Home » کالم » ربیع الاول کا پیغام

ربیع الاول کا پیغام

اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے ’’اے محمد ;248;!کہو کہ اے انسانو !مےں تم سب کی طرف اُس خدا کا پےغمبر ;248;ہوں جو زمےن اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے ‘‘(الا عراف۸۵۱) دوسری جگہ فرمایا ’’درحقےقت تم لوگوں کےلئے اللہ کے رسول ;248; مےں اےک بہترےن نمونہ ہے ،ہر اس شخص کےلئے جو اللہ اور ےوم آخر کا امےدوارہو اور کثرت سے اللہ کو ےاد کرے‘‘ (الاحزاب۱۲) مسلم کی حدےث ہے کہ اےک دفعہ چند صحابہ ;230; نے حضرت عائشہ ;230;ام المومنےن سے عرض کےا کہ آپ نبی اکرم ;248; کے کچھ حالات زندگی ہم کو بتائےں عائشہ صدےقہ ;230; نے تعجب سے درےافت کےا آپ نے قرآن نہےں پڑھا جو مجھ سے خلق نبی ;248; کے متعلق سوال کرتے ہو;238; (مسلم) ےعنی آپ ;248; کی ساری زندگی قرآن تھی ۔ ۹ربےع لاول مطابق ۰۲;241;اپرےل۱۷۵ ء( الر حےق المختوم) کی صبح مکہ کے اےک معزز قبےلہ قرےش(بنی ہاشم) مےں عبداللہ بن عبدالمطلب کے گھر حضرت محمدﷺ پےدا ہوئے ۔ دارالرقم مےں نبوت کے پہلے ۳ سال خفےہ طرےقے سے خاص خاص لوگو ں کو اللہ کی دعوت پہنچاتے رہے ۔ شروع دنوں مےں دعوت کامرکز حضرت ار قم ;230; کے گھر کو بناےا تھا ۔ حضرت خدےجہ ;230; ،حضرت علی ;230;،حضرت ابوبکر ;230; حضرت زےد ;230; ےہ سب پہلے ہی دن مسلمان ہو گےٗ تھے ۔ پھر اس زمانے کے رواج کے مطابق پہاڑ صفا کی چوٹی پر چڑ کر اعلان کےا، ےاصباحا;252;ےاصباحا ےعنی صبح کا خطرہ صبح کا خطرہ، قرےش کے لوگوں کو پکارا لوگ جمع ہو گےٗ آپ ;248;نے فرماےا اگر مےں آپ لوگوں سے کہوں کہ پہاڑ کی دوسری طرف سے دشمن حملہ کرنے والا ہے تو آپ لوگ مےری بات پر ےقےن کرےں گے سب نے کہا آپ ;248; سچے اور نےک آدمی ہےں ہم ضرور ےقےن کرےں گے آپ ;248; نے فرماےا لوگومےں اللہ کا پےغمبر ;248;ہوں اور تمہےں ا للہ واحد کی طرف بلاتا ہوں بتوں کی پوجا سے بچاتا ہوں ےہ زندگی چند روزہ ہے سب نے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال کا حساب دےنا ہے ۔ قریش جب محسوس کیا کہ اسلام کی دعوت پھیل رہی ہے تو انہوں نے دھمکی کےلیے اپنے چند آدمی ابو طالب کے پاس بھےجے انہوں نے کہا تمہارے بھتےجے نے ہمارے خداءوں کو برا بھلا کہا لہذا آپ ےا تو اس کو روک دےں ےا درمےان سے ہٹ جائےں ہم اس کےلئے کافی ہےں ابو طالب نے اس کا ذکر رسول ;248; اللہ سے کےا مگر رسول ;248;اللہ نے فرماےا چچاےہ مےرے اےک ہاتھ پر سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند رکھ دےں تب بھی مےں ےہ کام نہےں چھوڑوں گا ۔ حضرت حمزہ ;230;اور حضرت عمر ;230; کے اسلام لانے کے بعد قرےش نے اےک نمایندہ عتبہ بن ربےعہ کو رسول ;248; اللہ کے پاس بھےجا ۔ خانہ کعبہ کے اندر عتبہ نے رسول ;248;اللہ سے ملاقات کی اور آپ ;248; کے سامنے قرےش سے منظور شدہ گفتگو رکھی اورکہا ہماری قوم کے اندر آپ ;248; کا مرتبہ اور مقام ہے اب آپ;248; اےک بڑا معاملہ لے کر آئے ہو جس سے قوم مےں تفرقہ پڑ گےا ہے آپ ;248; نے کہا مےری سنو آپ ;248; نے سورۃ حم السجدہ تلاوت فرمائی عتبہ سنتا گےا اٹھا اور سےدھا ساتھےوں کے پاس گےا ۔ ابو طالب کو مقابلے کی دھمکی ، ابوجہل کا رسول اللہ;248; کے سر پر بھاری پتھر رکھنے،عتبہ بن ابی معےط کا چادر لپےٹ کر گلا گھونٹنے، ےہ سب باتےں سنگےن خطرہ محسوس ہو رہی تھےں اس لئے ابو طالب نے جدِاعلیٰ عبدِ مناف کے دونوں صاحبزادوں ہاشم اور مطلب سے وجود مےں آنے والے خاندان کو جمع کےا اور کہا اب رسول ;248;اللہ کی سب حفاظت کرےں ابو طالب کی ےہ بات عربی حمےت کے پےش نظر ان دونوں خاندانوں کے سارے مسلم اور کافر افراد نے قبول کی البتہ صرف ابو لہب مشرکےن سے جا ملا ۔ اےک دفعہ خانہ کعبہ مےں سرداران قرےش موجود تھے رسول ;248; بھی اےک کونے مےں تشرےف فرما تھے ۔ ان ہی دنوں حج کا موسم تھا ۔ قرےش کو فکر ہوئی کہ رسول ;248; اللہ آنے والے حاجےوں مےں اپنے دےن کو پھےلائیں گے لہٰذا کو ئی تدبےر کرنی چاہیے ۔ کافی سوچ بچار کے بعد ولےد نے مشورہ دےا ہم کہےں گے جادوگر ہے اس بات کے بعد سب پھیل گئے اور آنےوالے حاجےوں مےں وہ پروپیگنڈا شروع کر دےا اس سے لوگوں مےں مشہور ہوگےا کہ آپ ;248;نے دعویٰ نبوت کےا ہے ان کی اس حرکت سے دےار عرب مےں آپ ;248; کا چرچا ہوگےا ۔ مکہ کے ۳۱;241; سال مےں آپ ;248;اور آپ ;248; کے صحابہ ;230; کو بہت ستاےا گےا ۔ رسول ;248;اللہ نے کہا دےن کے معاملے مےں جتنا مجھے ستاےا گےا ہے کوئی اور پےغمبر نہےں ستاےا گےا ۔ بازار کے اندر آپ ;248; لوگوں کودعوت دےتے پےچھے ابو لہب لوگوں کو کہتا ےہ مےرا بھتےجا ہے ےہ جھوٹ کہتا ہے، خانہ کعبہ مےں سجدے کی حالت مےں سر پر اونٹ کی اوجھ ڈالی گئی، گردن مےں چادر ڈال کرختم کر دےنے کی کوشش کی گئی، دو بےٹےوں رقےہ ;230;اور ام کلثوم ;230; کوچچا ابولہب کے بےٹوں نے طلاق دی، طاءف مےں لہو لہان کےا گےا، رسول ;248;اللہ کا بےٹا عبداللہ فوت ہوا تو ابولہب خوش ہوا دوستوں کو خوشخبری دی کہ محمد ;248; ابتر ہو گےا ہے،ابو لہب کی بےوی جو ابو سفےان کی بہن تھی رسول ;248;اللہ کے راستے مےں کانٹے ڈالتی تھی،آپ ;248; کے کافر پڑوسی جب آپ ;248; گھر مےں نماز پڑھ رہے ہوتے تو وہ آپ کے سرپر بکری کی بچہ دانی ڈال دےتے ، چولھے پر ہانڈی چڑھائی جاتی تو بچہ دانی اس طرح پھےنکتے کہ سےدھے ہانڈی مےں جا گرتی،امےہ بن خلف کا وطےرہ تھا جب رسول ;248;اللہ کو دےکھتا تو لعن طعن کرتا ، ۳ سال تک شعب ابوطا لب مےں محصور رکھا گےا،قتل کرنے کی اور ملک بدر کرنے کی سازش کی گئی ۔ صحابہ ;230; کو اتنا پرےشان کےا گےا کہ وہ دو دفع حبشہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ۔ جب ابو طلب بےمار ہوئے تو قرےش کو فکر ہوئی کہ ان کی زندگی مےں ہی کچھ معاملہ ہو جانا چا ہیے چنانچہ قرےش اےک بڑا وفد جس مےں عتبہ بن ر بےعہ ، شےبہ بن ر بےعہ ،ابو جہل بن ہشام، امےہ بن خلف، ابو سفےان بن حرب اور دےگر تقرےباً ۵۲;241; افراد آئے ۔ رسول ;248; نے ان کی باتےں سن کر کہا آپ لوگوں کو مےں اےک اےسا کلمہ نہ بتاءوں جس کو اگر آپ مان لےں تو آپ عرب کے بادشاہ بن جائےں اور عجم آپ کے زےر نگےں آجائے تو آپ کی کےارائے ہو گی قرےش ےہ سن کر حےران تھے آخر ابو جہل نے کہا اچھا بتاءو ہم اےسی دس باتےں ماننے کےلئے تےار ہےں آپ ;248; نے فرماےا ’’آپ لوگ لا الٰہ الا اللہ کہےں اور اللہ کے سوا جو کچھ پوجتے ہےں اسے چھوڑ دو اس پر انہوں نے ہاتھ پےٹ پےٹ کر کہا ’’محمد ;248; !تم ےہ چاہتے ہو کہ سارے خداءوں کی جگہ بس اےک ہی خدا بنا ڈالو;238; ۔ ۰۱ ;247; نبوت مےں رسول ;248; طاءف دعوت کی غرض سے تشرےف لے گئے مگر انہوں نے شرےر لڑکے آپ کے پےچھے لگا دیے آپ پر پتھروں کی بارش کی گئی آپ لہو لہان ہو گئے پہاڑوں کے فرشتے نے آکر کہا مجھے اللہ نے بھےجا ہے آپ ;248; کہےں تو ان کو دو پہاڑوں کے درمےان پےس دوں مگر پھر بھی آپ ;248; نے ان کے اےمان لانے کی دعا کی ۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے رسول ;248; کو معراج کرائی ، دوسری باتوں کے علاوہ پانچ وقتہ نماز فرض کی گئی ۔ دوسرے پےغمبروں ;174;سے ملاقات کرائی،جنت دوزخ کا مشاہدہ کراےا،پھر اسی رات بےت المقدس سے مکہ تشرےف لے آئے ۔ رسول ;248;اللہ طاءف سے واپس آئے اُس کے بعد بےعت عقبہ ہوئی انصارِ مدینہ نے رسول ;248; اللہ کو مدےنے آنے کی دعوت دی گئی ۔ ان حضرات نے آپ ;248;کو اےک معاہدے کے تحت مدےنے مےں بلاےا ۔ دو شنبہ ۸;241; ربےع الاول ۴۱ ;247;نبوت ےعنی ۱ ;247; ھ مطابق ۳۲ ستمبر ۲۲۶ ;247; ء کو رسول;248;اللہ قباء مےں وارد ہوئے مسلمانانِ مدےنہ رسول ;248;اللہ کے انتظار مےں تھے ۔ آپ ;248; کے دےدار کےلئے سارا مدےنہ امڈ آےاےہ اےک تارےخی دن تھا جس کی نظےر سر زمےن ِمدےنہ نے کبھی نہ دےکھی تھی ۔ اسی دوران مسجد قباء کی بنےاد رکھی اور نماز ادا کی اس کے بعد رسول ;248;اللہ مدےنہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ رسول ;248; کو مدےنے مےں بھی آرام سے اللہ کے دےن کو پھےلانے کےلئے نہ چھوڑا گےا ۔ طرح طرح سے رکاوٹےں ڈالی گئےں بدر، احد اور خندق کی جنگ کی،جنگ خندق کے موقع پرتمام عرب کے مشرکوں نے مدےنے کا محاصرہ کےا مگر اُنہیں شکست ہوئی ۔ رسول ;248; اللہ نے ۰۱;241; رمضان ۸ ;247; ھ دس ہزار صحابہ ;230; کے ساتھ مکہ کا رخ کےا اللہ نے فتح عطا کی ۔ فتح مکہ کے بعد آپ;248; نے عام معافی کا اعلان کےا خانہ کعبہ مےں داخل ہو کر سب بتوں کو توڑ ڈالا ۔ رسول ;248; اللہ نے پہلے اللہ کی کبرےائی بےان کی پھرفرماےا جاہلےت کے تمام دستور مےرے پاءوں کے نےچے ہےں ،عربی کو عجمی سفےد کو سےاہ پر کوئی فضلےت نہےں مگر تقویٰ،مسلمان بھائی بھائی ہےں ،جو خود کھاوٗ غلاموں کو کھلاءو ،جاہلےت کے تمام خون معاف،سودپرپابندی،عورتوں کے حقوق،اےک دوسرے کا خون اور مال حرام،کتاب اللہ کو مضبوطی سے پکڑنے کی تاکےد،حقدار کو حق،لڑکا اس کا جس کے بستر پر پےدا ہوا، اس کے بعد اےک لاکھ چالےس ہزار انسانوں کے سمندر کو آپ ;248;نے فرماےا مےرے بعد کوئی نبی نہےں ہے اللہ کی عبادت کرنا پانچ وقت کی نماز رمضان کے روزے زکوۃ اللہ کے گھر کا حج اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرنا جنت مےں داخل ہوجاءو گے ۔ تم سے مےرے متعلق پوچھا جانے والا ہے صحابہ ;230; نے کہا آپ ;248; نے تبلےغ کر دی، پےغام پہنچا دےا اور حق ادا کر دےا ۔ ےہ سن کر شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف اٹھاےا اور کہا اے اللہ آپ بھی گواہ رہیے ۔ اس خطبے کے بعد ےہ آےات نازل ہوئےں ’’آج مےں نے تمہارےلیے تمہارا دےن مکمل کر دےا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو بحےثےت دےن پسند کر لےا‘‘ (المائدہ۳) اب رہتی دنےا تک ےہی دےن غالب رہے گا ۔ حضرت محمد صلی اللہ علےہ و سلم اللہ کے آخری پےغمبر ہےں اور ےہ دےن آخری دےن ہے ۔ قےامت تک نہ کوئی نےا نبی آئے گا نہ نےا دےن آئے گا ۔ اب اس دےن کو دوسری قوموں تک پہنچانے کا کام امت محمدی ;248; کرے گی لہٰذا ہمارےلیے سبق ہے کہ ہم اپنے اعمال ٹھےک کرےں اسلام کے دستور مےں جتنی بھی انسانوں کی خواہشات داخل کر دی گئی ہےں انہےں اےک اےک کر کے اپنے دستو ر عمل سے نکال دےں اور اپنے ملک مےں اسلامی نظام، نظام مصطفےٰ، حکومت الہےہ( جو بھی نام ہو) اس کو قائم کرےں او ر پھر اس دستور کو دنےا کے تمام انسانوں تک پہنچائےں جنت کے حق دار بنےں اور جہنم کی آگ سے نجات پائےں جو کافروں کےلئے تےار کی گئی ہے اپنی آخری منزل جنت مےں داخل ہوں جہاں ہمےشہ رہنا ہے جہاں نہ موت ہو گی نہ تکلےف ہو گی اللہ مومنوں سے راضی ہو گا اور ےہی کامےابی ہے ۔ یہی ربیع الاول کا

About Admin

Google Analytics Alternative