Home » کالم » خطہ میں طاقت اور معیشت کا نیا ۔ ’’ موثر توازن‘‘

خطہ میں طاقت اور معیشت کا نیا ۔ ’’ موثر توازن‘‘

قیام پاکستان کے تقریباً 7-6 ماہ بعد فروری 1948 میں امریکی پریس کے ایک وفد نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح;231; سے ملاقات کی اس موقع پر پاکستان کے پہلے گورنرجنرل کا تفصیلی انٹرویوریکارڈ کیا گیا اپنے انٹرویو میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح;231; نے امریکی عوام کے نام اپنا پیغام بھی ریکارڈ کرایا جس میں کہا گیا تھا کہ‘‘ ہماری خارجہ پالیسی دنیا کی تمام اقوام کے ساتھ دوستی اور خیر سگالی کے جذبات سے عبارت ہے ہم کسی ملک یا قوم کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں رکھتے ہم قومی اور بین الا اقوامی امور ومعاملات میں انصاف اور دیانت کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں اور ہم دنیا کی قوموں کے مابین امن اور خوشحالی کے فروغ وترقی کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہتے دنیا کی مظلوم اور زیردست اقوام کی مادی واخلاقی امداد واعانت نیز اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی سربلندی میں پاکستان کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہے گا’’بانی پاکستان نے ان خطوط پر ہماری خارجہ پالیسی کے رہنما اصول اگرچہ متعین کردئیے تھے لیکن گزشتہ ستر اکہتر برسوں کے دوران وقوع پذیر بین الا اقوامی حالات وواقعات کے تناظر میں سفارتی سیاست کے طور طریقوں میں وقتا ًفوقتاً پے درپے تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں اس بارے میں ماضی کی تلخ تفصیلات سے پہلو تہی کرتے ہوئے اگرہم جائزہ لیں تو ان حقائق سے متفق ہوئے بنا اپنی بات ہم آگے کیسے بڑھائیں کہ دور جدید میں کسی بھی ایک چھوٹے سے ملک کی خارجہ پالیسی بڑی طاقتوں کے پیداکردہ حالات کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتی مثال کے طور پر ملا عمر کے زمانے کے افغانستان کو ہی ذرا اپنے ذہن میں لائیے کہ اْن کے ایک ‘انکار’ نے دنیا کی سیاست اور سفارت ہی بدل کر رکھ ڈالی کاش، امریکا اْن کی بات مان لیتا یا ملا عمرامریکا کی بات مان لیتے یوں امریکا کو کوئی بہانہ نہ ملتا پھر آخر ہوا کیا امریکا جیسا ‘ڈائینوسارنماملک’ اپنے سفارتی وقار اوراپنے عالمی دبدبے کے اعتباراوراپنی ساکھ کوہی بھلا بیٹھا اور آج وہ گھٹنوں میں سر دئیے پچھتاوے کے آنسو بہا رہا ہے اس میں کوئی دورائے نہیں ہے یہ بہت ہی ثقہ اورموثر نکتہ ہے کسی چھوٹے بڑے ملک کے خارجہ تعلقات کی بنیادیں رکھتے وقت پہلی سطح پر ہمسایوں اور اپنے خطہ کے ملکوں کی پالیسیوں سے ہم آھنگ ہوئے بغیر خارجہ امور میں ہم پلہ توازن پیدا نہیں کیا جاسکتا، پاکستان کے مشرق میں واقع پڑوسی ملک بھارت کو چھوڑیں وہ تو انگریزی استعمارکی پیروی میں معروف جمہوری رواداریوں کو تسلیم کرتا ہی نہیں ہے پاکستان ابتدا میں ہی یک بیک امریکی بلاک کا حصہ بن گیا تھا کاش! اس وقت کے سیاسی قائدین اپنے خطہ کے بیرونی امور کے توازن کو بھانپ لیتے کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ‘‘ہم پاکستانی ایک جذباتی قوم ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں ’’کاروبار ‘‘پر نہیں ، بلکہ‘‘ لوافیئر’’پرزیادہ یقین رکھتے ہیں ، اسی لیے ہم نے ہمیشہ امریکہ سے توقعات وابستہ کر نے میں تیزی دکھلائی ہے، جن کے پورا کرنے کا امریکہ نے کبھی کہا ہی نہیں تھا ابتدائی دور کے پاکستانی قائدین شاید یونہی سوچتے تھے کہ امریکی انتظامیہ ہر وقت پاکستان ہی کے بارے میں سوچتی رہتی ہوگی;238; امریکی صدر صبح سویرے اٹھ کر سب سے پہلے پاکستانی اردو اخبارات کا مطالعہ کرتے ہونگے اسی لیے تو ہر اردو اخبار میں روزانہ امریکہ پر لعن طعن کے دو تین جذباتی مضامین لازماً کل بھی ہوتے تھے آج کل تو واقعی ہونے چاہئیں جن میں امریکی انتظامیہ کو ’’زریں اور قیمتی ‘‘مشوروں سے نوازا جاتا رہے مگر اْس کے کانوں پر جوں کل رینگی نہ اب رینگتی ہے پہلے وقتوں کے سیاست دانوں کا یہ بھی ایک خیال ہوتا تھا کہ کیا امریکا کو پاکستان کی کوئی فکرنہیں ہوتی جناب والہ، امریکا ہمارے بارے میں سوچتا ضرور ہے مگر پاکستان کے بارے میں سوچتے ہوئے اْس کی سوچوں کا بنیادی نکتہ یہی ہوتا ہے کہ پاکستان کو اپنے دباو اور اپنے عالمی دبدے سے مرعوب کیسے کیا جائے اوپر سے پاکستان نے ایٹمی ڈیٹرنس اور حاصل کرلی میزائل ٹیکنالوجی میں امریکا کے منظور نظر بھارت سے پاکستان کئی قدم آگے بھی نکل چکا ہے پاکستانی سماج اور معاشرے کو چٹخانے اْس میں دارڑیں ڈالنے اور سماجی توڑپھوڑکرنے میں کوئی کسر پینٹاگان نے باقی نہیں چھوڑی ہے بعض دفعہ یوں لگتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی تعداد پانچ چھ سات لاکھ نہیں بلکہ اٹھارہ انیس کروڑ عوام وردی کے بغیر پاکستانی فوج کا حصہ معلوم ہوتے ہیں پاکستانی عوام میں سرایت کی ہوئی رچی بسی ہوئی فوج سے والہانہ محبت کا ‘چس’ کسی صورت میں علیحدہ نہیں ہورہا ہے امریکی سازشوں کی کوئی تھیوری مطلوبہ نتاءج بھی نہیں دے پارہی امریکی فرعونیت نے تو اس وقت حدیں ہی پار کرلیں جب امریکی صدرٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ کیئے ملٹری معاہدات سے اپنے ہاتھ اْٹھا لیئے تو پاکستان نے بھی امریکا کے سامنے کسی قسم کے کوئی ترلے اور منتیں نہیں کیں بلکہ اپنی ملٹری ضروریات کے لئے اپنے خطہ میں اپنے لیئے نئے پارٹنرتلاش کر لیئے ہیں پاکستان کو اس کا اندازہ پہلے سے تھا لہٰذا روس پاکستان ملٹری معاہدات کے اس نئے سفرکے آغاز پر پاکستانی قوم بہت پْرجوش ہے روس کے ساتھ پاکستان کے نئے سفر پر پاکستانی قوم سجھتی ہے اب ہمارے قومی وقار کی شان بان پہلے سے اور زیادہ باوقارثابت ہورہی ہے قیام پاکستان سے اہل وطن آج تک اپنے مسائل اپنے ہی خطہ میں اور اپنے پڑوس میں حل کرنے کے متمنی تھے ہماری آنکھیں یہ خوشگوار دن دیکھنے کی کب سے آرزومند تھیں پاکستان کے ساتھ امریکا اپنی خشک وتر سفارتی نخرے بازیاں اب اپنے پاس رکھے پاکستان اب بدل گیا ہے دیکھا نہیں امریکا نے کہ نودس ماہ گزرچکے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے دل میں امریکا جانے کی خواہش تک نہیں ابھری وزیراعظم عمران خان نے اپنی تمام تر توجہ اپنے خطہ پر مرکوز کررکھی ہے چین مستقبل کی ابھرتی ہوئی ایک یقینی سپرپاور اور روس نئے عہد کا ایک بہت ہی معتبر معاملہ فہم ایشیائی ملک جہاں سے افغانستان میں وقوع پذیرامن کی نوید دنیا کو سنائی دے رہی ہے جب امریکا نے پاکستان ملٹری تعاون کے معاہدات کو ختم کرنے کا اعلان کیا اور افغانستان کے بارے میں اپنے متعصبانہ پالیسی سازاعلامیہ پر عمل درآمد کا عندیہ دیا تو پاکستان نے امریکا کی طرف مڑ کر دیکھنا گوارا تک نہیں کیا امریکی ساختہ دہشت گرد داعش اور بلیک واٹر کے غنڈوں کی افغانستان میں آمد نے روس کے کان بھی کھڑے کردئیے ہیں لہٰذا اب روس کی جانب پاکستان کے بڑھتے ہوئے دوستی کے قدم رک نہیں سکتے روس کے سرکاری ٹیلی ویڑن کو دئیے گئے اپنے انٹرویو میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہہ دیا کہ اْن کی روس کے صدر ولادی میرپیوٹن سے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں ملاقات ہوگی جس میں غیر رسمی گفتگو ہوگئی پاکستان اور روس کی افواج کے مابین مشترکہ جنگی مشقوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں ہر نئے دن کے ساتھ بہتری آرہی ہے اورروس کے ساتھ پاکستان کے ان تعلقات میں مزید اضافہ ہوگا ہ میں ماضی کے پچاس،ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کی سردجنگ کا زمانہ فراموش کرکے آگے بڑھنا ہے پاکستان نے روس کے ساتھ اپنے رابطوں کواپنی سفارتی ترجیحات میں فوقیت دینا شروع کردیا ہے روس سے بھی پاکستان کے لئے اچھی خبروں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے روسی ہتھیاروں بالخصوص ایس چارسو میزائل سسٹم کی خریداری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سب سے پہلے تو ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ ہمارے تناءو جیسی صورتحال میں کمی آئے تاکہ ہ میں ہتھیار خریدنے کی ضرورت ہی نہ پڑے کیونکہ ہم یہی پیسہ اپنے ملک میں انسانی ترقی پر خرچ کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم روس سے ہتھیاروں کی خریداری میں دلچسپی رکھتے ہیں ہماری فوج پہلے ہی سے روسی فوج کے ساتھ رابطے میں ہے اب پتھرپر لکھی یہ تحریرہر کوئی پڑھ لے وہ یہ کہگزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان میں روسی ہتھیاروں کے نظام میں دلچسپی بڑھتی جارہی ہے پاکستان نے روسی لڑاکا جیٹ طیاروں میں اپنی دلچسپی ظاہر کردی ہے سخوئی ;83;u;245;35 اور ;77;i;245#77; سمیت ہیلی کاپٹربہت جلد پاکستانی فوج کا حصہ ہونگے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان کے19 ویں اجلاس کے دوران دوران پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے روس کے صدر ولادیمیر پوتین سے خصوصی ملاقات کی اور بین الاقوامی ذراءع ابلاغ کی طرف سے روسی اور پاکستانی قائدین کی اس اہم ملاقات کو بڑے گہرے اور عمیق انداز میں دیکھا گیا ہے وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر یہ بھی کہا ہے کہ وہ خوش ہیں کہ بدلتے ہوئے پاکستان نے اپنے دوستوں کی دنیا بھی اب بدل لی ہے پاکستانی قوم کومبارک کہ اب خطہ میں طاقت کے مراکز تبدیل ہوگئے اب امریکا اپنی دنیا میں محدود رہ کر مزے کرئے اوراپنے مفادات کے لئے دنیا کے ممالک کے امن کو مزید کسی اور خطرے میں نہ ڈالے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative