Home » کالم » ریفرنڈم2020ء

ریفرنڈم2020ء

دنیا اس وقت تک حقیقی امن وآشتی کا گہوارہ نہیں بن سکتی ،جب تک محکوم قوموں کے بنیادی حقوق کو اپنی منہ زور طاقت اور سامراجی جمہوریت کے نام پر جبروستم کے روارکھے جانے والے اپنے پرفریب ظالمانہ اقدامات سے دبایا جاتا رہے گا ،قوموں سے جھوٹے اور دھوکہ دہی پر مبنی وعدے کیئے جاتے رہیں گے، وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا ایک وقت آتا ہے کہ ایسے ظلم وستم اور جبروقہر کے خلاف محکوم اقوام کے افراد میں آزادی کی ظلم وستم کی زنجیروں کو توڑ کی لہریں امڈنے لگتی ہیں چاہے فلسطین ہومقبوضہ کشمیرہو یا دھوکہ دہی کی آڑ میں سکھ قوم کو دبا کر ان کی ثقافتی’سماجی اور معاشرتی آزادی کو نئی دہلی سرکار نے جیسے دبا رکھا ہے، شاید ہی کوئی اس حقیقت سے انکار کرنے کی جرات کرئے گا تقسیم ہند کے موقع پر جیسے کشمیریوں کی مرضی کو جانے بغیر وادی پر قبضہ کیا گیا تھا عین ایسے ہی کانگریس کے اولین لیڈروں نے سکھ قوم سے وعدہ کیا تھا کہ تقسیم کا عمل مکمل ہونے کے بعد سکھوں کو بھی علیحدہ آزاد سکھ ریاست دی جائے گی کانگریسی براہمن ظالموں اور جابروں نے آج اکہتربرس گزرجانے کے بعد سکھوں کو علیحدہ آزاد ریاست دینا تو رہا ایک طرف’اب تو سکھ قوم کو بھی ‘ہندوتواسسٹم’میں مدغم کیا جارہا ہے اس جبری مذہبی الحاق’ کے خلاف سکھ قوم اب مکمل طور پر چونکا ہوچکی ہے سکھوں کی قومی بیداری کا یہ سفر برسہا برس سے جاری ہے لیکن نومبر1984 میں چند جرات مند دلیر سکھوں نے اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندراگاندھی کے گارڈز تھے انہوں نے اپنی مشین گنوں سے گولڈن ٹمپل کے تقدس کو پامال کرنے والی وزیراعظم کو قتل کرکے سکھوں کی آزادی کے پہلے پیغام کی نویددیدی جس کا یقیناًبھیانک نتیجہ یہی نکلنا تھا ممتاز برطانوی صحافی مارک ٹیلی ان دنوں جب اندراگاندھی کا قتل ہوا نئی دہلی میں موجود تھا اپنی یادداشات میں وہ لکھتا ہے کہ اندراگاندھی کے قتل کے بعد شام آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی طرف جانے والی مرکزی شاہراہ پر میں نے دیکھا کہ بپھرے ہوئے ہندو مختلف ٹولیوں کی شکل میں سکھوں پر ٹوٹ پڑے تھے، نئی دہلی میں آرایس ایس اور و شوا ہند و پریشد کے جنونی مہلک ہتھیاروں کو لہراتے پاگل پن جنونی بنے جہاں بھی انہیں کوئی سکھ دکھائی دئیے وہ ان پر ٹوٹ پڑے اور انہیں خاک وخون میں نہلا دیا وہ مقامی پولیس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سکھوں پرموت بن کرٹوٹ پڑے تھے دودن تک نئی دہلی کی گلیوں پر سکھوں کا قتل عام ہوتا رہا ہندوغنڈوں کی ٹولیاں سکھوں کو قتل کرتی رہیں ان کی دوکانیں اورتجارتی مراکز کو لوٹ کرنذرآتش کیا جاتا رہا بقول مارک ٹیلی کے کچھ واقعات میں تو مقامی پولیس نے بھی سکھوں کے قتل وغارت گری میں حصہ لیا ہندو اس قدر وحشی اوردرندہ بن چکے تھے جو سکھوں باقاعدہ سڑکوں پر ذبح کررہے تھے ایک مقام پر مارک ٹیلی نے سکھوں کے خلاف ہونے والی انسانیت سوز خونریزی نے ‘بٹوارے کے موقع پر جیسے سکھوں نے ریلوے اسٹیشنوں پر مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا ایک مرتبہ پھر اس کی لہورلاتی یادیں تازہ ہوگئی تھیں، آج ہندو ویسی ہی وحشت ناک خونریزی کے مرتکب ہورہے تھے اس شرمناک موقع پر ان موقع پرستوں نے جلتی پر تیل چھڑ کنے کاکام کیا اور ‘ ہندووں نے من گھرت اور جھوٹی افواہوں کو دیش بھر میں پھیلانا شروع کردیا تھا کہ اندراگاندھی کے قتل پر سکھ قوم کے افراد خوشیوں سے بھنگڑے ڈال رہی ہیں ایسی جھوٹی اورمن گھڑت افواہوں کے نتیجے میں دیش کے ان علاقوں کے ہندواور سخت اشتعال میں آئے جنہوں نے پرانی دہلی کے سکھوں کے ایک محلہ کا محاصرہ کرکے وہاں انسانیت کا بدترین مظاہرہ کیا ، سکھوں نے گو ان کا مقابلہ کیا مگر تعداد کم ہونے کی بنا پر وہ لاچار ہوگئے جبکہ ہندو سکھوں کے گھروں میں دیواریں پھاند کر گھس گئے مردوں بزرگوں اور بڑی عمر کی سکھ خواتین کو ان کی جوان لڑکیوں کے سامنے قتل کیا گیا سکھ لڑکیوں کی آبرو لوٹی گئیں دہلی کے ترلوک پوری محلہ میں درندگی کی حد کردی گئی خواتین کی بے حرمتی کرنے کے بعد انہیں زندہ جلادیا گیا پرانی دہلی کے کئی گورداورے خاکستر کردئیے 2نومبر1984 کو شائع ہونے والے ‘انڈین ایکسپریس’ نے اپنی شائع رپورٹس میں لکھا ہے کہ ‘ترلوک پوری محلہ کی ہولناکیوں پر پردہ ڈالنا انسانیت کی توہین کے مترادف ہے ذمہ داروں کواب تک نہ توگرفتار کیا گیا نہ کوئی ایف آئی آر درج کی گئی اس علاقہ میں سکھوں کی قتل وغارت گری 30 گھنٹے تک جاری رہی انسانیت کو شرما دینے والی بربریت نما فاک خونریزی کے دوران ‘انڈین ایکسپریس’ کے موجودہ نمائندوں نے سکھوں کی خونریزی کو رکوانے کی اپنی سی حتی الامکان کوششیں کی مگر ان کی کوششیں بے سود ہی رہیں قیامت نما واقعہ کو 34 برس گزر چکے سکھ قوم نے اپنے آپ کو بھارتی دیش بھگت ثابت کرنے میں کیا کچھ کرکے نہیں دکھایا لیکن براہمن ہندو قیادت نے دیگر اقلیتوں کی طرح سکھوں پر بھی اپنے دیدہ ودل کے دروازے تقسیم ہند کے موقع پر جیسے بند رکھے تھے یہ سلسلہ مختلف صورتوں میں آج تک جاری ہے کیونکہ مسلمانوں کی طرح سے سکھ بھی ہندومعاشرے اور سماج سے بالکل جد ا قوم ہے جیسے قومیں تاریخی طور پر اپنا ایک مستحکم سماجی رشتہ رکھتی ہیں اپنی مشترکہ زبان ہوتی ہے مشترکہ خطہ زمین ہوتا ہے مشترکہ اقتصادی زندگیمشترکہ ثقافت اور مشترکہ ذہنی خصوصیات ہوتی ہیں یہی اجزا تو ہوتے ہیں جو قوم بناتے ہیں، تقسیم ہند کے بعد سکھ قوم کی شناخت کوہندو ازم میں ضم کرنے کیلئے نئی دہلی کی ہر کوشش بری طرح سے ناکام ہوئی تو سکھوں کو بھی نئی دہلی نے محکوم بنالیا کیا وہ کامیاب رہے؟ اس سوال کا جواب ہے نہیں بلکہ عظیم تاریخی روایات رکھنے والی سکھ قوم اب زیادہ بیدار ہوگئی ہے بھارتی زیر کنٹرل کشمیری مسلمانوں کی طرح سکھ غیور قوم بھی بھارتی تسلط کی عیارانہ چالوں کو جان چکی ہے سکھ قوم کے افراد اب نئی دہلی کی غلامی کو جوا اتارپھیکنے کے لئے متحد ہو چکے ہیں، حال میں پاکستانی حکومت نے کرتارپورہ راستہ کیا کھولا، سکھوں پر بخوبی واضح ہوگیا کہ تقسیم ہند کے موقع پر ان کے ساتھ بڑا دھوکہ ہوا تھا ازالہ کا وقت اب آگیا ہے، بھارتی حکومت نے خود ہی اپنی سفاکانہ حرکات وسکنات سے سکھ قوم کو یہ نیا راستہ دکھا دیا ہے جس کا ایک ثبوت بھارتی ملٹری انٹیلی جنس رپورٹ کے انکشاف کے بعد سامنے آیا ہے یہ رپورٹ آج کل سوشل میڈیا ہر کوئی دیکھ سکتا ہے جس میں ‘سکھ ریفرنڈم 2020 ‘کے ممتاز لیڈر سردار پتوتھ سنگھ کی باتیں سنی جارہی ہیں اس رپورٹ میں جو باتیں کہی گئی ہیں ان سے دکھائی دے رہا ہے کہ “خالصتان” کی منزل بھارتی حکومت کے ایک وبال کی صورت بن چکی ہے رپورٹ کے مطابق فوج کے سکھ کیڈر میں عملاً بغاوت کی صورتحال نظرآرہی ہے واہے گروجی کاخالصہ واہے گروجی کی فتح کا نعرہ ہر سکھ کے دلوں کی دھڑک رہا ہے سکھ کہتے ہیں کہ ہم ریفرنڈم 2020 ء کی مہم چلارہے ہیں، پنجاب کو بھارت کے قبضے سے آزاد کرانے کیلئے دنیا بھر کے سکھوں کو پیغام ہے 3 دسمبر 2018 کی انٹیلی جنس رپورٹ سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ بھارتی فوج کے سکھ جوانوں اور افسروں کی انٹیلی جنس یکجا کی جائیں تاکہ علم ہوسکے کہ سکھ چاہے افسر ہیں یا سپاہی وہ خالصتان تحریک حمایت کے بار ے میں کہیں اپنی کھلی حمایت تو نہیں کررہے ؟ نئی دہلی استحصالی انتظامیہ کے خوف سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ سکھ قوم کو آج اس انتہائی مقام پر مودی حکومت نے خود لاکھڑا کیاہے۔
*****

About Admin

Google Analytics Alternative