Home » کالم » دروغ گوئی ۔۔۔بھارتی وطیرہ !

دروغ گوئی ۔۔۔بھارتی وطیرہ !

ہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بھارتی میڈیا، ونیا کا واحد میڈیا ہے جس کے منہ سے کوئی سچ بات کبھی سننے کو نہیں ملتی ۔ آج کل چونکہ پاکستان کے بعض شہروں اور بھارت میں فضائی آلودگی کا مسئلہ بہت زیادہ ہے، اس پر کئی بھارتی ٹی وی چینل اور اخبار من گھڑت اور مضحکہ خیز قسم کی رپورٹس پیش کر رہے ہیں کہ یہ سب کچھ بھی آئی ایس آئی کا کیا دھرا ہے اور اس نے ایسے پلانٹس خصوصی طور پر بنائے ہیں جن کا رخ بھارت کی طرف کر کے چلایا جاتا ہے اور نتیجے کے طور پر وہاں فضائی آلودگی بڑھتی ہے،حالانکہ معمولی سی عقل اور سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی با آسانی سمجھ سکتا ہے کہ جس ملک میں 65 فیصد آبادی کے پاس ٹوائلٹس جیسی بنیادی سہولت ہی نہ ہو اور وہ باہر کھلے آسمان تلے رفع حاجت کرتے ہوں ، وہاں فضائی آلودگی اور گندگی کا خاتمہ کیونکر ہو سکتا ہے، بھارت میں اتنہائی بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا جو استحصال جاری ہے، اس سے تو پناہ ہی مانگی جا سکتی ہے ۔ بھارتی میڈیا کی روز اول سے یہ روش رہی ہے کہ وہ حقائق کو ہمیشہ توڑ مروڑ کر پیش کرتا رہا ہے ۔ ان دنوں بھی بھارتی ذراءع ابلاغ میں وطن عزیز اور اس کے قومی سلامتی کے اداروں کی بابت ایک نہ ختم ہونےوالا طوفانِ بدتمیزی بپا ہے ۔ دی کوینٹ نامی اخبار نے دو روز قبل زہر افشانی کی کہ پاکستان کی جانب سے ابھی بھی دہشتگرد گروپوں کی حمایت جاری ہے ۔ دی وائر نامی اخبار نے فرمایا کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات بالکل ٹھیک ہیں اور وہاں مزاحمت کے کوئی آثار دیکھنے میں نہیں آ رہے ۔ علاوہ ازیں مختلف بھارتی اخباروں میں کرتار پور راہداری کے متعلق بھی انواع اقسام کے خدشات اور پراپیگنڈے کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس قدر بے سر و پا باتوں کی توقع بھارتی حکمرانوں اور میڈیا سے ہی کی جا سکتی ہے جو اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے کیلئے وطن عزیز کی بابت ہمہ وقت زہر افشانی کرتے رہتے ہیں ۔ دوسری طرف بھارت میں نوٹ بندی کے فیصلے کو تین سال بیت چکے ہیں ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ مودی نے آٹھ نومبر کی شب اچانک پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹوں پر پابندی عائد کر دی ۔ یاد رہے کہ اس وقت تقریباً 15لاکھ کروڑ روپے مالیت کے 500 اور 1000 روپے کے نوٹ بھارت میں گردش میں تھے جو تمام نوٹوں کا 85 فی صد بنتا تھا ۔ یوں مودی نے ایک حکم سے 85 فیصد روپے ردی میں بدل دیے ۔ موصوف کا کہنا ہے کہ اس قدم کا مقصد کالے دھن یا بلیک منی کو ختم کرنا ہے ۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قدم سے واقعی کالا دھن پر قابو پایا گیا;238; ۔ مبصرین نے اس کا جواب نفی میں دیا ہے ۔ ایک جائزے کے مطابق بھارت میں 15 لاکھ کروڑ روپے میں تقریباً تین لاکھ کروڑ روپے کالے دھن کے زمرے میں آتے ہیں ۔ ہندوستان میں گذشتہ نوٹ بندی کے بعد کروڑوں لوگ نئے نوٹ حاصل کرنے اور پرانے نوٹ جمع کرنے کےلئے بینکوں کے باہر قطاروں میں کھڑے ہو گئے تھے ۔ چھوٹے چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں میں افراتفری مچی ہوئی تھی ۔ اس پر مزید ستم ظریفی یہ کہ مودی نے اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے کی یومیہ حد دو ہزار مقرر کر رکھی تھی ، جس سے لوگوں کی مشکلات مزید بڑھتی جا رہی تھیں ۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مودی نے ابتدا میں خیالی پلاءو پکایا تھا کہ کہ چند ہی دنوں کے اندر پورے ملک میں نئے نوٹ لوگوں تک پہنچ جائیں گے اور ماحول نارمل ہوتے ہی موصوف یہ دعویٰ کر سکیں گے کہ ملک میں کالے دھن اور جعلی نوٹوں کا چلن ختم کر دیا گیا ہے ۔ مگر بڑے نوٹوں پر پابندی کے کئی ماہ تک بینکوں کے باہر لوگوں کی قطاریں کم ہوتی ہوئی نظر نہیں آئیں اور نوبت خانہ جنگی تک جا پہنچی ۔ مختلف تجزیوں اور رپورٹوں کے مطابق بھارت کے سیاست دانوں ، سرمایہ کاروں ، تاجروں اور بڑے بڑے لوگوں نے 50 سے 80 لاکھ کروڑ روپے غیر ملکی بینکوں میں جمع کر رکھے ہیں ۔ مودی نے اپنے انتخابی منشور میں یہ بڑ ہانکی تھی کہ غیر ممالک سے کالا دھن بھارت واپس لایا جائے گا اور ہر بھارتی شہری کے کھاتے میں پندرہ لاکھ روپے فی کس کے حساب سے جمع کیے جائیں گے ۔ ;667480; کے صدر ’’ امت شاہ ‘‘ماضی قریب یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ تو محض ایک چناوی جملہ تھا ۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت کا ٹیکس نظام انتہائی فرسودہ اور غیر موثر ہے ۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ بھارت میں گذشتہ مالی برس میں صرف پانچ کروڑ لوگوں نے ٹیکس ریٹرن بھرے تھے جو پوری آبادی کا محض چار فیصد بنتا ہے ۔ واضح رہے کہ ماضی میں دنیا کے کئی اور ملکوں میں بھی بعض حکمرانوں نے مروجہ کرنسی کی جگہ اچانک نئی کرنسی چلانے کا قدم اٹھایا تھا لیکن یہ سبھی تجربات ناکام ثابت ہوئے تھے ۔ مودی نے اپنی حکومت اور پارٹی کے اراکین سے کہا کہ وہ اپنے دفاع کی کوشش نہ کریں بلکہ خود کو اس اعتماد کے ساتھ پیش کریں کہ ’’نوٹ بندی‘‘ بہتر مستقبل کیلئے ہے ۔ بہتر مستقبل کی اُمید کس بل بوتے پر کی گئی;238; یہ اُنہوں نے نہیں بتایا لیکن اظہار اعتماد کا حربہ وہ خود بھی آز ماتے رہے ۔ اُن کا یہ جملہ کہ ’’غریب چین کی نیند سورہا ہے او امیر پریشان ہے، نیند کی گولیاں کھانے پر مجبور ہے‘‘ زمینی حقائق کو خاطر میں لائے بغیر خالی خولی اعتماد ظاہر کرنے کے مترادف ہے ۔ اس وقت بھارت میں کوئی غریب یا عام آدمی ایسا نہیں جو چین کی نیند سورہا ہو ۔ دکاندار پریشان گاہک پریشان، بینک ملازمین پریشان بینک صارفین پریشان، مریض پریشان اسپتال کا عملہ پریشان وغیر ہ گویا کسی کو راحت نہیں ہے ۔ ہر شخص مودی کے فیصلے کی مذمت ہی کررہا ہے ۔ اس ساری صورتحال کا خمیازہ جنابِ مودی کو بھگتنا پڑے گا ۔ اس بابت کسی کو ذرا سا بھی شبہ ہے تو اسے اس کی خوش فہمی یا خام خیالی ہی قرار دیا جاسکتا ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative