘‘ ۔ افتخار عارف لکھتے ہیں کہ’’مختصر کہانیوں کا یہ مجموعہ اس اعتبار سے بھی اپنی الگ پہچان رکھتا ہے کہ اس میں فکشن کے ایک بہت اہم اسلوب مختصر افسانے کی بنیادی طرز کو قائم رکھ کر ایک تاثر، ایک جذبہ، ایک کہانی کے بیان کو استوار رکھا گیا ہے ۔ سادہ، رواں اور پر کار اسلوب پڑھنے والے کو اپنی طرف متوجہ رکھتا ہے‘‘ ۔ امجد اسلام امجد رقم طراز ہیں : ’’تمینہ راءو کے یہ افسانچے بھی سب سے پہلے یہی سوال اُٹھاتے ہیں کہ ان کی بیشتر تحریروں میں کوئی واقعہ ، منظر ، تاثر یا معاشرتی ;80;aradox اس انداز میں سامنے آتا ہے جیسے مصنفہ خود اپنے آپ سے باتیں کر رہی ہو ۔ یہ خود کلامی مکالمے میں کیسے ڈھلتی ہے اس کے کئی طریقے آپ کو اس کتاب میں ملیں گے‘‘ ۔ اشرف شاد کے تاثرات ملاحظہ فرمائیں : ’’خامشی کا شور‘‘ میں وہ اپنی اندر کی دنیا سے باہر نکل آئی ہیں اور انھوں نے وہ کہانیاں بیان کر دی ہیں جو اِن کے اردگرد پھیلی ہوئی تھیں اور جنہیں وہ شاعری کی زبان سے ادا کرنے میں مشکل محسوس کر رہی تھیں ‘‘ ۔ فرحت پروین رقم پروین ہے : ’’تہمینہ کی نثر صاف سادہ رواں اور سلیس ہے ۔ اُن کی بیشتر کہانیوں کے موضوعات عائلی زندگی کے گرد گھومتے ہیں ۔ دیکھا جائے تو گھریلو زندگی ہی وہ اکائی ہے جس میں خاندان کا سکون مضمر ہے اور اسی ایک شعبے میں عدم توازن سے بے حساب مسائل اور اُلجھنیں پیداہوتی ہیں اور بسا اوقات اسی میں عمریں کٹ جاتی ہیں ‘‘ ۔ افضل رضوی کا شمار ہمارے دوستوں میں ہوتا ہے وہ بھی تہمینہ راءو کے بارے میں اپنے تاثرات ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :’’ان کی شاعری کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ معاشرے کے ناقابل قبول رویوں کے خلاف علمِ احتجاج بلند کرتی ہیں اور یہی خصوصیت ا ن کے افسانچوں کے مجموعے ’’خاموشی کا شور‘‘ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے عورت کی مظلومیت کو اپنے افسانچوں کا موضوع بنا کر حقوق نسواں کے لیے نعرہَ حق بلند کیا ہے‘‘ ۔ اس کتاب کا انتساب مصنفہ نے اپنے والد گرامی محترم صادق علی خان اور والدہ محترمہ کنیز فاطمہ کے نام کیا ہے ۔ اس خوبصورت اور دلوں میں زلزلے ڈال دینے والی تحریروں پر مبنی ’’خامشی کا شور‘‘ افسانے حاصل کرنے کے لئے ماورا بک 60 دی مال لاہور 0300-4020955 پر رابطے کرکے حاصل کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں