Home » کالم » خطے میں بھارت دوستی نہیں دشمنی پھیلا رہا ہے

خطے میں بھارت دوستی نہیں دشمنی پھیلا رہا ہے

افغانستان کے حوالے سےشہرت اور مہارت رکھنے والے محقق احمد رشید پاکستان اور افغانستان میں صحافتی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے احمد رشید جو پاکستان کے حوالے سے انتہائی مضر اور نقصان دہ طرز فکر رکھتے ہیں، امریکہ کے مختلف فورمز پر اکثر اوقات پاکستان کاذکر ایک ایسی ریاست کے طورپر کرتے ہیں جو تیزی سے انارکی کی طرف جارہی ہو۔ امریکی میڈیا کو اپنے حالیہ انٹرویو میں انہوں نے خود ساختہ اور بوگس حوالے دے کر حاضرین و سامعین کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ خطے میں بھارت کا کردار ایک معزز ملک کا ہے جو تمام ہمسائیوں کے ساتھ امن و امان کے فروغ کیلئے سفارتی سلسلہ رکھتا ہے۔ جبکہ پاکستان صرف مجرموں، دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو ہتھیاروں کا ایندھن فراہم کرنے والا ملک ہے۔ خصوصاً افغانستان میں قیام امن کی کوشش کو سبوتاژ کر رہا ہے۔ مشرقی سرحد پر بھارتی خطرہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔ تمام تر امریکی امداد کو طالبا ن اور انتہا پسند عناصر کو افغانستان میں دوبارہ پنپنے کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ اس بیہودہ تجزیہ پر ان کی ایک کتاب Descent into chaos بھی مارکیٹ میں آگئی ہے۔ 63 سالہ احمد رشید اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ پاکستان کے پاس ایک ناکام ریاست بننے کیلئے تمام تر صلاحیت موجو دہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ریاست کے کنٹرول کا نہ ہونا اور ریاست کی اتھارٹی کی عدم موجودگی کا مطلب ہے کہ پاکستان کے بعض حصوں میں انارکی بڑھتی جائے گی۔ احمد رشید نے اپنی کتاب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کے ابھی تک افغان طالبان سے روابط ہیں اور پاکستانی فوج اور حکومت طالبان کو مدد فراہم کر رہی ہے۔ پاکستان کو ملنے والی امریکی امداد بھی اپنے ہاں ترقیاتی کاموں کی بجائے طالبان میں تقسیم ہو رہی ہے۔ پاکستان میں طالبان کے کئی اہم رہنما موجود ہیں۔ پاکستان کی ان دوغلی پالیسیوں کی وجہ سے خطے میں امن قائم نہیں ہو رہا ۔ اسی وجہ سے طالبان اب پاکستان کیلئے بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں اور خاص طورپر قبائلی علاقوں میں حکومتی رٹ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ احمد رشید لکھتے ہیں کہ امریکہ کا اصل ہدف اعراق تھا ۔ افغانستان کی باری تو بعد میں آنی تھی۔ سنٹرل ایشیائی مسلم ریاستیں اور ان کے حکمران انتہائی جابر اور ظالم ہیں اور خطے میں دہشت گردی پھیلانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ ان علاقوں میں اسلامی انتہا پسندی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف اس قسم کی الزام تراشی کو ہاتوں ہاتھ لیتا ہے۔ احمد رشید امریکہ کی طرح بھارت کے بھی لاڈلے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص خاص طور پر جب وہ بھارتی شہری بھی ہو اور وہ پاکستان کی کسی بھی طرح کوئی تعریف کردے تو بھارتی میڈیا پنجے جھاڑ کر اس کے پیچھے پڑ جا تا ہے۔ سابقہ کانگریسی دور کے ایک وزیر مملکت برائے خوراک نے دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ پاکستان دہشت گردوں کی حمایت نہیں کرتا۔ کیونکہ اگر وہ ایسا کرتا تو اس کے اپنے ہاں امن ہوتا۔ لیکن حالات اس کے برعکس ہیں ۔ پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے عوام جان کی قربانی دے رہے ہیں۔ اگر دہشت گردی کا الزام پاکستان پر درست ہوتا تو پاکستان میں دہشت گردی نہ ہوتی۔ وزیر کے اس بیان پر بھارتی میڈیا میں گویا آگ ہی لگ گئی اور وزیر کی مخالفت میں آسمان سر پر اٹھا لیا۔ پاکستان بارہا اس بات کا اعادہ کر چکا ہے کہ یہاں پر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجو دنہیں ۔ ا س کے برعکس افغانستان میں حکومتی کنٹرول سے باہر کے علاقے دہشت گردی کی جنت میں ہیں۔ افغانستان کے 407 اضلاع میں سے 245 میں افغان حکومت کا کنٹرول ہے جبکہ 162 اضلاع میں افغان حکومت کی کوئی رٹ نہیں۔ لہذا ان علاقوں میں دہشت گردپھل پھول رہے ہیں۔ یہ علاقے پاک افغان سرحد کے قریب ہونے سے پاکستان ان کی دہشت گردی سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔ یہاں جنم لینے والی دہشت گرد تنظیمیں نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کیلئے بھی شدید خطرہ ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیم تو خود امریکی سرپرستی میں چل رہی ہے۔ احمد رشید کو حقائق کے برعکس تجزیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ خطہ کے حالات سے بے خبر لوگوں کو جو بھی تصویر دکھائیں گے وہ اس کو قبول کر لیں گے۔ یوں وہ انجانے میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت کچھ کھو چکا ہے ۔ بجائے اس کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے، اس پر دہشت گردی پھیلانے کے الزامات عائد کرنا بطور پاکستانی ، اس کی خدمت نہیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative