Home » کالم » خدارا فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے

خدارا فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے

دنیا بھر میں صوبائی اور وفاقی دارالخلافے ہمیشہ سے عالمی سازشوں اورمقامی احتجاج کا مرکز رہے ۔ جب جب عالمی طاقتوں کی حکومتوں کو گرانے کیلئے تمام سازشیں ناکام ہو جاتیں تو لانگ مارچ، احتجاج اور دھرنا ہی وہ راستے رہ جاتے تھے جن سے حکومتوں کا دھڑن تختہ کیا جاتا جس کے بعد اس ریاست یا سلطنت کو سنبھلنے میں کئی دہائیاں اور بعض اوقات صدیاں لگ جاتیں اور پھر عالمی سازشوں کے بعد پیدا شدہ بگاڑ کے خاتمے کیلئے کوئی قوم فیصلہ کر لیتی تو پھر انہی راستوں پر انقلاب بھی تلاش کیے جاتے رہے جن میں بہت کم ایسے مارچ اور احتجاج ہیں جن میں مطلوبہ کامیابی پرامن انداز میں حاصل کی گئی ہو ورنہ تو اکثر احتجاج اور دھرنوں نے ملکوں اور ریاستوں کو تباہی اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں دیا ۔ تاریخ گواہ ہے کہ لانگ مارچ،دھرنے اور احتجاج کے پیچھے جب بھی غیر ملکی طاقتیں کارفرما رہیں تب تب دنیا کا نقشہ تبدیل ہوا اور ایسا بگاڑ پیدا ہوا جوہمیشہ دنیا میں فسادکا موجب بنتا ہی چلا گیا ۔ حالیہ چند صدیوں میں یورپ، سلطنت عثمانیہ،برصغیر سمیت ایران،عراق،لیبیا،شام،مصر،چین،افغانستان سمیت متعدد ممالک،ریاستیں اور عالمی طاقتیں انہی اقسام کے احتجاج کا شکار ہوئیں ۔ مملکت خداداد ریاست پاکستان کا دارالخلافہ اسلام آباد کا بھی کنٹینرز کیساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے کیونکہ وفاقی دارالحکومت میں بھی احتجاج ،مارچ اور دھرنے عام سی بات بن چکے ہیں اور ان احتجاج ،مارچ اور دھرنوں کو جمہوریت کا حسن قرار دیا جاتا ہے جو میری ناقص رائے میں جمہوریت کا حسن نہیں بلکہ قانون ساز ایوانوں کی ناقص کارکردگی کا شاخسانہ ہیں ۔ آج کل بھی اسلام آباد میں ایک احتجاج کے نتیجے وجود میں آنیوالے مارچ کے بعد دھرنا جاری ہے اور یہ دھرنا دائیں بازو کی جماعت جمیعت علماء اسلام (ف) کی جماعت دے رہی ہے اور اسکا دعویٰ ہے کہ ہمارے ساتھ اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتیں شامل ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ احتجاج کرنیوالی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اصل مطالبات کبھی بھی سامنے نہیں آئے کیونکہ ہر زیشعور انسان جانتا ہے کہ سامنے رکھے جانیوالے مطالبات آئین و قانون کی روح کے خلاف ہوتے ہیں مگر پھر بھی ہم ان کو جمہوری لباس پہنا کر ڈھٹائی کیساتھ پیش کر دیتے ہیں ۔ یہ بات طے ہے کہ احتجاج کرنیوالی جماعتوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کس کیخلاف احتجاج کر رہی ہیں ۔ یہاں پر پنجابی کی یہ کہاوت بالکل درست ثابت ہوتی ہے جس کا اردو میں کچھ اس طرح مطلب نکلتا ہے کہ کہنا بیٹی کو اور سنانا بہو کو ۔ اپنے آپ کو جمہوری اور آئین کا پاسدار کہنے والے خود آئین کے برخلاف مطالبات کر رہے ہوتے ہیں اور انکو شائد معلوم نہیں ہوتا کہ وہ غیر آئینی مطالبات کر رہے ہوتے ہیں یا پھر جان بوجھ کر ایسا کیا جا رہا ہوتا ہے اور اگر یہ جان بوجھ کر کیا جا رہا ہوتا ہے تو پھر یہ عمل بہت خطرناک ہے ۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ اور دو رائے نہیں کہ جب ایک پاکستانی فوجی وردی زیب تن کرتا ہے تو وہ ملک کی آن ،بان اور شان بن جاتا ہے،فوجی وردی پہننے سے پہلے وہ ایک عام آدمی ہوتا ہے لیکن جب وہ فوجی وردی پہن لیتا ہے تو قوم کا بچہ بچہ اس کی اپنے پاس موجودگی کو ایک غیر متزلزل تحفظ سمجھتا ہے ۔ پاکستانی قوم ہر قربانی دے سکتی ہے،ہر بات برداشت کر سکتی ہے مگر اپنے فوجی کیخلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہوتی جس کی بڑی وجہ فوج کا اپنا کردار ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جس نے فوج کیخلاف بات کی اسکی اپنی بقاء خطرے میں پڑ گئی کیونکہ قوم کے دلوں میں صرف اور صرف پاک فوج بستی ہے اور اس قوم کا ہر فرد خواہ وہ بوڑھا ہو یا جوان،مرد ہو یا عورت سب اپنی فوج کے سپاہی اور محافظ ہیں ۔ وفاقی دارالحکومت میں جے یو آئی ف کا دھرنا ایک سیاسی سرگرمی ہے اور سیاسی سرگرمی میں ملک کے دفاعی ادارے فوج کو گھسیٹنا کسی صورت درست نہیں بلکہ میں اس حد تک کہوں گا کہ ملکی ادارے کیخلاف جانا سوچی سمجھی سازش ہی ہوتی ہے ورنہ کون بیوقوف اپنے محافظ کیخلاف جانے کا سوچ سکتا ہے;238;کیا پاک فوج پر تنقید کرنے والے یہ نہیں سوچتے کہ جو ادارہ پاکستان کی نظریاتی اساس کا ضامن ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی داخلی خود مختاری اور اقدار اعلیٰ کا محافظ ہے ۔ ملک کا پہلا اور آخری دفاعی حصار بھی ہے اس کیخلاف بات کرنے سے ملکی سلامتی کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ،کیا ایسے لوگ دشمن کو ہم پر انگلیاں اٹھانے کا موقع فراہم نہیں کر رہے ہوتے;238;اس وقت سراپا احتجاج جے یو آئی،ن لیگ ،پیپلز پارٹی اور اے این پی گزشتہ 10سال میں وفاق اور صوبوں میں برسراقتدار رہی ہیں یہ کوئی ایک ایسا لیٹر قوم کو دکھائیں جس میں فوج نے عام انتخابات اپنی زیر نگرانی کرانے کی خواہش کا اظہار کیا ہو اور اگر سراپا احتجاج سیاسی جماعتیں ایسا نہ کر سکتیں تو فوج پر تنقید کرنے پر انھیں قوم سے معافی مانگنی چاہئے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمیشہ اپوزیشن جماعتوں نے فوج کی زیر نگرانی انتخابات کی مطالبہ کیا جس کے باعث نگران حکومتیں فوج کی زیر نگرانی انتخابات کرانے کیلئے فوج کو خط لکھتی ۔ فوج کی زیر نگرانی انتخابات میں بھی حکومت وقت ہی فوج کا کردار بھی تعین کرتی رہی لیکن اس سب کے باوجود ہمارے ملک کے قابل فخر ادارے کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے تو غیر آئینی اور غیر قانونی عمل ہے جس کیخلاف قانونی چارہ جوئی ہونی چاہئے اور الزام لگانے والوں کو عدالتوں میں لے جایا جائے اور مطالبہ کیا جانا چاہئے کہ عدالتوں میں اپنا الزام ثابت کرو ورنہ سزا بھگتو ۔

About Admin

Google Analytics Alternative