Home » کالم » زمینی حقائق اور دعوے

زمینی حقائق اور دعوے

مولانا فضل الرحمن کراچی سے آزادی مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچے راستے میں اور صوبوں اور شہروں سے بھی لوگ شامل ہوتے رہے اسلام آباد میں اپوزیشن کے کچھ کارکنان اور بعض رہنماءوں نے اسٹیج پر تقاریر بھی کیں اور پھر ایسے گئے کہ دوبارہ نہ تو وہ رہنماء نظر آئے نہ ہی ان کے کارکنان ۔ البتہ محمو دخان اچکزئی آخر تک مولانا کے ساتھ کھڑے رہے اور ان کے کارکنان بھی جمعیت کے کارکنان کے شانہ بشانہ ڈٹے رہے ۔ اس دوران حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات بھی ہوتے رہے جو بے نتیجہ ہی ثابت ہوئے کہ اچانک چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی سامنے آئے اس سے قطع نظر کہ وہ خود مولانا سے مذاکرات کےلئے میدان میں اترے یا ان کو لایا گیا لیکن چوہدری برادران کی مولانا سے کئی ملاقاتیں ہوئیں اور پھر تقریباً دس دن بعد مولانا نے اسلام آباد دھرنا یا اجتماع ختم کرنے کا اعلان کیا ۔ لیکن ساتھ ہی پلان بی پر عملدرآمد کےلئے کارکنان کو ہدایات بھی جاری کیں ۔ اب پلان بی کو ختم کیا جا رہا ہے اور مولانا نے رہبر کمیٹی کو دوبارہ متحرک کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا اجلاس بھی طلب کیا ۔ رہبر کمیٹی کا بظاہر تو کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس وقت مولانا کا ساتھ نہیں دیا جبکہ وہ اسلام آباد کے پشاور موڑ پر میدان میں تھے اور حکومت پر اتنا دباءو تھا کہ وزیراعظم نے دورہ سعودی عرب بھی منسوخ کر دیا تھا ۔ اور مختلف ذراءع سے مولانا سے مذاکرات کی کوششیں ہو رہی تھیں ۔ رہبر کمیٹی میں چونکہ اپوزیشن جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں اور فی الحال ان جماعتوں سے کسی قسم کے تعاون کی امید نظر نہیں آتی ۔ میاں نواز شریف عدالتی فیصلے کی روشنی میں علاج کےلئے بیرون ملک چلے گئے ہیں ۔ ان کے ساتھ شہباز شریف بھی اب ملک سے باہر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کے علاج اور ضمانت کےلئے کوششیں کر رہی ہے ۔ لیکن مولانا نے رہبر کمیٹی کو تمام حجت کے طور پر متحرک کرنے کا سوچا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے ایک سال میں پندرہ ملین مارچ کرنے اور پھر آزادی مارچ لے کر اسلام آباد آنے کا مقصد کیا تھا او ر پھر دس دن بعد اسلام آباد سے روانہ ہو کر ملک کی مختلف اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا کیا مقصد ہے ۔ مولانا کا پلان سی کیا ہے اورپلان ڈی کیا ہے ۔ مولانا اور چوہدری پرویز الٰہی کے مابین کیا کوئی ڈیل ہو ئی ہے اور وہ کیا خاص بات ہے جو چوہدری برادران چھپار پے ہیں اور ان کے پاس وہ کیا امانت ہے جو انھوں نے چھپا کے رکھی ہے ۔ کیا یہ تمام راز صرف چوہدری برادران کے پاس ہی ہیں یا ان رازوں سے وزیراعظم عمران خان بھی واقف ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن بعض لوگوں کی طرح نو آموز سیاست دان نہیں ہیں ۔ وہ پلان اے بی سی اور ڈی کا بہت پہلے بتا چکے تھے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنے کارکنوں کو لمبے دھرنے میں نہیں تھکائیں گے ۔ پلان اے اور بی تو سب نے دیکھ لیئے اور حیرت انگیز طور پر حکومت نے شاہراہوں کو بند کرنے والوں کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا نہ شاہراہوں کو کھوانے کےلئے کوئی اقدامات کیئے ۔ مولانا کے بقول پلان سی زیادہ ٹھوس اور حکومتی مشکلات میں اضافہ کا باعث ہوگا ۔ دیکھا جائے تو چوہدری برادران کچھ چھپا رہے ہیں ۔ لیکن یہ وہ کچھ نہیں ہے جو لوگ سمجھتے ہیں ۔ یہ شاید کچھ اور ہے جس پر فی الحال نہ تو کوئی تبصرہ مناسب ہے اور نہ ہی کوئی تجزیہ ۔ کچھ دنوں بعد شاید بہت کچھ سامنے آنے والا ہے ۔ چوہدری برادران بہت زیرک سیاستدان ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کس وقت کون سی بات کس انداز میں کرنی ہے اور کس مخصوص جگہ پیغام کو کیسے پہنچانا ہے ۔ عقلمندوں کے لیئے تو اشارہ ہی کافی ہے ۔ وہ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ گئے ۔ آنےوالے دنوں میں ہوا کا رخ کیا ہوگا ۔ یہ ہوا کے رخ کو دیکھ کر اڑنےوالوں کی سوچ پر منحصر ہے ۔ میاں نواز شریف اگرچہ عدالتی فیصلے کے تحت بیرون ملک علاج کے لیئے گئے ہیں لیکن حکومتی وزراء کے رنگ بہ رنگے بیانات سے حکومت کی سبکی اور بے چینی واضح ہے ۔ نہلے پے دہلے والاکام وزیراعظم عمران خان کی حویلیاں موٹروے افتتاح کے وقت کی گئی تقریر نے کیا ۔ ان کی تقریر سے ان کا غصہ اور تکلیف تو بچے بھی سمجھ گئے ہوں گے ۔ اپنی تقریر میں وزیراعظم نے نہ صرف اپوزیشن جماعتوں اور ان کے رہنماءوں کو لتاڑا بلکہ عدالتوں کو بھی نہیں بخشا ۔ ان کی تقریر اور لب و لہجہ سے یہ بالکل نہیں لگا کہ یہ کسی وزیراعظم کا خطاب ہے ۔ بلکہ یوں لگ اکہ وہ کسی کنٹینر پر کھڑے عمران خان ہیں اور ان کا تعلق کسی اپوزیشن جماعت سے ہے ۔ لیکن بہرحال یہ ان کی سوچ ہے اور بولنے کا حق بھی ۔ جو وہ بہتر سمجھتے ہیں لیکن بطور وزیراعطم ان جو جس شائستہ اور نرم لہجہ کو اختیار کرنا چاہیئے وہ نظر نہیں آتا ۔ ان کے خطبات سے لگتا ہے کہ وہ جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں ۔ اس وقت ملکی معیشت زمینی حقائق کے مطابق دگرگوں ہے ۔ حکومت کے ہندسوں اور الفاظ کے ہیر پھیر سے نہ تو مہنگائی کم ہو سکتی ہے نہ عوام کو درپیش مشکلات کا زالہ ہو سکتا ہے ۔ شاید وزیراعظم صاحب زمینی حقائق کو مدنظر رکھنے کے بجائے حکومتی وزیروں اور مشیروں کے اعداد و شمار پر ہی یقین رکھتے ہیں ۔ یہ نہایت خطرناک رجحان ہے ۔ شاید حکومت کو اس کا ابھی ادراک نہیں ہے ۔ مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم ،جی ڈی اے تو شاید سمجھ چکی ہیں لیکن حکومتی پارٹی اور حکومت کو تیزی سے بدلتے حالات کا ابھی اندازہ نہیں ہے ۔ حکومت نے اپنے ہی وزراء پر بے یقینی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ والے دفتروں میں پارلیمانی سیکرٹری بٹھا دیئے ۔ اب بیورو کریسی میں بھی تحریک انصاف والوں کو شامل کرنے کا پروگرام اس طرح ہے کہ ہر وفاقی سیکرٹری کے ساتھ ایک حکومتی نمائیندہ بھی ہوگا ۔ جو اس وزارت سے متعلقہ معاملات کا ماہر ہوگا اور وہ وفاقی سیکرٹری کی معاونت کرے گا ۔ اس اقدام سے کیا ظاہر ہو تا ہے یہ بیورو کریسی سے بہتر کون جانتا ہے ۔ مختصر یہ کہ زمینی حقائق کچھ اور ہیں اور حکومتی دعوے کچھ اور ہیں ۔ حکومت ٹھوس اقدامات کے بجائے غلط مشوروں پر چل رہی ہے ۔ اور روزانہ کی بنیاد پر فیصلے اور یو ٹرن لیئے جا رہے ہیں ۔ کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں ہے ۔ عام آدمی بے روزگاری اور مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے ۔ ہوا اپنا رخ تبدیل کر رہی ہے ۔ لیکن حکومتی مصروفیات کچھ اور ہیں ۔ اور سوچنے سمجھنے کی شاید فرصت نہیں ہے ۔ یا سمجھ آگئی ہے کہ کیا ہونے جا رہا ہے ۔ او ر کیا کرنا ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative