Home » کالم » دہشت گردی کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی

دہشت گردی کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی

پچھلے د نوں صوبائی دارالحکومت لاہور مےں معروف صوفی خانقاہ داتا دربار کے باہر اےلےٹ فورس کی گاڑی پر خود کش حملہ کے مناظر دےکھنے پر بے اختےار آنسو امڈ پڑے ۔ آنسو حساس ہوتے ہےں اس لئے ہی باعث احساس ہوتے ہےں لےکن افسوس بے حس دلوں مےں احساس کی کوئی چنگاری روشن نہ ہو ،ٹھنڈی رگوں مےں کوئی ہمدردی ،پچھتاوا پےدا نہ ہو ،آتش بے وجہ سرد نہ ہو ۔ اس خود کش حملے مےں پانچ پولےس اہلکار وں سمےت دس فراد شہےد ہو گئے جبکہ تےس افراد زخمی ہوئے ۔ ےہ شہداء ان کے گھر والوں کےلئے دوجہانوں سے بھی زےادہ قےمتی تھے لےکن گمراہ دہشت گردوں کے نزدےک ےہ صرف اےک تعداد ۔ معزز و محترم قارئےن سپرانتو زبان کے اےک دانشور نے انسانےت کی عظمت کی تعرےف و توصےف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر روز محشر خدا وند تمام انسانوں کو جنت مےں بھےجنے کےلئے اےک شرط عائد کر دے کہ اےک شخص کو مصلوب کر دو تو ہم جنت کو مسترد کر دےں گے ۔ فطرت ےزداں نے اےک انسان کے خون ناحق کو پوری انسانےت کا قتل قرار دےتے ہوئے رواداری، امن ، مساوات اور ےکجہتی کی پےروی کو اظہر من الشمس قرار دےا ہے کےونکہ امن و امان اور قانون و انصاف سے تہی داماں معاشروں مےں انسان حےوان بن کر انسانےت کی عظمت کو پاش پاش کرتے ہےں ، انسانےت کی کوکھ سے وحشت جنم لےتی ہے اور وحشی خونخوار درندوں کے روپ مےں بے گناہوں کا خون کرتے ہےں جس سے خدا کی خدائی بھی اشک بار ہو جاتی ہے ۔ ےہ دشمنان دےن و ملت امن کی فاختہ کو اپنی بندوق کی سنگےن سے لہو لہان کر کے قلبی تسکےن محسوس کرتے ہےں ۔ ےہ نےم خواندہ لوگ تنگ دل، تنگ نظر اور کوتاہ فکر ہےں ۔ ان پڑھ آدمی کے عقائد جو بھی ہوں ان مےں عالی ظرفی اور فراخ دلی ہوتی ہے ۔ ان کے دل مےں ےہ حناس نہےں سماےا ہوتا کہ مےں ہی حق پر ہوں اور باقی سب مشرک اور کافر ہےں ۔ ان کے دل مےں کسی کے عقےدے سے نفرت نہےں ہوتی ۔ ان کا دل محبت و اخوت کا گہوارہ ہوتا ہے ۔ نےم خواندہ لوگ ہی گمراہ ہےں جو اےسے بد بخت انسان پےدا کر رہے ہےں ۔ جذبات کا عروج جنون اختےار کر کے دےوانگی کی سرحدوں تک پہنچ جاتا ہے ۔ تشدد و وحشت ،جوش اور جنون درندگی ہے ۔ تنگ نظری ،تعصب ،نفرت کےنہ ،عناد روحانی افلاس ہے جو ظلم و جور پر مائل کرتا اور تشدد و نفرت کو اےمان کا درجہ دےتا ہے ۔ سووےت ےونےن کے خلاف امرےکہ اور ضےاء الحق کے نام نہاد جہاد کے ساتھ عرب سے آنے والی اسلام کی جس نئی تعبےر و تشرےح نے ہمارے ہاں رواج پاےا اور ہماری دےنی درسگاہوں کے ساتھ عام سکولوں ،کالجوں اور ےونےورسٹےوں تک کی تعلےم مےں سراءت کر گئی،بلآخر جس کے نتاءج ہم بھگت رہے ہےں ۔ جامد فکر کے ےہ دہشت پسند ہی ہےں جو نوعمر معصوم لڑکوں کو اپنے مسلک کے نام پر خودکش حملوں پر آمادہ کرتے ہےں ۔ ہمےں ان آستےن کے سانپوں پر ہاتھ ڈالنے کی ضرورت ہے جو وطن کے بے گناہ اور نہتے مسلمانوں کا خون بہا کر پاکستان دشمنوں کے اےجنڈے پر عمل پےرا ہےں ۔ ان کا مقصد ےہاں لسانی ، نسلی تعصبات کی آگ بھڑکانے کے ساتھ فرقہ وارانہ فسادات کی راہ ہموار کرنا ہے اور اس نصب العےن کے حصول پر وہ اپنی تمام تر منفی توانائےوں سے عمل پےرا ہےں ۔ وہ عوام کو مشتعل کر کے سڑکوں پر لانے ،اتحاد و ےگانگت کی فضاکو سبوتاژ کر کے ملک مےں انارکی پےدا کرنے کی ہمہ گےر سازش مےں مصروف ہےں ۔ ےہ مسلک اور فرقے کی تفرےق و تقسےم کو تقوےت دے کر اسے مزےد گہرا کرنے کی سازش کر رہے ہےں ۔ پاکستانی قوم نے طوےل جدو جہد اور عظےم قربانےوں کے بعد امن کےلئے لڑی جانے والی جنگ مےں کامےابی حاصل کی ہے ۔ دہشت گردی کے سخت عذاب مےں اب تک 70ہزار جانوں کا نذرانہ دےا جا چکا ہے ۔ قوم کے بھرپور اعتماد ،حماےت اور مدد کی بنےاد پر افواج پاکستان ،سےکورٹی فورسز ،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ تےن سال مےں امن دشمن عناصر کو سرزمےن پاکستان سے فرار ہونے پر مجبور کر دےا ۔ لاہور مےں ہونے والے خودکش حملے کو محض اےک واردات کے طور پر نہ لےا جائے اس سے پہلے کوءٹہ مےں ہونے والی دہشت گردی ،گوادر کے قرےب سےکورٹی فورسز کے جوانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور وزےرستان مےں افغانستان سے پے در پے دہشت گردوں کے حملوں کو سامنے رکھا جائے تو تصوےر کے تمام پہلو سامنے آ جائےں گے ۔ دراصل پاکستان کی داخلی سلامتی کے خلاف خطے مےں موجود بعض قوتےں پھر سے متحرک ہو رہی ہےں ۔ خےبر پختونخواہ ، بلوچستان اور اب پنجاب مےں دہشت گردی کے واقعات دراصل اسی گھناءونی سازش کی کڑےاں ہےں ۔ باخبر حلقے اس حقےقت سے آگاہ ہےں کہ افغانستان کی سرزمےن اےران اور افغانستان کے اندر شر انگےزی کے ذرےعے بھارتی حکمران خطے پر مرضی کا کھےل کھےلنے کی سوچ سے پےچھے نہےں ہٹ رہے ۔ گو کہ دہشت گردانہ کارروائےوں مےں اب اتنی شدت نہےں رہی ۔ 2017ء اور2018ء مےں بھی دہشت گردی کے اکا دکا واقعات پےش آتے رہے جس سے عوام مےں پرےشانی کی لہر پےدا ہوتی رہی ۔ گزشتہ اےک دو برس سے رمضان المبارک ،عےدےن ،عاشورہ محرم ،عےد مےلاد النبی اور دوسرے اہم موقعوں پر بہتر سےکورٹی کے سبب دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما نہ ہونے پر پوری قوم ا;203; کی شکر گزار اور خاصی مطمئن تھی کہ دہشت گردی کے عفرےت سے جان چھوٹ گئی لےکن دہشت گردی کے اس اس درد ناک واقعہ نے ثابت کردےا کہ ملک مےں دہشت گردوں کی سفاکی اور سنگدلی کا باب ابھی بند نہےں ہوا اور رےاست کی جانب سے مسلسل دہشت گردی کے آپرےشنز کے باوجود بے لگام تنظےمےں تا حال قومی سلامتی کےلئے خطرہ ہےں ۔ اس بار جو خود کش حملہ کےا گےا وہ داتا دربار کی ہائی الرٹ صورتحال کا پوری بارےک بےنی سے جائزہ لےنے کے بعد گےٹ نمبر2پر ہوا جہاں خواتےن کا دربار کے اندر جانے کا راستہ ہے ۔ 2010ء مےں بھی داتا دربار پر ہولناک بم دھماکے مےں متعدد افراد شہےد اور زخمی ہوئے تھے ۔ شدت پسند تنظےم حزب الاحرار نے داتا دربارمےں ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تنظےم کے ترجمان عبد العزےز ےوسفزئی نے اعلان کےا کہ اس آپرےشن شانزئی کا ہدف پولےس اہلکار ہی تھے ۔ تحقےقی رپورٹ مےں بتاےا گےا ہے کہ خود کش بمبار کو قرےبی علاقے ےا ہوٹل مےں خودکش جےکٹ پہنائی گئی تھی ۔ انٹےلی جنس ادارے نے ےہ انکشاف کےا ہے کہ دہشت گردوں کا داتا دربار کے گرد کسی ہوٹل ےا سرائے مےں ٹھکانہ تھا ۔ اس دہشت گرد دھماکے مےں تےن افراد ملوث تھے ۔ انہوں نے اسی ہوٹل ےا سرائے مےں رہتے ہوئے ٹارگٹ کی مانےٹرنگ کی اور سخت سےکورٹی کے باعث انہوں نے گےٹ نمبر 2پر پولےس والوں کی تعداد اور وقت کا تعےن کر کے خودکش حملہ کرواےا ۔ حملہ آور شےش محل کی طرف سے آےا تھا لہٰذا سےکورٹی ادارے اس کے ٹھکانے اور سہولت کاروں کا پتا چلانے کی کوشش کر رہے ہےں ۔ ےہ تفتےش کی جا رہی ہے کہ دہشت گرد بمبار کے سہولت کار علاقے کے کس ہوٹل ےا سرائے مےں مقےم تھے ۔ ےہ بھی اےک قابل افسوس حقےقت ہے کہ سب ہوٹل اور سرائے والے پولےس کو منتھلی دےتے ہےں اور سب اچھا کی رپورٹ حاصل کرتے ہےں ۔ ملک کے مختلف شہروں مےں اب اےک تسلسل کے ساتھ جو دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہےں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمےں اپنس لاءحہ عمل تبدےل کرنے کی ضرورت ہے اب وقت کا تقاضا ہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحہ کے بعد سےاسی و فوجی قےادت کے اتفاق رائے سے وضع کئے گئے نےشنل اےکشن پلان مےں طے کئے گئے اقدامات پر عملدرآمد کا از سر نو جائزہ لےا جائے ےہ طے ہے کہ شہری آبادےوں مےں اب بھی دہشت گردوں کے حماےتی اور سہولت کار موجود ہےں ان کا مکمل خاتمہ نہےں کےا جاسکاہے اس لئے منظم ہونے کی ضرورت ہے ۔ سانحہ ہونا کسی کی غلطی نہےں کےونکہ ےہ اےک اندھی جنگ ہے ۔ خود کش حملہ اےک اےسی ٹےکنالوجی ہے جس کا توڑ تا حال ناممکن نظر آتا ہے ۔ سر پر کفن باندھ کر نکلنے والا جان دے کر ہی اپنا ٹارگٹ پورا کرتا ہے جو جان دےنے پر بضد اور آمادہ ہو اس کا کےا کےا جا سکتا ہے ۔ دہشت گردی کی ےہ جنگ ابھی تک ختم نہےں ہوئی ۔ اسے ہم نے لڑنا ہے ۔ انشاء ا;203; اس کا جڑوں سے خاتمہ ہو گا اور فتح ہماری ہو گی ۔

About Admin

Google Analytics Alternative