Home » کالم » دشمن اور دوست کا فرق معلوم ہونا چاہئے

دشمن اور دوست کا فرق معلوم ہونا چاہئے

فوراً جنگ کی صورت میں دُنیا کی نظریں پاک بھارت جنگ پر اور منافقت کا مظاہرہ کرنے والے اسے جنگ کو پاکستان کے حصے میں ڈال دیتے اور کشمیر کا معاملہ شاید ہمیشہ کےلئے ہی دب جاتا کہ پاکستان نے اس معاملے کو دنیا کے سامنے رکھنے کی بجائے خود حملہ کردیا پاکستان کو دنیا کے اہم ممالک اور یواین کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا ۔ اس جلد بازی میں ہم اپنے پراعتماد دوستوں کی حمایت بھی گنوادیتے ۔ کل تک دنیا میں کشمیر سے ناواقف ممالک بھی آج کشمیر کے حق میں ٹھہرے ہیں تو یہ پاکستان کی کامیابی ہے ۔ ایک رپورٹ کے حوالے سے بھی آپکو آگاہ کرتاچلوں پاکستان کو ایک رپورٹ بھی ملی تھی کہ پاکستان کو جنگ میں الجھا کر دنیا کی نظریں کشمیر سے ہٹوادی جائیں گی، سارا میڈیا اور انٹرنیشنل کمیونٹی کا سارا دھیان ایل او سی پر رہے گا او ر ہندوؤں کی بہت بڑی تعداد اسی عرصے میں کشمیر میں آباد کردی جائے گی جس کا انڈیا کو فائدہ یہ ہو گا کہ جنگ تھمنے تک کشمیر میں مسلمان اقلیت میں بدل دیئے جائیں گے اور پاکستان کشمیر سے ہاتھ دھو بیٹھے گا ۔ ایک بات یاد رکھیے گا کہ افغان جنگ کے وقت بھی میڈیا نے بڑا رُول ادا کیا تھا جنہیں مال و متاع ملا تھا انہوں نے فوراًسارا ملبہ افغانستان پر ڈال دیا تھا اور امریکہ نے بناء سوچے سمجھے افغانستان کا رُخ کیا اور آج اس کا حشر آپکے سامنے ہے، ویسے ہی پاکستان میں آپکو بہت سے لوگ ایسے ملیں گے جو کہیں گے بس ابھی ابھی جنگ کرو، ابھی ابھی گھس جاؤ اگر نہیں تو فوج بزدل ہے فوج بیکار ہے لیکن آپکو یہ نہیں بتائیں گے کہ دشمن کو چال سے ماردینا چیخنے چلانے سے کہیں بہتر ہے اور الحمدللہ پاکستان کو اللہ نے یہ صلاحیت دی ہے کہ پاکستان ہاتھ بھی نہیں لگاتا اور اتار بھی لیتا ہے ۔ وہ آپکو یہ نہیں بتائیں گے کہ پاک فوج ایک وقت میں دشمن کی سینکڑوں پراکسیز جن میں افغانستان سے داعش، ٹی ٹی پی، پی ٹی ایم، بی ایل اے، بی آراے، بی ایل ایف، افغانستان میں 50 ملکوں کی فوجوں اور پاکستان کے چپے چپے میں چھپے دہشت گردوں ، سہولت کاروں ، غداروں ، راء، این ڈی ایس، موساد، ایم آئی سیکس، سی آئی اے،اور ایسی کئی خفیہ ایجنسیوں سے بھی ساتھ ساتھ نبردآزما ہے ۔ جبکہ اس کے مقابل دشمن ممالک کو سوائے آئی ایس آئی کے دوسری کسی ملک کی خفیہ ایجنسی سے کوئی خطرہ نہیں ایسی صورتحال میں پاک فوج کو 90 لاکھ کشمیریوں کابھی سوچنا ہے کہ انکا جانی نقصان کم سے کم ہو اور دشمن کو خاموشی سے مارا جائے جبکہ 22کروڑ پاکستانیوں کا بھی سُوچنا ہے جنہیں دشمن مٹانے کے لیے پاک فوج کی کسی ایک غلطی کامنتطرہے لیکن آپکو یہ نہیں بتایاجائے گا بس کہا جائے گا فوج نے کشمیر بیچ دیا حکومت نے کشمیر بیچ دیا ۔ میں آپکو ان شاء اللہ سچے دل اور یقین سے کہہ رہا ہوں آپ انڈیا سے کہیں وہ بتائیں انکے ساتھ کشمیر میں کیا ہورہا ہے تو آپکو دشمن ہی بتائے گا کہ انکا کیا حشر ہورہا ہے ۔ افغانستان میں روس سے لیکر امریکہ تک ہم نے کسی کو ہاتھ نہیں لگایا اور انہیں الحمدللہ خاک میں ملا دیا مگر بھارت تو ازلی دشمن ہے اسے کیسے بخشا جاسکتا ہے ۔ کشمیر کےلیے ہماری بھارت سے 3 جنگیں ہوئی ہیں ، کشمیر کی ہی وجہ سے لاکھوں پاکستانی شہید ہوئے ہیں اگر کشمیر کے مؤقف سے پیچھے ہٹنا ہوتا تو اتنی قربانیاں دینے کی ضرورت ہی نہیں تھی آج جو محافظ دن رات جاگ رہے ہیں اور پاکستان اور کشمیر دونوں کو ہی بچانے کی تگ و دو میں ہیں وہ ہم سے زیادہ کشمیر کے ہمدر دہیں اور ان شاء اللہ وہ اپنا کام بہت اچھے طریقے سے کررہے ہیں جن کی تفصیلات شیئر نہیں کرسکتا لیکن ان شاءاللہ انہوں نے بھارتی شہ رگ کو پکڑا ہے جس کا رُونا چند دن پہلے انڈیا میڈیا رُو چکا ہے لیکن یہاں میں تفصیل سے گریز کرونگا ۔ پاک فوج اور حکومت وہ سب کچھ کررہے ہیں جو کرنا چاہیے اور ہرفورم پرکررہے ہیں مگر خاموشی سے چال چل کرجس کی سمجھ ہ میں کچھ عرصہ بعد دشمن کی چیخیں سُن کرآتی ہے ۔ پاکستان کے اقدامات سے بھارت کی معاشی کمر ٹوٹنے کے قریب ہے جیسے انکی ائیرانڈین چند ماہ پاکستانی فضائی حدود بند رہنے سے دیوالیہ ہوگئی ۔ انڈیا کی معیشت کا جنازہ ہی انڈیا کی موت ہے جس کے غرور میں دن رات بھارت معیشت معیشت کررہا ہے ۔ کبھی چند لمحے ذرا یہ بات سُوچ کر دیکھیں کہ ہم باقی ہر پالیسی کو چھوڑ کر جنگ کو ہی ترجیح دےرہےہیں جس کے بارے پاک فوج بھی کہہ چکی ہے کہ ہر حد تک جائیں گےاور حکومت بھی تو اس کے بعد ہ میں ان پر اعتماد کراظہار کرنا چاہیئے کیونکہ جو کچھ انہیں معلوم ہوتا ہے ہم اس سے ناواقف ہوتے ہیں ہماری سُوچ محض یہ ہوتی ہے کہ ہمارے پاس نمبرون فوج ہے تو ہم کشمیر میں گھس کر آزاد کرالیں گے اور بات ختم ۔ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے پاک فوج نے یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ دشمن نے اگر یہ پتا پھینکا ہے تو اس سے وہ کیا کیا مقاصد حاصل کرناچاہتا اور پھر اسی کے مطابق پالیسی ترتیب دی جاتی ہے ۔ فوراً جنگ کی بات تب بھی بالکل درست ٹھہرتی جب دُنیا میں پاکستان اور بھارت دُو ہی ملک ہوتے ۔ لیکن یہاں دُنیا آباد ہے پاکستان مارتا بھی ہے اور گھسیٹتا بھی لیکن امن کی پکار کے ساتھ اپنے اردگرد بسنے والے کروڑوں لوگوں کی حفاظت کو مدِنظر رکھتے ہوئے جن میں بنگلہ دیش، مالدیپ، نیپال، بھوٹان اور سری لنکا جیسے کئی ملک ہیں جو اس جنگ کی بھینٹ چڑھ سکتے ہیں لیکن اس بات کا خیال انڈیا کبھی نہیں کرتا کیونکہ کوئی مرے جیے انڈین حکومت کو کوئی غرض نہیں ۔ ابھی حالیہ دنوں میں سینکڑوں بھارتی فوجی جہنم واصل ہوچکے ہیں لیکن کسی نے نام تک نہیں لیا یہ انکی وقعت ہے ۔ انڈین حکومتیں اپنے ملک میں سینکڑوں لوگوں کو اس لیے مروادیتی ہے کہ پاکستان پر الزام لگا سکے تو آپکا کیا خیال ہے بھارت کے نزدیک کسی انسانی جان کی کوئی وقعت ہے;238;ہم دشمن کی ہر چال کو سمجھ کر اسی کے مطابق جواب دینا جانتے ہیں اور جواب دے رہے ہیں ۔ جنرل آصف غفور کی بات کہ دشمن کے خلاف کامیاب چال وہی ہوتی ہے کہ جو دشمن کو حیران کردے اور ہر چال کے بعد ایک نیا راستہ موجود ہو ۔ بھارت کے پاس جو جو راستے تھے وہ سب ختم کرچکا ہے مگر ہمارے پاس الحمدللہ سینکڑوں راستے ہیں ۔ ابھی خالصتان باقی ہے، ابھی آسام، ابھی حیدرآباد، ابھی مہاراشٹرا باقی ہے اور انڈیا کو ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک سرپرائز ملتا جائے گا بلکہ مل رہا ہے بس بھارت ڈھیٹ مریض کی طرح فی الحال درد دبا کے بیٹھا ہے کہ کہیں ڈاکٹر کڑوی دوائی نہ پلادے ۔ پاکستان کشمیر کے ساتھ ہے تھا اور ہمیشہ رہے گا ا ور ان شاءاللہ جب پاک فوج یہ بات کہہ چکی ہے کہ انڈیا آزادکشمیر کو بھول جائے اب پرانا قبضہ چُھڑانے کا وقت ہے تو یقین کریں واقعی میں اب پرانا قبضہ ہی چھڑانے کے وقت ہے ۔ ہم امریکہ کے اتحادی تھے ہم نے مارا مگر ہم نے کہا ہم اتحادی ہیں ، ہم انڈیا کو ماریں گے مگر ہم امن چاہتے ہیں ۔ پاک فوج کشمیر میں جہاں جیسے نکلے گی وہ آپکی اور دشمن کی سُوچ ہی ہوگی ۔ اعتماد رکھیں یقین رکھیں دشمن کی چیخیں آپکو سنائی دینے کا وقت قریب ہے ان شاءاللہ ۔ یہ جنگ نہ معیشت کی ہے نہ زمین کی یہ جنگ نیوورلڈآرڈر کی ہے یہ جنگ مذہب کی ہے ان شاء اللہ یہ جنگ پاکستان کی ہے یہ جنگ اسلام کی ہے یہ جنگ حق و باطل کی ہے اور فتح ہمیشہ حق کی رہی ہے ۔ اس وقت بہت سے لوگ اپنی دکانیں چمکائیں گے کچھ آپکو جذباتی کریں گے کچھ آپکو کہیں گے کہ بس صرف جنگ جنگ لیکن جہاں اپنے پرائے سب آپ کے دشمن ہوں وہاں چال چلنا کہیں بہتر ہوتا ہے ۔ جنہوں نے کشمیر کےلئے لڑنا ہے وہ لڑیں گے بھی مریں گے بھی ماریں گے بھی لیکن بس آپ کو ان پہ اعتماد ہوناچاہیے دشمن اور دوست کا فرق معلوم ہونا چاہئے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative