Home » کالم » خود ساختہ ’’بِگ برادر ‘‘کی ثقافتی یلغار
asghar-ali

خود ساختہ ’’بِگ برادر ‘‘کی ثقافتی یلغار

دو ہفتے قبل ہندوستانی بارڈر سیکورٹی فورس نے بھارت بنگلہ دیش سرحدی علاقے میں کاشت کاری کر رہے بنگلہ دیشی کسانوں پر ربڑ کی گولیاں برسائیں جن کے نتیجے میں 11 لوگ شدید زخمی حالت ہسپتال پہنچ گئے ۔ نامور بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون سے بات کرتے ان کسانوں کا کہنا تھا کہ ;668370; نے بغیر ان سے کوئی بات کئے آتے ساتھ ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس کے نتیجے میں آنکھ میں پیلٹ بلٹ لگنے کے باعث تین کسانوں کی بینائی بھی جزوی طور پر متاثر ہوئی ۔ ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق ;668370; کی جانب سے اس قسم کی جارحیت کے واقعات تسلسل سے پیش آنے لگے ہیں جس سے بنگلہ دیشی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ مبصرین نے اس صورتحال کا جائزہ لیتے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم مودی نے کچھ عرصہ قبل کہا کہ دہلی سرکار کی بابت یہ الزام غلط ہے کہ اس نے اپنے پڑوسی ملکوں کے حوالے سے ’’ بِگ برادر ‘‘ کا طرزِ عمل اور سبھی ہمسایوں کے ساتھ دھونس اور دھاندلی پر مبنی رویہ اپنا رکھا ہے ۔ ان کے بقول حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستان اپنے ہمسایوں کے ساتھ ’’ بِگ برادر ‘‘ کی بجائے ’’ ایلڈر برادر ‘‘ کی حیثیت سے اپنے سبھی پڑوسی ممالک کا ’’ دھیان ‘‘ رکھنا اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھتا ہے ۔ موصوف نے ان خیالات کا اظہار 6 مئی 2015 کو لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے کیا تھا ۔ یاد رہے کہ اسی روز بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں ’’ لوک سبھا ‘‘ نے بنگلہ دیش کے ساتھ سرحدی تنازعات حل کرنے کی بابت اتفاق رائے سے ایک بل کی منظوری دی تھی جس کی حمایت میں 331 اور مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں پڑا تھا ۔ اس سے ایک روز پہلے یعنی 5 مئی کو بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا ’’ راجیہ سبھا ‘‘ میں بھی بنگلہ دیش کے ساتھ سرحدی تنازعات کی بابت یہی بل اتفاق رائے سے منظور ہوا تھا جہاں اس کے حق میں 180 اور مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں پڑا ۔ اس بل کو بھارتی آئین کی 100 ویں ترمیم کے طور پر ہندوستانی آئین میں شامل کیا گیا ۔ اس آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد مودی نے اپوزیشن بینچوں پر جا کر سونیا گاندھی اور دوسرے اپوزیشن لیڈروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بھارت کے مفادات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پارٹی سیاست سے بالا تر ہو کر اس آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیں تو چند باتیں واضح طور پر نظر آتی ہیں ۔ اول تو یہ کہ قومی مفادات کے حوالے سے بھارت کی حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں بڑی حد تک اکھٹی ہیں ۔ اس کے ساتھ دوسرا پہلو یہ ہے کہ نریندر مودی نے پڑوسی ملکوں کے حوالے سے اس حقیقت کو بالواسطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ بھارت خود کو ان سے برتر اور بڑا سمجھتا ہے اور ان کا ’’دھیان‘‘ رکھنے کے نام پر ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اپنا قومی اور مذہبی فریضہ سمجھتا ہے اور موصوف نے ’’ بگ برادر ‘‘ اور ’’ ایلڈر برادر ‘‘ کے حوالے سے جو مو شگافی کی ہے اس کی حیثیت بے سر و پا اورلا یعنی دلیل لفاظی کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھی ۔ اسی تناظر میں یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بھارت نے پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف ثقافتی جارحیت اور مداخلت کا لا متناہی سلسلہ عرصہ دراز سے شروع کر رکھا ہے اور سب کو معلوم ہے کہ دو عشرے قبل کانگرسی سربراہ سونیا گاندھی نے کہا تھا کہ پاکستان کے خلاف کسی قسم کے مسلح حملے کی ضرورت ہی نہیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر ثقافتی یلغار کی جائے اور ثقافتی یلغار کا ہتھیار اتنا خطرناک ہوتا ہے جس کے آگے بڑے سے بڑا دفاع بھی کمزور پڑ جاتاہے ۔ اور یقینا دہلی کے حکمرانوں نے گذشتہ 30 برس سے اپنے اس ایک نکاتی ایجنڈے پر بڑی تن دہی سے عمل کرنے کی ٹھان رکھی ہے اور اصل المیہ اور بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی اکثریت نے اس بھارتی ایجنڈے کو برضا و رغبت نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ اس پر عمل کرنا غالباً گویا اپنا قومی بلکہ مذہبی فریضہ تصور کر لیا ہے کیونکہ اکثر چینلز کے نیوز بلٹن کے آخری حصہ صرف بھارتی فلموں اور اداکاروں کی پبلسٹی کے لئے مخصوص کر دیا گیا یوں نادانستگی میں بھارتی کلچر کو پوری طرح فروغ دیا جا رہا ہے ۔ حالانکہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے ابتدائی دو عشروں میں بہت سی شاہکار فل میں اور گیت تخلیق کیے گئے جن کو اگر پاکستانی میڈیا ہندوستانی فلموں کی بجائے اپنے نیوز خبر ناموں میں شامل کرے تو اس کے کاروباری مفادات کو نقصان پہنچنے کے بجائے غالباً فائدہ ہو گا اور نئی نسل کو بھی یہ ٹھوس پیغام جائے گا کہ کلچر اور ثقافت کے محاذ پر بھی پاکستان تہی دامن نہیں بلکہ اس معاملے میں وہ بھارت سے بھی اگر آگے نہیں تو کم از کم پیچھے بھی نہیں ۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستانی میڈیا کے چند حلقے اس ضمن میں اپنا قومی فریضہ نبھاتے ہوئے قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں اور انھوں نے ثابت کیا ہے کہ کاروباری فوائد کے ساتھ ساتھ قومی مفادات کا بھی بیک وقت تحفظ احسن طریقے سے کیا جا سکتا ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ آنے والے دنوں میں اس ضمن میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ حکومتی ادارے اور سول سوساءٹی اپنا کردار مثبت ڈھنگ سے نبھائے گی ۔

About Admin

Google Analytics Alternative