Home » کالم » پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر۔۔۔نیاپاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی قائم
adaria

پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر۔۔۔نیاپاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی قائم

adaria

چھت اورروزگارہماراہمیشہ سے سب سے بڑا مسئلہ رہاہے ،نوجوان تعلیم تو حاصل کرلیتے ہیں لیکن روزگار کے لئے دربدردھکے کھاتے رہے ہیں اوراگر روزگارمل بھی جائے توساری عمراپنی سرکے اوپرایک چھت قائم کرنے کے لئے اپنی زندگی تیاگ دیتے ہیں۔پاکستان تحریک انصا ف کی حکومت نے جہاں 100دن کے اندر دیگراعلانات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کاوعدہ کیاتھا وہاں پربغیر چھت کے شہریوں کے سرپرچھت دینے کابھی وعدہ کیاتھا ،سو اسی وعدے کونبھاتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ روز پچاس لاکھ گھروں کے منصوبے کاافتتاح کرتے ہوئے نیاپاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے نام سے ادارہ قائم کردیا ہے، اس کے سات اضلاع میں پائلٹ پروجیکٹ کی ابتداء ہوگی، 60دن میں رجسٹریشن بھی مکمل کرلی جائے گی۔ وزیراعظم نے اس منصوبے کو بذات خود مانیٹرکرنے کی ذمہ داری لی ہے تاکہ صحیح طرح یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔ منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ،حوصلہ رکھیں قوموں کی زندگی میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے ان مشکل حالات سے قوم وملک کو انشاء اللہ نکال لوں گا۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے کوئی قیامت نہیں آگئی، جہاں تک پچاس لاکھ مکانوں کی تعمیر کامعاملہ ہے تو اگر دیکھاجائے تو وزیراعظم کے ماضی کاجائزہ لیتے ہوئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ ان کاعزم ہمیشہ مصمم رہا اور ہر اس ناممکن چیز کو ممکن کرکے دکھایا جس کے بارے میں لوگ انہیں مشورہ دیتے رہے کہ یہ کام نہ کریں نہ ہوسکے گا۔زندگی میں جب وہ کرکٹربننے نکلے تو اس میں رکاوٹیں آئیں ،جہد مسلسل رکھی ،پختہ عزم کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو صرف بہترین کرکٹر ہی نہیں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بنے اوراس کے بعدپاکستان کو ورلڈچمپئن بنایا، شوکت خانم کاپراجیکٹ شروع کیاتو اس میں بھی دوستوں نے کوئی مثبت مشورہ نہ دیالیکن پھر کچھ کرنے کی امید لیکر عمران خان آگے بڑھے اور ایک دن ایسا آیا کہ پاکستان شوکت خانم ہسپتال بھی بن گیا۔ یہ سفر یہاں نہیں رکتا سیاست کے میدان میں آئے تو دہائیوں کاسفرطے کرتے ہوئے اس ملک میں دوپارٹی سسٹم توڑ کروزیراعظم بنے، جیسے ہی وہ وزیراعظم بنے تو انہیں مسائل درپیش ہوناشروع ہوگئے لیکن ابھی تک ان کایقین محکم مضبوط ہے اور وہ پُرامید ہیں کہ انشاء اللہ کامیاب ضرور ہوجائیں گے ۔یہ پچاس لاکھ مکان عوام کو دینے سے صرف چھت ہی نہیں ملے گی اس میں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے، شرح نمو میں اضافہ ہوگا غرض کہ ایک مکان کی تعمیر میں بہت سارے شعبے شامل ہوتے ہیں ان سب کے کاروبار کو فروغ ملے گا ،غریب کو چھت میسر ہوگی او رحکومت آسان اقساط پریہ مکان دے گی۔وفاقی دارالحکومت کا جوہمیشہ سے دیرینہ مسئلہ رہا ہے کہ کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق ملیں تووزیراعظم نے یہ بھی کہہ دیا کہ انہیں مالکانہ حقوق دیئے جائیں گے۔وزیراعظم نے کہاکہ فنانسنگ سے متعلقہ رکاوٹیں دور کرنے کے لئے 60روز میں نیشنل فنانشل ریگولیٹری ادارہ بھی قائم کیاجارہاہے۔ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان میں گھر بنانے کی سکیم اس لئے ناکام ہوتی آئی ہے کہ پہلے گھربنائے جاتے ہیں اور پھرلوگوں کو ٹھہرایاجاتا ہے لیکن ہم پہلے ساٹھ روز میں رجسٹریشن کے عمل سے گزریں گے اور طلب کے مطابق گھرتعمیر کئے جائیں گے۔یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ پہلے اندھادھندپراجیکٹ بناکر پھران کو فلوٹ کیاجاتاتھا لیکن یہ اقدام احسن ہے کہ جس حساب سے ڈیمانڈ آئے گی اس حساب سے حکومت مکان بناکردیناشروع ہوجائے گی۔اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنارکردیاگیاتو یقینی طورپرحکومت کانام سنہری حروف میں لکھاجائے گا۔

پاک فوج میں تقرریاں وتبادلے
پاک فوج میں سا ت اعلیٰ ترین عہدوں پر تقرریاں اورتبادلے کئے گئے ہیں جس میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کر دیا گیا ہے۔ فرنٹیئر فورس رجمنٹ کے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) رہ چکے ہیں اور اس سے پہلے انہوں نے سیاچن میں ڈویژن کمانڈ کی اور وہ آپریشنل ایریا میں بریگیڈ کی کمان بھی سنبھال چکے ہیں۔عاصم منیر پاکستان ملٹری اکیڈمی یعنی پی ایم اے کے فارغ التحصیل نہیں بلکہ انہوں نے آفیسرز ٹریننگ اسکول سے فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل ندیم ذکی کور کمانڈر منگلا ، جبکہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالعزیز ملٹری سیکرٹری جی ایچ کیو تعینات کیے گئے ہیں ۔لیفٹیننٹ جنرل اظہر صالح عباسی چیف آف لاجسٹکس، لیفٹیننٹ جنرل محمد عدنان وائس چیف آف جنرل اسٹاف اور لیفٹیننٹ جنرل شاہین مظہر کور کمانڈر پشاور تعینات کیا گیا ہے۔پا ک فوج کی تقرریوں پرروزنیوز کے پروگرام سچی بات میں چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور سینئر اینکرپرسن ایس کے نیازی نے کہا ہے کہ پاک فوج میں مکمل نظام ہے وہاں میرٹ پر تقرریاں ہوتی ہیں،لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیرپہلے ڈی جی ایم آئی رہ چکے ہیں انکی بطور ڈی جی آئی ایس آئی تعیناتی سے بہترین رزلٹ آئیں گے۔ڈی جی آئی ایس آئی عاصم منیرکی تعیناتی کو انتہائی احسن اقدام دیاجارہاہے ۔ پاک فوج نے ہمیشہ وطن عزیز کے لئے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں اورآئی ایس آئی ہماری فوج کے ماتھے کاجھومرہے ہم سب اس پرفخر کرتے ہیں پوری دنیا اس کی کارکردگی کی معترف ہے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیرکی تعیناتی کے بعد اورمزیدبہتری آئے گی۔
غیرملکی سرمایہ کاروں کے لئے ون ونڈوآپریشن ہوناچاہیے
پاکستان میں ا س وقت غیرملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ،وقت کابھی یہ تقاضا ہے کہ معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے غیرملکی سرمایہ کار ہمارے وطن میں آئیں اور مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں اس سلسلے میں انڈونیشیا کے شہر بالی میں وزیر خزانہ اسد عمر نے انڈونیشیا کے ہم منصب سری مالیانی اداوتی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے مابین تجارت کوفروغ دینے پر تبادلہ خیال کیاگیا۔اس موقع پروزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے تجارتی تعلقات کو مزید بڑھنا چاہیے۔ انڈونیشیا پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسیع کرنا چاہتا ہے اور انڈونیشیا پاکستان کو مکمل سپورٹ کرنے کیلئے تیار ہے۔ ملاقات میں دونوں ملکوں نے ترجیحی تجارت کے معاہدے کا ازسر نو جائزہ لینے پر بھی اتفاق کیا جبکہ وزیر خزانہ اسد عمر نے عالمی بینک کے صدر جم یانگ کم سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور عالمی بنک کے مابین اشراک پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ اور عالمی بینک کے صدر کی ملاقات میں حکومتی وژن اور ترجیحات پر بات چیت ہوئی۔امیدواثق کی جاتی ہے کہ حکومتی کاوشوں کی وجہ سے غیرملکی سرمایہ کاری ہمارے ملک میں آئے گی اس کے لئے ضروری ہے کہ امن وامان قائم رہے اور ہمارے ملک سے بیرو ن دنیا کے لئے ہرجانیوالاپیغام مثبت ہوناچاہیے اور جو بھی غیرملکی سرمایہ کار آئیں حکومت کافرض بنتا ہے کہ ان کے لئے سہولیات فراہم کرے اور ممکن ہوسکے توون ونڈو آپریشن ہوناچاہیے تاکہ وہ دربدرخوارنہ ہوتے پھریں۔

About Admin

Google Analytics Alternative