Home » کالم » ذرائعِ ابلاغ کی درست سمتوں کا تعین

ذرائعِ ابلاغ کی درست سمتوں کا تعین

بحیثیتِ قوم آج ہم جن تشویشناک اندورنی و بیرونی خطرات سے دوچار ہیں خطرات کے یہ مہیب سائے گزشتہ 70 برسوں سے ہم پراب تک ٹلے نہیں’ختم ہونے کا نام نہیں لیتے بلکہ نئے نئے لبادوں میں نئی شناختوں اور بھیانک خوف و دہشت کی نئی علامتوں سے ہمارے ملک وقوم کی جڑوں کو کھوکھلی کرنے’قوم کی اجتماعی طاقت میں دراڑیں ڈالنے‘ہماری فکری ونظری اورہمارے ملی اتحاد ویقین کومتزلزل کرنے کے ساتھ ہمارے پختہ ایمانی جذبوں میں باہمی نفرتوں کے بیج بو نے کا سبب بن رہے ہیں یہ سب ہماری قومی یکجہتی کیلئے کتنا نقصان دہ ہے اِس احساس کا اندازہ یقیناًدرد مند قومی طبقات میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید ابھر کرنمایاں ہورہا ہے’ہمارے ازلی دشمن خوش اور ہماری آئے روز کی اپنے وطن کے بارے میں گہری فکر مندی بڑھتی ہی چلی جاری ہے’ وہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا کہ’ایک کانٹا بھلے چھوٹا سا ہو، گامزن مسافر کا سفر روک دیتا ہے’ایک چھوٹاسا خلیہ جونظر بھی نہ آتا ہو،کسی انسانی صحت مند جسم ہی نہیں بلکہ پورے خاندان’پورے سماج’پورے معاشرے کووہ چھوٹا سا ناسورنما خلیہ دیمک کی مانند کھاتا رہتا ہے’یہاں تک کہ پوراسماج پورا معاشرہ ڈہہہ جاتا ہے’تباہ ہوجاتا ہے یہی نہیں بلکہ ماضی کی کوئی ایسی خوفناک یاد جس یاد میں کوئی قومی خوف چھپا ہوا ہو’دہشت ووحشت کے خوفناک المیے جس ماضی کا حصہ ہوں وہ ہرآنے والی نئی صبحوں میں اْن ہی خوف اور المیوں اور تکلیف دہ سانحات کا ایک نیا خوف پیدا کردیتی ہیں ایک سیکنڈ کا وفقہ دشمن کے تباہ کن حملوں کا دروازہ کھول دیتا ہے’ بحیثیت پاکستانی ہم اِن خدشات نما احساسات کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اْٹھائے پھررہے ہیں؟’ایک بڑی ثقہ قدیمی کہاوت ہے”چیزوں کی تفصیلات میں جانے سے مصیبت کے درواہوجاتے ہیں المناک درناک’مصائب اور تکلیف دہ آہ وبْکا کی مسلسل تکراروں کے یہ درباربار کون کھٹکٹھاتا ہے’ کون ہمارے معاشرے پرخوف ودہشت کی پرا گندہ فضاء محیط کردیتا ہے ہم اورآپ اْنہیں بخوبی جانتے ہیں وہ ہم ہی میں سے ہیں لیکن جانے انجانے میں یہاں راقم کی رائے ہے کہ خاص کر وہ حلقے’انجانے’میں اپنی ڈیوٹی سمجھ کر یہ سب کچھ کرتے ہیں اِس پرفخربھی کرتے ہیں’ کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ وہ کیا کررہے ہیں؟یہاں جسے دیکھئے ہربات کی تہہ تک ہر واقعہ کی تہہ تک پہنچنے کی ہرشخص سرتوڑجستجواورکھوج میں لگا ہوا ہے اْسے اِس سے کوئی غرض وغایت نہیں ہے وہ جو کچھ جاننا یاسمجھنا چاہتا ہے اْسے اِس کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے چونکہ یہ اْس کا کام نہیں ہے’امام حضرت علی فرماتے ہیں’بہت کچھ جاننے سے کچھ نہ جاننا بہترہے’امرِواقعہ یہی ہے کہ گزشتہ 15۔10 برسوں میں دہشت گردی کے بیہمانہ خونریزدرندہ صفت سفاکیت سے لبریزسنگین واقعات نے پاکستانی معاشرے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے دہشت گردی کے واقعات میں اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق 80۔70 ہزار پاکستانیوں کی قیمتی جانوں کا نقصان ہوا جن میں ملکی سیکورٹی اداروں’ملکی افواج’ پولیس کے افسر و جوان’ایف سی کے افسر وجوان رینجرز اور دیگر ریاستی اداروں کے ہزاروں افراد نے اپنی جانیں اپنے وطن پر نچھاور کردیں شدید زخمی جو معذور ہوچکے وہ علیحدہ ہیں اہلِ وطن پردہشت گردی کا بھیانک دورواقعی ناقابلِ فراموش ہے اب جبکہ پاکستانی افواج نے دہشت گردی کی بیخ کنی کیلئے کئی فیصلہ کن آپریشن کیئے جن کے نتیجے میں دہشت گردوں کو اْن کی کمین گاہوں سمیت نیست و نابود کردیا گیا اب ملک بھر میں فوج کا آپریشن ردالفساد جاری ہے، ایسے میں ہمارے پرائیوٹ الیکٹرونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر بڑی اہم ذمہ داری آن پڑی ہے؟اِسی حوالے سے بہت شدت سے محسوس کیا گیا ہے کہ الیکٹرونک میڈیا کا ‘ایک حصہ’دہشت گردی کے نازک موضوعات کی خبروں ‘تبصروں اور تجزیاتی رپورٹوں اور اپنے ٹاک شوز میں خودکو’غیرجانبدار’ رکھنے میں ناکام رہا’ ملکی عوام تک میڈیا کے اْسی’مخصوص حصہ’ نے اپنی پیشہ ورانہ امورکو بہ احسن وخوبی انجام نہیں دیا ، جس کے نتائج ملکی معاشرے پر بہت ہی ضرر رساں پڑے، نیم خواندہ قومی طبقات فکری اعتبار سے مزید منقسم ہوئے، کیا میڈیا کا یہی رول ہوتا ہے؟ میڈیا قوموں کی تفریق نہیں کرتا قومی طبقات میں موجود فرقہ واریت کو میڈیا کبھی ہوا نہیں دیتا’ کیا یہ مقام غور وفکر کا متقاضی نہیں ہے کہ ہرخبرکا جواز تراشنے کی غیرپیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے چلن کی جانچ پڑتال کی جانے چاہیئے’ ساتھ ہی ذرائعِ ابلاغ کے غی ذمہ دار’نااہل اورپیشہ ورانہ قابلیت سے تہی دست چاہے وہ کوئی بھی چرب زبان اینکرپرسن ہوں یا کوئی ایڈیٹرجوہرخبرکے پیچھے لٹھ بردار ہوکرریڈیو کے سامعین کو’ٹی وی کے ناضرین کو اوراخبار کیقارئین کو قربانی کا بکرا سمجھ لے ایسے میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو صرف’پیسہ کمانے’ کی دھن سے اب باہر نکلنا چاہیئے صحافت کوئی صنعتی انڈسٹری نہیں ہے دہشت گردی کے ایکادکا رونما ہونے والے واقعات میں آنکھیں بند کرکے میڈیا کے ‘چند غیرذمہ دار’ذمہ داروں نے یہ رویہ کیوں اپنالیا کہ وہ بھی ‘ایک طاقت’ ہیں جسے چاہئیں’ ہیرو’ بنادیں جسے چاہیں’زیرو’بنا دیں ملکی قومی حساس اداروں کے درمیان جانتے بوجھتے ہوئے ٹکراؤ اپنی سی بڑی ناکام کوششیں کرلی گئیں یہ بڑی خطرناک بات ہے جس کا نوٹس لیاجانا بہت ہی ضروری تھا اوربہت ضروری بھی ہے دہشت گردی کے حوالے سے کوئی خبرہو یا دیگر انتہائی نازک اور حساس مذہبی ایشوز ہوں بلا تحقیق اور بلا تفتیش کسی خبر کو نشر’ٹیلی کاسٹ یا شائع کرنا صحافت کے مروجہ طے کردہ اْصولوں کے خلاف سمجھا جاتا ہے ملکی میڈیا میں یہ رواج بہت نازیبا ہے، اشارے کنایوں میں مبہم بات چیت کی تشبیہات میں قومی اہمیت و افادیت کے حساس اداروں کوزبردستی کھینچ تان کراپنی خودساختہ اور من گھڑت اسٹوری میں کشش پیدا کرنے کیلئے اْن اداروں کے نام براہ راست لیئے جارہے ہیں’اْن قومی وآئینی اداروں کا تمسخراْڑایا جارہا ہے’اْنہیں چیلنج کیا جارہا ہے، دورانِ بحث اسکرینوں پر بیٹھے ہوئے شرکاء قہقے لگا رہے ہیں ،تالیاں بجا رہے ہیں، قوم مانتی بھی ہے اور سمجھتی بھی خوب ہے بس کریں جناب! ‘ معاشرے کو صحافت سے اورصحافت کو معاشرے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا’ معاشرے میں آزادی اور حریت کا بول بالا ہوگا تو صحافت بھی اپنے گندے اوربدبودارانڈوں کواْٹھاکر باہر پھینک دیگی’ کیونکہ ذمہ دارصحافت کی آزادی معاشرے کو صحت مند’توانا اور جرات مند رکھتی ہے اورصحت مند معاشرہ ذمہ دار قومی صحافت کی آزادی کا امین ہوتا ہے’محافظ ہوتا ہے’ حقیقی اورذمہ دار صحافت کی آزادی کی مثال روشنی اور تازہ ہوا کی سی ہوتی ہے جو زندہ رہنے کیلئے ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے ہاں البتہ یہ اصول کسی چیز کی بھی زیادتی کیلئے لاگو نہیں ہوتاہمیں کبھی نہیں بھولنا کہ ذمہ دارقوم پرست آزادیِ صحافت کیلئے بھی متذکرہ اصول پر اْتنا ہی صحیح ہے جتنا زندگی کے کسی اور شعبہ میں آزادیِ عمل کیلئے ہم اور آپ اپنے اْوپر لاگو کرتے ہیں یہاں ہماری یہ تجویز ہے کہ ہماری جمہوری حکومتوں کووفاقی اور صوبائی سطحوں پر صحافت کے شعبہ کوپیشہ ورانہ ذمہ دار بنانے کیلئے کوئی اعلیٰ موثراورنتیجہ خیز ابلاغی سسٹم رائج کرنے کی جانب فوری توجہ دینی ہوگی تربیتی ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت کا یہ اقدام ہر لحاظ سے اورہر اعتبار سے لائق تحسین قرارپائے گا۔

About Admin

Google Analytics Alternative