Home » کالم » دیانت و امانت کی قحط سالی کیوں۔۔۔؟

دیانت و امانت کی قحط سالی کیوں۔۔۔؟

اخلاقی اقدار کی قحط سالی اور منفی جذبات کی فراوانی میں دیانت و امانت ،انصاف و قانون ،ایثار و اخوت محض الفاظ ہیں جنہیں سماج کی طاقتور اشرافیہ کی منافقت نے اپنے ضمیر کے جرائم اور اپنی نیت کے فتور کو چھپانے کیلئے اپنے ہی تصرفمیں رکھا ہے ۔آج ہمیں سماج میں بہت کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔کردار کے زوال کا سلسلہ جاری ہے ،مذہبی اور اخلاقی اقدار اپنی اہمیت کھو چکی ہیں ۔آج سماج کا عام فرد جس دوراہے پر کھڑا ہے وہاں اس کی عزت و آبرو کے تحفظ کے مکینوں نے ان ایوانوں کی روح کو اپنی روح میں سمونے سے احتراز ہی کیا بلکہ ان ایوانوں کی آڑ میں وہ قانون شکنی کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتا ۔تہذیب و شائستگی ،دیانت وامانت ،اخلاقی و مذہبی اقدار شائد دکھاوے کی چیزیں رہ گئی ہیں ۔مذہب صرف زبان تک اظہار کا نام رہ گیا ہے ۔اخلاقیات اور مذہبی بیگانگی کے سبب سماج کی حالت زار ناقابل بیان نہج تک پہنچ چکی ہے ۔بد دیانتی کے سمندر میں کبھی بھی کنول کے پھول نہیں لہلہاتے ۔بد مزاجی کے صحراؤں میں گلاب کے پھول نہیں کھلا کرتے ۔نمائندگان ،اشرافیہ اور اعلیٰ عہدوں پر متمکن بدنیتی ،حفظ نفس اور مطلب پرستی پر اتر آئیں تو سماج میں جرائم پیشہ افراد سے کسی خیر کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ؟ جب بادشاہ کے ہرکارے پرائے باغ سے پھل توڑنے کو روا رکھیں گے تو پھر رعایا اس باغ کو اجاڑنے سے گریز کرے گی؟یہ عوام کا اثاثہ ،عوام کیلئے رول ماڈل جن کے فرائض وطن عزیز میں انصاف کا بول بالا کرنا ،عدل کو یقینی بنانا اور دیانت داری کی مثال بننا ہے ان سے ایسے رویوں کا اظہار بہت افسوس ناک ہے ۔شائد تلقین شاہ سچ ہی کہتے تھے کہ خدا کی بستی کو پڑھے لکھوں نے برباد کیا ،ان پڑھوں نے نہیں۔عہدہ، اختیار ،قیادت و استحقاق اجارہ داری نہیں یہ تو ایک مقدس امانت ہوتی ہے جو کہ قوم ذمہ داران کو سونپتی ہے ۔معزز قارئین واقعہ کوئی نیا نہیں ،واقعات کا ایک تسلسل ہے ۔ہر چند ماہ بعد ارباب اختیار سے سرزد اخلاقی اقدار کی تنزلی اور قانون شکنی کا کوئی نہ کوئی واقعہ میڈیا کی زینت بنتا ہے ۔مار کٹائی ،ہنگامہ اور پھر معذرت آئے روز کا معمول بن چکا ہے ۔مجرمانہ ذہنیتوں کی پہچان بھی آسان نہیں رہی۔ہمارے ہاں مجرمانہ ذہنیت کے ایسے صاحب عزت بھی ہیں جن کا لباس عالمانہ باطن جاہلانہ ،حال حلیہ رنگ ڈھنگ شریفانہ لیکن اندرون عیارانہ ،ظاہر کچھ بناوٹ کچھ اور حقیقت کچھ۔وقت ،اعتبار اور عزت ایسے پرندے ہیں جو اڑ جائیں تو واپس نہیں آتے ۔جیسا کی معزز قارئین جانتے ہیں کہ انہی دنوں وطن عزیز کے بیسویں گریڈ کے ایک افسر پر کویتی وفد کے مندوب کا بٹوہ چوری کرنے کا الزام لگا اور اس کے اس عمل کو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا ۔یہ سمجھنے اور جاننے کی ضرورت ہے کہ سول سروس کا تصور کیا ہے اور اس کی قابلیت ،اہلیت اور استعداد کیا ہونی چاہیے ؟ بیورو کریسی سے مراد اعلیٰ پیشہ وارانہ اہلیت کے حامل وہ ذمہ داران افسران ہیں جن میں پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کرنے کی صلاحیت اور استعداد موجود ہو اور وہ دیانت داری اور امانت داری کا پیکر ہوں ۔وطن عزیز میں نئی وجود میں آنے والی حکومت نے اقتصادی حالات کی بہتری کیلئے دوست ممالک سے رابطے شروع کئے تو اسی سلسلہ میں کویت کا اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان آیا ۔اقتصادی ڈویژن حکومت پاکستان کے اعلیٰ ترین افسران کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوا تو کویتی وفد میں شامل ایک شخص نے اپنا پرس تلاش کرنا شروع کیا ۔کویتی مہمان کا پرس اتنی ہائی پروفائل میٹنگ میں جہاں اندر آنے والوں کیلئے سیکورٹی چیک لگا ہو کون لے جا سکتا ہے ۔چھوٹے ملازمین کی تلاشی لی گئی لیکن پرس نہ ملا ۔آخر سی سی ٹی وی سے فوٹیج دیکھنے پر نظر آیا کہ کوئی چھوٹے گریڈ کا ملازم نہیں بلکہ گریڈ بیس کا ایک اعلیٰ افسر جس کی ریٹائر منٹ میں فقط دو سال باقی رہ گئے تھے وہ پرس اٹھا کر جیب میں ڈال رہا تھا ۔مذکورہ افسر اس اہم میٹنگ میں شریک تھے جنہیں پرس کی برآمدگی کے بعد معطل کر دیا گیا ۔اب اس معاملہ کا کیا بنا ہے کچھ خبر نہیں۔اسے چھوٹے ملازمین کی خوش بختی کہیے کہ پرس مل گیا وگرنہ انہیں اس ناکردہ جرم کی پاداش میں ہماری پولیس سے کتنی اذیت سہنی پڑتی۔شائداب مذکورہ افسر کو ذہنی بیمارثابت کر دیا جائے اور وہ دوبارہ اپنے فرائض منصبی سنبھالنے پر قادر ہوں۔کلپٹو میناایک نفسیاتی بیماری میں مریض دوسروں کی چیزیں چوری کر لیتا ہے ۔ایسا فرد بظاہر صحت مند دکھائی دیتا ہے۔تمام لوگوں کی طرح سوشلائز بھی کرتا ہے لیکن جہاں اس پر کلیپٹومینا کا دورہ پڑ جائے وہ اپنے ساتھیوں ،دوستوں یہاں تک کہ مہمانوں کی چیزیں تک چرا کر اپنی تسکین کرتا ہے۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ اگر مذکورہ افسر کلیپٹومیٹک ہی تھے تو پھر ان پر یہ دورہ اکثر و پیشتر پڑتا ہوگا اور ان کے ساتھی ان کی اس بیماری سے ضرور آگاہی رکھتے ہوں گے لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ کیس کلیپٹو مینا بیماری کا نہیں بلکہ ہوس زر،لالچ کا ہے ۔وطن عزیز کے باسی جانتے ہیں کہ ماضی میں پنجاب اسمبلی کی ممبر شمائلہ رانا کریڈٹ کارڈ کی چوری میں مبینہ طور پر ملوث پائی گئی ۔اپنی ہی ایک دوست کا کریڈٹ کارڈ چوری کر کے اسی ہزار روپے کی خریداری کر ڈالی ۔بھلا ہو انگریز کی ایجاد ہائی ٹیک( سی سی ٹی وی) کا کہ جس نے چور کو رنگے ہاتھوں پکڑوا دیا اور خاتون کیلئے انکار کی کوئی گنجائش نہ رہنے دی ۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ترکی کے صدر طیب اردگان کی اہلیہ نے سیلاب زدگان کی امداد کیلئے ایک ہار بطور عطیہ دیا تھا اور مبینہ طور پر وہ قیمتی ہار اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیہ نے سیلاب فنڈ میں دینے کی بجائے خود رکھ لیا ،میڈیا میں اس کا چرچا بھی رہا ۔متعلقہ حکام نے ہار کو آکشن کر کے خطیر رقم سیلاب زدگان کی امداد پر خرچ کرنے کا ارادہ کیا تو ہار ندارد ۔ایف آئی اے کی تحقیقات پر کھرا چلتے چلتے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے گھر تک جا پہنچا ۔گیلانی صاحب نے اعتراف کیا کہ ہار ان کی ملکیت ہے اور اس کی توجیہہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ طیب اردگان کے خاندان کے ساتھ ہمارے قریبی مراسم ہیں ۔اس وقت بھی پاکستان کی خوب بدنامی ہوئی اور ترکی جیسے برادر ملک سے خفت و شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ۔وطن عزیز میں اخلاقی زوال کی مثالوں کے آئینہ میں مجھے مغرب کا وہ فقیر یاد آ رہا ہے ۔ایک دفعہ ملکہ برطانیہ کے پاس ایک مانگنے والے فقیر نے بھیک مانگنے کیلئے ہاتھ پھیلایا ملکہ نے اپنے بٹوے سے کچھ سکے نکال کر فقیر کو دیے ،فقیر چلا گیا بعد میں جب ملکہ نے بٹوے میں اپنی ہیرے کی انگوٹھی نکالنے کیلئے اسے کھولا تو اسے معلوم ہوا کہ ریزگاری کے ساتھ وہ ہیرے کی انگوٹھی بھی فقیر کو دے دی گئی ہے ۔قیمتی انگوٹھی کھونے کا صدمہ بہر حال ملکہ کو برداشت کرنا پڑا جو کہ ہزاروں ڈالرز کی مالیت پر مشتمل تھی ۔گھر جا کر جب فقیر نے اپنی جیب سے ریز گاری نکالی تو اسے معلوم ہوا کہ ملکہ کی ہیرے کی انگوٹھی بھی اس ریز گاری میں شامل تھی ۔وہ ملکہ کے پاس گیا اور اسے انگوٹھی واپس کر دی ۔ملکہ اس کی دیانت سے بہت متاثر ہوئی اور اسے کہا کہ تمہیں معلوم تھا کہ یہ ہیرے کی انگوٹھی اتنی قیمتی تھی کہ تمہاری زندگی کو امارت میں تبدیل کر سکتی تھی ۔فقیر نے کہا کہ ملکہ عالیہ مجھے معلوم تھا لیکن میں ایک فقیر ضرور ہوں لیکن بددیانت نہیں ہوں ۔اس کی دیانت سے متاثر ہو کر اسے ہیرے کی انگوٹھی سے بھی زیادہ انعام و اکرام سے نوازا گیا ۔لیکن ہمارے ہاں تو اقتدار و اختیار پر وہی آتا اور جلوہ گر ہوتا ہے جس کا مقصد لوٹ کھسوٹ ہو۔ معزز قارئین اگر ہم حقیقت میں تبدیلی لانے کے خواہش مند ہیں تو پھر سابقہ ادوار کے تجربات کو مد نظر رکھ کر منفی روایات پر عمل کرنے سے گریز کرنا ہو گا وگرنہ مکافات سے دنیا کی کوئی طاقت ہمیں نہیں بچا سکتی۔اصولی سیاست تو یہی ہے کہ جرم کرنے پر معافی کسی کیلئے نہ ہو ۔تبدیلی،قربانی اور قانون پر عمل داری کا آغاز ہمیشہ گھر سے ،خود سے اور پارٹی سے کیا جاتا ہے ۔کسی قوم کے ارتقاء کا انحصار اس کی عمدہ اخلاقی حالت پر ہوتا ہے ۔اگر اکابرین وذمہ داران قوم کی اخلاقی حالت کا معیار گر جاتا ہے تو ریاست کا تنزل یقینی بن جاتا ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative