1

رخ ہوا کا بدلتا رہتا ہے

یک وزیر اعظم کو سزا دی اور نا اہل کیا،ایک سابق آرمی چیف کے مقدمے کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے،وزیر اعظم عمران خان چیف ایگزیکٹو ہیں ، ہمارے منتخب نمائندے ہیں ، محترم وزیر اعظم کے وسائل فراہم کرنے کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں ، وزیراعظم کا اعلان خوش آئند ہے پرہم نے امیر غریب سب کو انصاف فراہم کرنا ہے،ججز اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کرتے ہیں ،یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی موجودہ چیف جسٹس پاکستان اورآئندہ چیف جسٹس پاکستان کے نام لے کرانہیں انتہائی محترم کہاتھا اوراب چیف جسٹس پاکستان آصف سعیدکھوسہ نے بھی وزیراعظم عمران خان کومحترم کہا ہے، اب کسی محترم نے کسی محترم کوپیغام دیاکہ وسائل کارخ موڑدیں گے یعنی وسائل کی کمی سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں فراہمی انصاف میں کمزور اور طاقتورطبقات کافرق ختم کردیں اور پھر کسی محترم نے کسی محترم کوپیغام دیاکہ احتیاط سے کام لیں ،کمزوراورطاقتورکاطعنہ نہ دیں ، وسائل کا رخ موڑدیں اچھی بات ہے پراب ہواکارخ بدل رہاہے لہٰذاکسی کوتیزترین ریلیف دینے کی ذمہ داری خودقبول کریں اوربیرون ملک جانے والے کسی کی کسی کوریلیف دینے کی تیاری کریں ،کون بتاسکتاہے کہ جن36 لاکھ کیسز کے فیصلے کرنے کا بتایاگیاہے اُن میں کتنے کیسز میں انصاف بھی ہوا ہو گا ;238;کیا اُن 36 لاکھ کیسز میں کوئی ایک کیس بھی ایساہے جس میں کسی غریب کسی کوکسی امیرترین کسی جیسا تیزترین انصاف ملاہوگا;238;نہائے دھوئے فراہمی انصاف کے ذمہ دارکسی کسی،بے گناہ اور باعزت آئین سازاسمبلی کے ممبرز کسی کسی،قابل احترام سکیورٹی اداروں کے ذمہ داران کسی کسی،پڑھے لکھے ماہربیوروکریسی میں بیٹھے کسی کسی،سچے حکمران کسی کسی اورقول کے پکے اپوزیشن میں بیٹھے کسی کسی اوران سب طاقتور کسیوں کے انتہائی طاقتور قوانین ،معلوم ہے یہ سب کہاں پائے جاتے ہیں ;238;جی نہیں یہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ ہراس جگہ پائے جاتے ہیں جہاں جہاں عوام یعنی محکومین غلامی پسند،خوش آمدی،سیاسی ومذہبی کارکنان کی اکثریت ہو اور انسانیت اقلیت میں چلی جائے،سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ماضی میں ریاست نے کبھی کسی کے ساتھ خفیہ یا اعلانیہ ڈیل نہیں کی;238;کبھی کسی کوخفیہ یا اعلانیہ این آراونہیں دیاگیا;238;عدالتیں مجرموں کی جانب سے طبی بنیادوں پرریلیف کیلئے دائر درخواستیں فوری سنے اورمظلوم کی درخواست سالوں تک سماعت کیلئے مقررنہ ہوسکے تومظلوم کیا کرے;238; کہاں اورکس سے انصاف مانگے;238;چیف جسٹس خودشراب برآمدکرے اورپھروہی شراب شراب ثابت نہ ہوپائے توقانون کیا کرے ;238; سزایافتہ مجرموں کوانسانی بنیادوں پرضمانت ملے گی توپھرریاست کے امن کی ضمانت کون دے گا ;238; جرائم پیشہ مجرموں کے حقوق غالب آجائیں گے تو پھر جرائم پیشہ عناصرکی حوصلہ شکنی کیسے ہوگی;238;انسانی ہمدردی کی بنیادپرانصاف کیسے ممکن ہو سکتاہے ، قاتل بھی انسان اورمقتول بھی انسان عادل قاتل کے ساتھ انسانی ہمدردی کرے گاتوپھرانصاف کہاں اورکون دے گا;238;منشیات فروش بھی انسان اور منشیات سے متاثرہوکرمرنے والے بھی انسان اب یہ فیصلہ کون کرے گاکہ انسانی بنیادوں پر ہمدردی کاحق دارمنشیات فروش ہے یامنشیات کے استعمال کے باعث جان سے جانے والے;238;سچ تو یہ ہے کہ رخ ہوا کا بدلتا رہتا ہے ،حکمران طبقے اور اُن کے طاقتور قوانین ہواکے رخ کے ساتھ بدل جاتے ہیں ،جب ہواکارخ بدلتاہے توجو خود ضمانت پرہواُس کسی کا ایک بیٹا اورایک داماد بیرون ملک مفرورہوایسے کسی کی ضمانت پرایسے کسی کو جس کے دوبیٹے عدالتی اشتہاری،بیرون ملک مفرورہیں پچاس روپے کے اشٹام پربیرون ملک جانے کی اجازت دینا یقیناکسی طاقتورقانون کاہی کام ہوسکتاہے،ہواکے رخ بدلتے ہی سیاسی پرندے ہواکے رخ کے ساتھ ایک سے دوسری چھتری پراُڑان بھرنے لگتے ہیں ،اگلی چھتری یقیناگجراتی ہوگی،غلامی پسندعوام طاقتورہواکے بدلتے رخ کے ساتھ گرد بن کر محوسفر ہوجاتے ہیں کبھی بغاوت نہیں کرتے،نا انصافیوں کے ذمہ داران کاگربیان پکڑنے کے قابل نہیں ہوپاتے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں