Home » کالم » دہشت گردی کی کمر توڑی جائے

دہشت گردی کی کمر توڑی جائے

شمالی وزیرستان کے علاقے خاڑ کمر بارودی سرنگ میں پاک فوج کے تین افسروں سمیت چار جوان شہید ہو ئے ۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوان شمالی وزیرستان میں 10 سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 35 زخمی ہو چکے ہیں ۔ اسی مقام پر فورسز نے سرچ آپریشن کرکے چند سہولت کاروں کو گرفتار کیا تھا یہ وہی علاقہ ہے جہاں پی ٹی ایم کے محسن داوڑ اور علی وزیر کی سرگردگی میں چوکی پرحملہ کیا گیا تھا ۔ بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں بھی عید کے موقع پر سکیورٹی پر تعینات ایف سی اہلکاروں پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید ہو گئے ۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شر پسند عناصر قبائلی علاقوں کے امن کی بحالی کے دشمن ہیں ۔ قوم ان ناپاک سازشوں کیخلاف متحد ہے ۔ پاک فوج کی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قربانیاں قابل ستائش ہیں ۔ فوجی جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور پوری قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے ۔ دیگر سیاسی رہنماؤں نے خاڑ کمر دھماکہ کی مذمت کی ہے ۔

دشمن پاکستان کا امن تباہ کرنے کے درپے ہیں ۔ دہشت گرد اپنے مذموم حملوں سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے ۔ شہدا کی عظیم قربانیاں سنہری حروف میں لکھی جائیں گی ۔ پوری قوم شہدا کی قرض دار ہے ۔ ہم اندرونی و بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ واقعہ کے ذمہ دار محسن داوڑ اور علی وزیر جوپاکستان دشمنوں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں ۔ ان کے چہرے قوم کے سامنے بے نقاب ہو گئے ہیں ۔ وہ آپریشن ہو جاتا جو محسن داوڑ اور علی وزیر نے روکا توآج کا سانحہ نہ ہوتا ۔

خار قمر میں ہی پی ٹی ایم کے کارکنوں کی ہلاکت کا واقعہ چند روز قبل اس وقت پیش آیا تھا جب اس تنظیم کے اراکین اور خاڑکمر چیک پوسٹ پر تعینات فوجی اہلکاروں میں تصادم ہوا تھا اور اس واقعے میں پانچ فوجی اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی بھی ہوئے تھے ۔ شمالی وزیرستان کو کچھ ہی ماہ قبل عام عوام کے لیے کھولا گیا تھا تاہم خار قمر واقعے کے بعد وہاں کرفیو لگا دیا گیا تھا ۔ افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان کے نیٹ ورک نے شمالی وزیرستان کے علاقے خڑکمر میں پاک فوج پر کیے گئے بارودی سرنگ کے حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے ۔

ابھی کچھ ہی سال قبل شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا گڑھ تھا ۔ وہاں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے اور اسلحہ کے گودام بھی تھے ۔ یہیں سے دہشت گرد اور اسلحہ پورے ملک میں دہشت گردی کےلئے استعمال کیا جاتا تھا ۔ دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ بھی یہیں تھے جو افغان سرحد سے متصل ہونے کی وجہ سے انتہائی محفوظ گردانے جاتے تھے ۔ کیونکہ یہ علاقہ پاکستانیوں کےلئے ممنوعہ قرار دیا جا چکا تھا ۔ لیکن پھر ہماری بہادر فوج نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے نہ صرف دہشت گردوں کو چن چن کر مارا بلکہ ان کے اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر کو بھی تباہ کر دیا ۔ افغانستان سے آمدورفت روکنے کےلئے سرحد پر باڑ لگائی گئی جس کی وجہ سے یہ علاقہ بہت محفوظ ہو چکا ہے مگر اب بھی کوئی اکا دکا دہشت گرد اپنی دہشت گردی دکھا جاتے ہیں ۔

یہاں بیرونی مداخلت بند ہونے کے بعد را اور این ڈی سی نے مقامی لوگوں کو غلط ترغیبات دینا شروع کر دیں اور انہیں اپنے ساتھ ملالیا ۔ ایک جماعت پی ٹی ایم کی بنیاد رکھی گئی جن کے مقاصد تو اچھے تھے مگر ان کا رویہ اور طریقہ بالکل غلط ہے ۔ پی ٹی ایم کے جلسوں میں پاک فوج کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے اور گزشتہ ماہ سرحدی چوکی پر حملہ بھی کیا گیا ۔ کیونکہ فوج نے یہاں سے دہشت گردوں کے کچھ سہولت کاروں کو گرفتار کیا تھا ۔ ان کو چھڑانے کےلئے سرحدی چوکی پر حملہ کیا گیا ۔ محسن داوڑ اور علی وزیر جیسے افراد بیرونی سرمایہ کے سہارے اسمبلی ممبر بنے تاکہ ان کی ذات شک وشبہ سے نکل جائے ۔ انہوں نے باقاعدہ طورپر احتجاج کو بڑھاوا دیا اور چوکی پر حملہ کےلئے ورغلایا ۔

یہ حقیقت تو واضح ہو چکی ہے کہ یہ غدار ہمارے دشمنوں سے ملے ہوئے ہیں ۔ ان سے بھاری فنڈز لیتے ہیں اور ان کی زبان بولتے ہیں ۔ انہی کے کہنے پر پاک فوج اور دیگر اداروں کو دھمکیاں دیتے ہیں ۔ دہشت گردی کےلئے اپنے آدمیوں کو استعمال کرتے ہیں ۔ علاقے میں دہشت پھیلاتے ہیں ۔ پی ٹی ایم والے اگر محب وطن ہیں تو ان کا بلوچ علیحدگی پسندوں سے کیا تعلق ہے ۔ ٹی ٹی پی آپ کے حق میں کیوں بیان دیتی ہے ، اس کے خلاف جنگ کرتے ہوئے ہمارے فوجی اور شہری شہید ہوئے ہیں ۔ پی ٹی ایم والے یہ بتائیں کہ ان کے پاس کتنا پیسہ ہے اور کہاں سے آیا ہے;238;

یہ سادہ لوح عوام کو ورغلاتے ہیں اور دہشت گردوں کےلئے سہولت کار ی کا کام کرتے ہیں ۔ پھر انہیں اتنی چھوٹ کیوں دی جا رہی ہے ۔ ان کا فوری طورپر قلع قمع ضروری ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کو فوری طورپر کیفر و کردار تک پہنچائیں ۔ بیرونی دشمنوں کو شکست دینے کےلئے ان کے اندرونی ایجنٹوں کو کیفر کردار تک پہنچانا اولین ترجیح ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative