Home » کالم » اداریہ » زلمے خلیل زاد کی آمد۔۔۔ پاکستان بھی افغان امن کا خواہاں
adaria

زلمے خلیل زاد کی آمد۔۔۔ پاکستان بھی افغان امن کا خواہاں

adaria

امریکہ کیلئے افغانستان وہ کمبل بن چکا ہے جس کو وہ چھوڑنا چاہتا ہے مگر اب کمبل اس کو نہیں چھوڑ رہا، افغانستان میں امریکہ بری طرح پھنس چکا ہے ، وہ اپنی عزت بچانے کیلئے کسی نہ کسی صورت مفر حاصل کرنے کا خواہاں ہے مگر اسے ابھی تک کوئی راستہ نہیں مل رہا، گو کہ اِدھراُدھر وہ ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے مگر ہاتھ میں کچھ بھی نہیں آرہا چونکہ امریکہ کا صدر ٹرمپ ہے جس سے کسی وقت بھی کسی بھی قسم کی بات بعید از خیال نہیں۔ ٹرمپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، پہلے امریکہ نے پاکستان پر دباؤ بڑھایا اور مختلف قسم کے الزامات عائد کیے لیکن وزیراعظم عمران خان نے جب ڈونلڈ ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیا تو امریکہ نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے یوٹرن لے لیا اور ساتھ ہی ٹرمپ نے طالبان سے مذاکرات کیلئے پاکستان کو خط لکھ دیا اور باقاعدہ اس سلسلے میں مدد طلب کی ، یقینی طورپر یہ پاکستان کی ایک قابل تحسین سفارتی فتح ہے۔ امریکہ یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان کے بغیر افغان جنگ سے اس کا نکلنا ناممکن ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کرنے سے باز نہیں آتا، اب اسی مدد کو عملی جامہ پہنانے کیلئے امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کو خصوصی طورپر پاکستان بھیجا ہے انہوں نے یہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے باقاعدہ ملاقات کی۔ جہاں انہوں نے ٹرمپ کے خط کے حوالے سے خصوصی طورپر گفتگو کی اور پاکستان سے مدد بھی طلب کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق زلمے خلیل زاد نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو افغانستان مفاہمتی عمل کے سلسلے میں پاکستان کے تعاون کے حصول کیلئے امریکی صدر کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کو لکھے گئے خط کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے اس موقع پر ان سے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں سیاسی تصفیہ کیلئے، خلوصِ نیت کے ساتھ، اپنا تعاون جاری رکھے گا کیونکہ افغانستان میں قیام امن، پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔ امریکی مندوب کو بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے افغان مصالحتی عمل میں پاکستان کے تعاون کے حصول کیلئے صدر ٹرمپ کے پیغام کا خیرمقدم کیا ہے ۔امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے ایک بار پھر پاکستان سے افغانستان میں امن کیلئے تعاون کی درخواست کی ہے۔ زلمے خلیل زاد غیر ملکی ائر لائن کی پرواز کے ذریعے دبئی سے اسلام آباد پہنچے۔ پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کی جبکہ اجلاس میں دونوں جانب سے سفارتی، سکیورٹی اور دفاعی حکام نے بھی شرکت کی۔ ملاقات میں افغانستان میں امن اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بات چیت کے دوران افغانستان میں امن و استحکام اور افغان تنازعہ کے سیاسی تصیفے سے متعلق امور پر زیر بحث لائے۔زلمے خلیل زاد نے ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ کی جانب سے افغانستان میں امن مذاکرات کیلئے پاکستان سے تعاون کی درخواست کی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی وفد کو افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی جانب سے جلد اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔پاکستان افغانستان اور چین کے درمیان وزرا خارجہ کی سطح پر افغانستان میں امن و سلامتی کے موضوع پر سہ فریقی مذاکرات 15 دسمبر کو کابل میں منعقد ہونگے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پاکستان کی نمائندگی کریں گے تینوں ممالک کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا یہ دوسرا دور ہے اس سلسلے میں پہلا دور گزشتہ سال دسمبر میں بیجنگ میں ہوا تھا تینوں ممالک نے گزشتہ سال سہ فریقی مذاکرات میکانزم پراتفاق کیا تھا مذاکرات میں چینی وفد کی قیادت وزیر خارجہ وانگ ذی کریں گے جبکہ افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی اپنے ملک کے وفد کی قیادت کریں گے۔امریکی وزیردفاع جیمز میٹس کا کہنا ہے کہ 40 سال افغان جنگ کیلئے بہت ہیں افغان امن معاملے پر اب سب کو شریک کرنے کا وقت آگیا ہے۔ امریکہ کو چاہیے کہ اب وہ الزام تراشیوں اور بہانے بازیوں سے باہر آئے، جب پاکستان سے مدد حاصل کی ہے تو یقینی طورپر اس حوالے سے پاکستان جو بھی تجاویز دیتا ہے اس پر امریکہ کو عمل کرنا ہوگا اس کے باوجود اس مسئلے کا اور کوئی حل نہیں۔ امریکہ کو یہ ادراک ہوچکا ہے کہ خطے میں امن پاک افغان امن سے منسلک ہے تاہم اس موقع پر مسئلہ کشمیر کو بھی کسی صورت پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا ۔ بین الاقوامی برادری کو یہ بھی چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو ہر صورت بند کرائے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کیا جائے۔

غیرملکی سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن سہولت دی جائے
غیر ملکی سرمایہ کاری لانا سب سے اہم ٹاسک ہے اور حکومت اس پر شب و روز کوشاں ہے، جب تک غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں دلچسپی نہیں لیں گے اس وقت تک ہماری معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہوسکے گی۔ معیشت کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ حکومت باہر سے آنے والے سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن کے تحت تمام تر سہولیات ایک ہی چھت کے نیچے فراہم کرے اور یہ سرمایہ کاری زیادہ تر صنعت کے شعبے میں ہوتو اس سے نہ صرف ملکی حالات بہتر ہونگے بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہونگے۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے صدرٹیلی نارگروپ نے ملاقات کی۔ اس دورانوزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت سرمایہ کاری میں شفافیت لانا چاہتی ہے، سرمایہ کاروں کو مکمل سہولیات فراہم کرے گی، ایسا نظام بنانا چاہتے ہیں جو حکومتی ترقیاتی ایجنڈے کی مدد کرے۔ پاکستانی معیشت میں بہت زیادہ ممکنہ صلاحیت کا سرمایہ کاروں کو پورا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان سے سیلولر کمپنی ٹیلی نار گروپ کے صدر نے ملاقات کی ، صدرٹیلی نارگروپ نے کہا کہ پاکستان میں 3.5 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی اورسرمایہ کاری سے 5 ہزار لوگوں کو روزگار ملا۔ وزیراعظم سے عثمان ڈار نے ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے انہیں اپنا معاون خصوصی برائے یوتھ افیئرز مقرر کیا جبکہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن نے عثمان ڈار کی تقرری کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ وزیراعظم نے آئندہ چند روز میں نیا پاکستان یوتھ پروگرام لانچ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جبکہ قومی پالیسی اور یوتھ پروگرام کی تیاری کا ٹاسک عثمان ڈار کو سونپا گیا ہے، مزید برآں وزیراعظم عمران خان سے ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم کرنے کی منظوری دیدی۔ ٹاسک فورس معاشی بہتری سے متعلق قومی ترجیحات کا فائدہ لے گی ٹاسک فورس حکمت عملی اور ایکشن پلان ترتیب دے گی۔ ٹاسک فورس ملک کے نامور سائنسدانوں، انجینئرز پرمشتمل ہو گی۔ وزیراعظم نے فیصلہ سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عطا الرحمن سے ملاقات میں کیا۔

امریکہ پاکستان کی اہمیت سے واقف ہوگیا، ایس کے نیازی
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے کہاکہ امریکی صدر کا وزیراعظم پاکستان کو طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے خط پاکستان کی بہت بڑی فتح ہے ۔امریکہ یہ جان چکا ہے کہ افغانستان کے مسئلے میں پاکستان کتنی اہمیت کا حامل ہے اسی وجہ سے آج اس نے پاکستان کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں جو کل تک ہرزہ سرائی کرنے سے بھی باز نہیں آتا تھا۔ روز نیوز کے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ایس کے نیازی نے کہاکہ حکومت پاکستان اس وقت صحیح سمت میں چل رہی ہے تاہم ابھی آگے دیکھنا ہے کہ معاملات کیسے بہتر ہونگے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزمان کا تاحال پتہ نہیں چل سکا یہ ایک لمحہ فکریہ ہے اس حوالے سے بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative